بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

چین کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا پانی بھرنے والا تھا۔ وہ ہر روز دریا سے پانی بھرتا اور گاؤں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے پاس دو بڑے گھڑے تھے، جو ایک لمبی چھڑی کے دونوں سروں پر لٹکائے جاتے تھے۔

ایک گھڑا بالکل ٹھیک تھا۔ اس میں دریا سے لے کر گاؤں تک سارا پانی سلامت رہتا۔

دوسرے گھڑے میں دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ جب بوڑھا پانی بھر کر چلتا تو اس میں سے آدھا پانی راستے میں ٹپک جاتا۔

دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بوڑھا ہر روز پانی بھرتا، دو گھڑے لٹکاتا، اور گھر واپس آتا تو ایک گھڑا بھرا ہوتا، دوسرا آدھا خالی۔

ٹھیک گھڑا اپنے کام پر فخر کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ مکمل ہے، کامل ہے۔

پھٹے ہوئے گھڑے کو بہت شرم آتی۔ وہ اپنی کمزوری پر پچھتانا۔ وہ سوچتا: “میں صرف آدھا پانی لا پاتا ہوں۔ میری وجہ سے بوڑھے کو دو بار جانا پڑتا ہے۔ میں ایک بیکار گھڑا ہوں۔”

ایک دن وہ بوڑھے سے بولا: “مجھے بہت شرم آتی ہے۔ میں پھٹا ہوا ہوں۔ میرا وجود بے کار ہے۔ آپ مجھے پھینک کیوں نہیں دیتے؟”

بوڑھے نے کہا: “کیا تم نے کبھی غور کیا کہ راستے میں تمہاری طرف کیا ہے؟”

پھٹے ہوئے گھڑے نے راستے پر نظر دوڑائی۔ اس نے دیکھا کہ جس طرف سے وہ گزرتا تھا، وہاں پھول کھلے ہوئے تھے۔ خوبصورت، رنگ برنگے پھول۔ دوسری طرف  جہاں سے ٹھیک گھڑا گزرتا تھا  وہاں صرف سوکھی زمین تھی۔

بوڑھے نے کہا: “میں تمہاری دراڑ سے پھوٹنے والے پانی کو جانتا تھا۔ میں نے تمہاری طرف پھولوں کے بیج بو دیے تھے۔ تم نے ہر روز انہیں پانی دیا۔ انہی پھولوں سے میں نے اپنے گھر کو سجایا، اپنی بیٹی کی شادی میں پھول لگائے۔ اگر تم کامل ہوتے تو یہ پھول کبھی نہ کھلتے۔ تمہاری کمزوری ہی تمہاری طاقت بن گئی۔”

سبق

ہم سب میں کوئی نہ کوئی کمزوری ہے۔ لیکن یہ کمزوری اگر صحیح جگہ رکھی جائے تو وہی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ جو آپ کو عیب لگتا ہے، شاید اسی سے دوسروں کی زندگی میں پھول کھلتے ہیں۔

اخلاقی سبق: اپنی کمزوری پر شرمندہ نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تمہاری وہی کمزوری کسی کے لیے رحمت بن رہی ہو۔

حوالہ

یہ کہانی مختلف ثقافتوں میں ملتی ہے۔ اسے اکثر چینی لوک کہانی کہا جاتا ہے، مگر اس کے کئی نسخے ہیں۔ کچھ روایات میں اسے جاپانی قصہ بھی کہا جاتا ہے۔ جدید دور میں اسے ذاتی ترقی کی کتابوں میں بہت استعمال کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner