قابیل و ہابیل اور زمین پر پہلا قتل۔۔۔!

قابیل و ہابیل اور زمین پر پہلا قتل۔۔۔!

حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک کا نام قابیل اور دوسرے کا ہابیل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دونوں اپنی اپنی قربانی پیش کریں۔ ہابیل نے اپنی بہترین بکری قربان کی، جبکہ قابیل نے کم درجے کی چیزیں پیش کیں۔ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کی قبول نہ کی۔

قابیل حسد اور غصے میں ہابیل کو قتل کرنے لگا۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا یہ زمین پر پہلا قتل تھا۔ بعد میں اسے سخت پشیمانی ہوئی، لیکن اس کا قتل اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

اللہ نے اس واقعہ کے ذریعے انسانوں کو سکھایا کہ قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اور کہ ہر انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔

حوالہ جات

قرآن کریم سے:

· سورۃ المائدہ، آیت ۲۷ تا ۳۲
ترجمہ: ”اور انہیں آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ پڑھ کر سنا دیں۔ جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔ اس نے کہا: میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔ اس نے کہا: اللہ تو متقیوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو میرے قتل کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں تیرے قتل کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔“
· سورۃ المائدہ، آیت ۳۲
ترجمہ: ”جس نے کسی انسان کو بغیر قتل یا زمین میں فساد کے قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ اور جس نے کسی کی جان بچائی، گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی۔“

معتبر کتب سے:
یہ واقعہ قرآن میں صراحت کے ساتھ آیا ہے، اس لیے اس کی سند میں کوئی شک نہیں۔ نام ”قابیل“ اور ”ہابیل“ تفاسیر میں مذکور ہیں، لیکن اصل واقعہ قرآن میں بغیر نام کے آیا ہے۔ ہم نے ادب کے تحت صرف وہی ذکر کیا جو قرآن میں صریح ہے۔

اس واقعہ سے اہم سبق

  1. اللہ کی قبولیت کا معیار تقویٰ ہے
    قربانی کا ظاہری ٹھاٹھ نہیں، دل کا اخلاص اور تقویٰ دیکھا جاتا ہے۔
  2. حسد اور غصہ انسان کو تباہ کر دیتا ہے
    قابیل نے حسد کی وجہ سے اپنے بھائی کا قتل کیا۔ یہ پہلا جرم تھا جو زمین پر رونما ہوا۔
  3. مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ظلم کا جواب ظلم سے نہ دے
    ہابیل نے کہا: ”اگر تو مجھے قتل کرنے لگے تو میں تجھے قتل کرنے والا نہیں۔“ یہ صبر اور اللہ پر بھروسے کی اعلیٰ مثال ہے۔
  4. ناپسندیدہ واقعات کو چھپانے کی بجائے سبق کے طور پر بیان کرنا
    اللہ نے خود اس واقعہ کو قرآن میں بیان فرمایا تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔
  5. ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے
    یہ اصول اسلام نے دنیا کو دیا کہ کسی بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner