بہت پرانے زمانے میں بحرین کے ساحل پر ایک غریب ماہی گیر رہتا تھا۔ اس کا نام عبداللہ تھا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی بیوی بیمار تھی، اس کے تین بچے تھے، اور اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اٹھتا، اپنا جال لیتا، سمندر پر جاتا، اور مچھلیاں پکڑتا۔ لیکن اسے کبھی زیادہ مچھلیاں نہیں ملتی تھیں بس اتنی کہ بچوں کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔
ایک دن اس نے جال ڈالا۔ جب اسے کھینچا تو وہ بہت بھاری تھا۔ اس نے سوچا: “آج بہت سی مچھلیاں آئی ہوں گی۔”
اس نے پوری طاقت سے جال کھینچا۔ جال باہر آیا تو اس میں مچھلیاں نہیں تھیں، ایک بند تانبے کا مٹکا تھا۔ مٹکا بہت پرانا تھا، اس پر مہر لگی ہوئی تھی، اور وہ سیسے سے بند تھا۔
عبداللہ نے مٹکا اٹھایا، اسے کھولا، اور اندر دیکھا۔ مٹکے میں سے سفید دھواں نکلا — بہت زیادہ دھواں، اتنا کہ سارا ساحل چھپ گیا۔ پھر وہ دھواں جمع ہوا اور ایک بہت بڑے جن میں بدل گیا۔ اس کا سر آسمان میں تھا، پاؤں زمین پر تھے، آنکھیں آگ کی طرح تھیں، منہ غار جیسا تھا۔
جن نے گرج کر کہا: “عبداللہ! میں نے تمہیں مارنا ہے۔ ایک خواہش مانگ لو، پھر تمہیں موت دوں گا۔”
عبداللہ ڈر گیا، لیکن اس نے ہمت کی۔ اس نے کہا: “تم مجھے کیوں مارو گے؟ میں نے تمہیں قید سے نکالا ہے۔”
جن نے کہا: “سن۔ میں سلیمان علیہ السلام کے زمانے کا جن ہوں۔ میں نے ان کی نافرمانی کی تھی، اس لیے انہوں نے مجھے اس مٹکے میں قید کر دیا اور سمندر میں پھینک دیا۔
پہلے سو سال میں نے قسم کھائی: ‘جو مجھے آزاد کرے گا، میں اسے اتنا سونا دوں گا کہ وہ امیر ہو جائے گا۔’ کوئی نہ آیا۔
اگلے سو سال میں نے کہا: ‘جو مجھے آزاد کرے گا، میں اسے زمین کے سارے خزانے دوں گا۔’ کوئی نہ آیا۔
تیسرے سو سال میں نے کہا: ‘جو مجھے آزاد کرے گا، میں اس کی تین خواہشیں پوری کروں گا۔’ کوئی نہ آیا۔
پھر میں نے غصے میں کہا: ‘جو اب مجھے آزاد کرے گا، میں اسے مار ڈالوں گا۔’ اور تم آ گئے۔ اب اپنی موت تیار کرو۔”
عبداللہ نے کہا: “اے جن! تم نے سیکڑوں سال انتظار کیا، تھوڑی دیر اور انتظار کر لو۔ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔”
جن نے کہا: “بات کیا ہے؟”
عبداللہ نے کہا: “تم نے کہا کہ تم اس مٹکے میں سلیمان علیہ السلام کے زمانے سے بند ہو۔ لیکن یہ مٹکا اتنا چھوٹا ہے کہ تم اس میں سماتے ہی نہیں۔ جھوٹ بولتے ہو۔”
جن نے کہا: “تم نہیں مانتے؟ دیکھ لو!”
وہ پھر دھواں بنا اور مٹکے میں سمٹ گیا۔
عبداللہ نے فوراً مٹکے کا ڈھکن بند کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔
جن اندر سے چلایا: “مجھے نکال دو! میں تمہیں بخش دوں گا!”
عبداللہ نے کہا: “تم نے مجھے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اب میں تمہیں نہیں نکالوں گا۔ تم اسی میں رہو۔”
اس نے مٹکے کو سمندر میں پھینک دیا۔
لیکن پھر اسے دوسرا خیال آیا۔ اس نے سوچا: “اگر میں اسے پھینک دوں گا تو کوئی اور ماہی گیر اسے نکالے گا اور وہ اسے مار ڈالے گا۔ مجھے اسے ایسی جگہ پھینکنا چاہیے جہاں کوئی نہ لا سکے۔”
اس نے مٹکا اٹھایا اور شہر کے باہر ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا۔
وہ گھر آیا تو خالی ہاتھ تھا۔ بیوی نے پوچھا: “مچھلیاں کہاں ہیں؟”
عبداللہ نے ساری کہانی سنائی۔ بیوی ڈر گئی۔ اس نے کہا: “تم نے اپنی جان بچائی، بس یہی بڑی بات ہے۔”
اگلے دن عبداللہ سمندر پر گیا۔ اس نے جال ڈالا تو اس میں بہت سی مچھلیاں آئیں۔ اس نے سوچا: “شاید جن نے مجھے بخش دیا ہے۔”
وہ مچھلیاں لے کر بازار گیا۔ ایک امیر سوداگر نے ساری مچھلیاں خرید لیں اور عبداللہ کو اتنا سونا دیا کہ اس کی ساری زندگی کی کمائی سے زیادہ تھا۔
عبداللہ نے سونے سے اپنی بیوی کا علاج کرایا، بچوں کو کھلایا، نیا گھر بنایا، اور اپنی مچھلی پکڑنے کا کام جاری رکھا۔ لیکن اب وہ ہر روز مچھلیوں کا ایک حصہ غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔
لوگوں نے پوچھا: “عبداللہ! تم اتنا کیوں دیتے ہو؟”
اس نے کہا: “میں نے جن سے سیکھا۔ اس نے سو سال انتظار کیا، سو سال اور انتظار کیا، اور پھر غصے میں اس نے سب کو مار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن میں نے اسے دھوکہ دے کر اپنی جان بچائی۔ اس دن سے میں نے سیکھ لیا — صبر کرو، غصے میں فیصلہ نہ کرو، اور جو ملے اسے بانٹ دو۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:
1. صبر کرو جن نے سو سال انتظار کیا، پھر سو سال، پھر سو سال۔ لیکن آخری سو سال میں اس نے غصے میں فیصلہ کر لیا۔ اگر وہ صبر کرتا تو شاید اسے آزادی مل جاتی۔
2. غصے میں فیصلہ مت کرو جن نے غصے میں کہا کہ جو آزاد کرے گا اسے مار ڈالوں گا۔ اسی غصے کی وجہ سے وہ پھر قید ہو گیا۔
3. عقل سے کام لو عبداللہ نے ڈر کر کام نہیں کیا، اس نے سوچا، چالاکی سے جن کو واپس مٹکے میں بند کیا، اور اپنی جان بچائی۔
حوالہ:
یہ کہانی الف لیلہ و لیلہ (الف لیلیٰ) کی مشہور کہانیوں میں سے ہے — “The Fisherman and the Jinni”۔ یہ عربی ادب کا شاہکار ہے۔ صدیوں سے یہ کہانی دنیا بھر میں پڑھی اور سنائی جاتی رہی ہے۔
