بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!


تھیسالیوں کا پاؤسانیاس نہایت دولت مند اور بااثر حکمران تھا. وہ سکندر کی ماں اولمپیا کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا اس نے چند طاقتور آدمیوں کو بہت سا مال و دولت دے کر اولمپیا کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے فلپ کو چھوڑ کر اس سے شادی کرنے پر آمادہ کریں. اولمپيا راضی نہ ہوئی تو پاؤسانیاس فلپ کو قتل کرنے اور اولمپیا کو حاصل کرنے کے ارادے سے تھیٹر کی طرف چل پڑا. وہ جانتا تھا کہ سکندر جنگی مہم میں مصروف تھا. فلپ اولمپک تھیٹر میں مقابلے دیکھ رہا تھا کہ ہتھیاروں سے مسلح پاؤسانیاس اپنے چند معزز ساتھیوں کے ساتھ وہاں آ دھمکا. وہ تیر کی طرح سیدھا فلپ کے پاس گیا اور تلوار سے اس کے سینے پر وار کیا. فلپ شدید زخمی ہو گیا. تھیٹر میں ہنگامہ برپا ہو گیا. وہاں سے پاؤسانیاس محل کی طرف بھاگا تاکہ اولمپيا کو اپنے قبضے میں لے سکے.
اتفاق سے اسی دن سکندر جنگ سے فاتحانہ واپس لوٹا. شہر میں  شور و غل دیکھ کر اس نے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا کہ پاؤسانیاس محل کی طرف گیا ہے تاکہ اس کی ماں اولمپيا کو پکڑ لے. سکندر فورا” اپنے چند محافظوں کے ساتھ محل پہنچ گیا. اس نے دیکھا کہ پاؤسانیاس اولمپيا کو پکڑے ہوئے ہے اور وہ خود کو چھڑانے کے لئے چیخ رہی ہے. سکندر نے پاؤسانیاس کو مارنے کے لئے نیزہ اٹھایا. پھر اس خیال سے رک گیا کہ کہیں نیزہ اس کی ماں کو نہ لگ جائے کیونکہ دونوں بہت قریب تھے. سکندر نے پہلے پاؤسانیاس کو اپنی ماں سے الگ کیااور پھر اپنے نیزے سے اسے زخمی کر دیا. جب اسے معلوم ہوا کہ فلپ ابھی زندہ ہے، تو وہ اس کے پاس گیا، اور پوچھا،
“اے والد محترم، میں پاؤسانیاس کے ساتھ کیا سلوک کروں؟”
فلپ نے جواب دیا،
“اسے میرے پاس لے آؤ.”
پاؤسانیاس کو فلپ کے سامنے پیش کیا گیا. سکندر نے تلوار فلپ کے ہاتھ میں دی اور پاؤسانیاس کو اس کے روبرو کھڑا کر دیا. فلپ نے ایک ہی وار میں اسے قتل کر دیا. پھر اس نے سکندر سے کہا،
“بیٹے سکندر، مجھے اپنی موت کا غم نہیں، کیونکہ میں نے اپنے دشمن کو ہلاک کر کے اپنا بدلہ لے لیا ہے. لیبیا کے دیوتا آمون کی بات درست ثابت ہوئی. اس نے تمہاری ماں اولمپياسے کہا تھا،
‘تمہارے بطن میں جو بیٹا پرورش پا رہا ہے وہ بڑا ہو کر اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے گا.’”
یہ کہہ کر فلپ نے دم توڑ دیا. اسے شاہی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا. مقدونیہ کے تمام لوگ فلپ کی آخری رسومات میں شریک ہوئے.

سکندر کی پکار اور یونانیوں کی بیداری
جب پیلا شہر میں حالات معمول پر آ گئے تو سکندر اپنے والد فلپ کی یادگار پر گیا اور بلند آواز سے پکارا،
“اے پیلا اور مقدونیہ کے بیٹو، یونانیو، امفکٹيونیو، لاکیدیومونیو، اور کورنتھیو! میری اطاعت کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ ہم مل کر وحشیوں کے خلاف مہم چلائیں اور فارسیوں کی غلامی سے نجات پائیں. یونانیوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ وحشیوں کے غلام بنے رہیں.”
اس اعلان کے بعد اس نے تمام شہروں کی طرف شاہی سفیر روانہ کئے. لوگ گویا کسی خدائی پکار پر لبیک کہتے ہوئے مقدونیہ میں جمع ہونے لگے. سب جنگی تیاریوں میں مصروف ہو گئے. سکندر نے لوہے، کانسی، اور لکڑی کے  کاریگروں کے ساتھ ہر قسم کے ہنرمندوں کو اکٹھا کیا. اس نے کانسی کے کاریگروں کو حکم دیا کہ وہ زریں، تلواریں,، نیزے، برچھیاں، اور خنجر تیار کریں. اس نے بڑھئیوں کو حکم دیا کہ وہ ڈھالیں، تیر، اور نیزوں کے دستے بنائیں. سکندر نے اپنے والد کا اسلحہ خانہ کھول دیا اور نوجوانوں میں ہتھیار اور زریں تقسیم کر دیں. پھر اس نے اپنے والد کے عمر رسید جرنیلوں اور سپاہیوں کو جمع کیا اور ان سے کہا،
“اے معزز بزرگو اور بہادر سپاہیو! کیا آپ مقدونیہ کی فوج میں شامل ہو کر محاذ جنگ پر جانے کی زحمت گوارا کریں گے؟”
انہوں نے جواب دیا،
“اے بادشاہ سکندر! ہم نے اپنی جوانی میں آپ کے والد بادشاہ فلپ کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں، مگر اب ہمارے جسم لڑائی کے قابل نہیں رہے. ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں فوجی خدمات سے معاف کر دیں.”
سکندر نے کہا،
“میں تو چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں. آپ بے شک بزرگ ہیں لیکن آپ کی بزرگی جوانی سے زیادہ پختہ ہے. اکثر نوجوان اپنی جسمانی طاقت پر بھروسا کر کے جلدبازی کرتے اور خطرات میں کود پڑتے ہیں. ان کے برعکس ایک بزرگ انسان ہر عمل سے پہلے خوب غور و فکر  کرتا اور یوں وہ خطرے سے بچ جاتا ہے. لہذا اے بزرگو! ہمارے ساتھ جنگی مہم میں شرکت کرو. آپ کا کام دشمن سے لڑنا نہیں بلکہ نوجوانوں کی رہنمائی کرنا اور انہیں حوصلہ دینا ہے. فوج میں بزرگوں اور نوجوانوں دونوں کا کردار اہم ہے. آپ کا کام تجربے اور تدبر کے ذریعے فوج کو مضبوط کرنا ہے. جنگ میں عقل طاقت سے زیادہ ضروری ہے. ملک و قوم کے ساتھ آپ کی اپنی سلامتی بھی ہماری فتح پر منحصر ہے. اگر ہم ہار گئے تو دشمن نوجوانوں کے ساتھ بوڑھوں اور کمزوروں کو بھی نہیں بخشے گا. ہم جیت گئے تو فتح کا سہرا آپ جیسے بزرگ مشیروں کی دانائی کو دیا جائے گا.”
اپنی باتوں سے سکندر نے تمام عمر رسیدہ جرنیلوں اور سپاہیوں کو بھی اپنی مہم میں شامل ہونے پر آمادہ کر لیا.

سکندر کی بادشاہت اور فوجی قوت
اپنے والد فلپ کی موت کے بعد سکندر نے اٹھارہ برس کی عمر میں بادشاہت سنبھالی. فلپ کی موت سے پیدا ہونے والے انتشار کو ایک ذہین و فطین مشیر انتی پاتر نے اس طرح ختم کیا کہ وہ سکندر کو زرہ پہنا کر تھیٹر میں لے گیا اور ایک طویل تقریر کے ذریعے مقدونیوں کے دلوں میں سکندر کے لئے اعتماد اور محبت پیدا کر دی. سکندر اپنے والد فلپ سے زیادہ خوش قسمت نکلا. اس نے اپنے والد کے تمام سپاہیوں کو جمع کیا اور ان کی گنتی کی. ان میں 20,000 آدمی، 8,000 زرہ پوش سوار، 15,000 پیادے، 5,000 تھریسی باشندے، اور 30,000 امفکٹيونی، لاکیدیومونی، کورنتھی، اور تھیسالی، اور  6,950 تیر انداز تھے.  کل تعداد ستر ہزار سے زیادہ تھی.

تھیسالونیکا کی اطاعت
سکندر اپنی سپاہ کے ساتھ تیزی سے تھیسالونیکا کی طرف بڑھا. وہاں کے حکمران نے خوفزدہ ہو کر صلح کے لئے اپنے سفیر بھیجے. وہ اپنے ساتھ سونا چاندی اور حکمران کا  بیٹا بھی لائے. اس نے ایک خط بھی بھیجا، جس کا متن یہ تھا،
“پولیکراتوس، ایک عاجز درخواست گزار، دنیا کے حکمران اور خدائی صفات کے حامل سکندر کو سلام پیش کرتا ہے. چونکہ تقدیر کے لیے کوئی چیز ناممکن نہیں، اس لیے ہمیں لازماً اپنے تمام معاملات قسمت کے حوالے کرنے چاہئیں. ہم جانتے ہیں کہ آپ خدائی عنایت کے باعث ہمارے سب سے برتر بادشاہ ہیں. قسمت نے آپ کی ہر خواہش کو آسانی سے پورا کر دیا ہے. لہٰذا زمین پر بسنے والے سب لوگوں کو، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں، غلاموں کی طرح آپ کی طاقت کے آگے سر جھکانا چاہیے. میں آپ کی فتوحات سے خوب واقف ہوں. اس لئے میں نے یہ عاجزانہ خط آپ کی خدمت میں اپنی اطاعت ظاہر کرنے کے لئے لکھا ہے. اپنی فرمانبرداری کے ثبوت کے طور پر میں نے اپنا اکلوتا بیٹا آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور ساتھ ہی چند حقیر  تحائف بھی. امید ہے آپ میری اس عاجزانہ درخواست کو شرف قبولیت بخشیں گے. اے میرے آقا!  آپ جیساچاہیں ہمارے ساتھ سلوک کریں. خدا حافظ.”
سکندر نے خط پڑھنے کے بعد پولیکراتوس کی درخواست قبول کر لی، اس کے سفیروں کے ساتھ حسن سلوک کیا، اور جواب میں لکھا،
“تمہاری بات درست ہے. ہماری حکمرانی خدائی تقدیر کا عطیہ ہے. انسان کو قسمت کے آگے سر جھکانا چاہیے. میں ہمیشہ تقدیر کا وفادار رہا ہوں. اب تم نے اپنے خط میں عاجزانہ انداز اختیار کرکے اور اپنے بیٹے کو بھیج کر میرے دل میں نرم گوشہ پیدا کر دیا اور اپنے باپ اناکزارخوس کے غرور کو مٹا دیا ہے. میں تمہارے تحفوں سے نہیں بلکہ تمہاری عاجزی سے متاثر ہوا ہوں. تمہارا بیٹا خاریمیدیس ہمارے پاس تمہاری نیک نیتی کی یادگار رہے گا. خدا حافظ.”

سکیتھیا کی فرمانبرادری
تھیسالونیکا کو مطیع کرنے کے بعد سکندر نے سکیتھیوں کے خلاف مہم کا ارادہ کیا. تین دن کے سفر کے بعد سکیتھیا سے سفیر آئے. انہوں نے سکندر کے اطاعت قبول کر لی اور اس سے درخواست کی کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے. سکندر نے ان سے کہا،
“اپنے ملک واپس جاؤ اور جتنے ماہر تیر انداز اکٹھے کر سکو ساٹھ دن کے اندر میرے پاس بھیج دو. میں لاکیدیومونیوں کی سرکوبی کے لئے جا رہا ہوں. اگر تمہارے تیرانداز ساٹھ دن کے اندرمیرے پاس نہ آئے تو میں تمہارے خلاف لشکرکشی کروں گا.”
سکیتھیوں نے سکندر کے حکم  کی تعمیل کا وعدہ کیا. سکندر نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے انہیں رخصت کیا.

یونانی بغاوت اور تھیبز کی تباہی
سکندر نے لاکیدیومونیوں کے خلاف مارچ شروع کیا. جب لاکیدیومونیوں کو سکندر کی پیش قدمی کی خبر ملی تو ان میں خوف و ہراس پھیل گیا. ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں. مختلف شہروں کے رہنما دارالحکومت ایتھنز میں اکٹھے ہوئے. یونان کی تقدیر اب ان بارہ سرکردہ رہنماؤں کے ہاتھوں میں تھی. وہ تین دن تک بحث مباحثہ کرتے رہے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ کر سکے. کچھ سکندر سے جنگ کرنے کے حق میں تھے اور کچھ سکندر کی اطاعت قبول کرنے پر زور دے رہے تھے. آخرکار انہوں نے سکندر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا. دیو جانس نے اس فیصلے کی مخالفت کی. اس نے کہا،
“ہم سکندر کے خلاف فتح کی امید کیسے رکھتے ہیں؟ کیا سکندر کے آگے جھکنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی ہے؟”
انتیستھینیز اور پارمینیڈیز کے حامیوں نے جواب دیا،
“اپنے آباؤ اجداد کی داستان مت بھولو. جب دیونیسس نے پورے ملک کو زیر کرنے کے بعد ہمارے شہر پر حملہ کیا تو ایتھنز کے لوگوں نے اس کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور اسے شکست فاش دی. دیونیسس کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا. سکندر یقیناً دیونیسس سے زیادہ طاقتور نہیں ہے.”
یہ سن کر دیو جانس آگے بڑھا اور کہا،
“مجھے بتاؤ، اس وقت کون تھیبز کا ہیروتھا اور شہر کے جرنیل کون تھے؟”
انہوں نے جواب دیا،
“ان کا ہیرو اتریوس تھا اور ان کے جرنیلوں میں فقیدالمثال جرنیل ہیلوس بھی  شامل تھا جو کہ لاکیدیومونیوں کا پہلا بادشاہ تھا.
دیو جانس ہنس پڑا اور بولا،
“اگر تم ہیلوس کو اپنی طرف کر لو تو میں تمہیں سکندر کے خلاف لڑنے کا مشورہ دوں گا. لیکن اگر تم ایسا نہ کر سکے تو سکندر سے لڑنا بے سود ہے. لڑائی کے نتیجے میں تھیبز  تباہ ہو جائے گا.”
یہ کہہ کر دیو جانس وہاں سے رخصت ہو گیا. اس کی باتوں کا رہنماؤں پر کوئی اثر نہ ہوا. انہوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی.
سکندر ایتھنز پہنچا اور اس نے اپنی فوجوں کی صف بندی شروع کر دی. جب سکندر نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا تو وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے اور اس کے قاصدوں کو ذلیل کرکے واپس بھیج دیا. سکندر پیچھے ہٹ گیا اور کہا،
“اگر تم نے آخری وقت میں اپنا فیصلہ بدلا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.”
سکندر نے ایتھنز کے قریب اپنا کیمپ لگایا اور سکیتھی اتحادیوں کے آنے کا انتظار کرنے لگا. چند دن بعد زرہوں میں ملبوس متوقع فوج پہنچ گئی. یہ فوج سفید زرہ دار ڈھالوں، تیر و ترکش، خنجروں، اور نیزوں سے مسلح تھی. سکندر نے فوج کا معائنہ کیا تو تعداد اسی ہزار نکلی. اس نے ایتھنز کے خلاف پیش قدمی کرکے شہر کا محاصرہ کر لیا. تیر انداز بے شمار تھے اور ان کے برسائے ہوئے تیروں نے سورج کو ڈھانپ لیا.
ایتھنز کو مغلوب کرنے کے بعد سکندر نے سرکش ایلیریائیوں، پیونیائیوں اور ٹرائبیلیائیوں کی بغاوت کچلنے کے لئے بھی مہم چلائی. اس مہم کے دوران یونان میں افواہ پھیل گئی کہ مقدونیہ کا بادشاہ سکندر مر گیا ہے. ڈیموستھینیز ایک زخمی شخص کو ایتھنز کی مجلس میں لے آیا. اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے سکندر کو مرتے دیکھا ہے. جب تھیبز کے لوگوں نے یہ سنا تو انہوں نے اس فوجی دستے کو قتل کر دیا جو فلپ نے جنگِ کیرونیا کے بعد کیڈمیا میں تعینات کیا تھا. کہا جاتا ہے کہ ڈیموستھینیز نے انہیں ایساکرنے پر اکسایا تھا.
سکندر اس صورت حال پر انتہائی غضبناک ہوا اور تھیبز کے خلاف لشکر کشی کی. آنے والی تباہی کی نشانیاں پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھیں. ایک مکڑی نے دیوی دیمیٹر کے مندر کو اپنے جال میں لپیٹ لیا تھا اور درسے نامی چشمے کا پانی خون کی طرح سرخ ہو گیا تھا. سکندر نے شہر پر قبضہ کیا اور اسے تباہ و برباد کر دیا. صرف شاعر پنڈار کا گھر سلامت رکھا. اس نے تھیبز کے موسیقار اسمنیاس کو حکم دیا کہ وہ شہر کی مسماری کے دوران بانسری بجاتا رہے. یونانی خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے سکندر کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا.

دیو جانس سے ملاقات
جنگ کے بعد سکندر نذرانے دیکھنے گیا. اس نے دیو جانس کو دھوپ میں بیٹھا دیکھا اور پوچھا،
“تم کون ہو؟”
آس پاس موجود لوگوں نے جواب دیا،
“اے بادشاہ، یہ فلسفی دیو جانس ہے، جو اکثر ایتھنز والوں کو آپ کے خلاف جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیتا تھا.
یہ سن کر سکندر اس کے پاس گیا. صبح کا وقت تھا اور وہ اپنے پیپے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا. سکندر نے کہا،
“دیو جانس، میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”
دیو جانس نے شان بے نیازی سے جواب دیا،
“بس ایک طرف ہٹ جاؤ تاکہ میں دھوپ سے لطف اندوز ہو سکوں.”
دیو جانس کی مادی چیزوں سے بے نیازی لوگوں کو حیران کر دیتی تھی.

ایشیا کی طرف پیش قدمی
سکندر مقدونیہ واپس آیا اور ایشیا پر حملے کی تیاری شروع کر دی. اس نے بحری بیڑے تیار کئے، فوج کو ساز و سامان سمیت جہازوں پر سوار کیا، اور  پچاس ہزار ٹیلنٹ سونا لے کر تھریس کی طرف روانہ ہوا. وہاں پہنچ کر اس نے پانچ ہزار آدمیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیا اور پانچ سو ٹیلنٹ سونا حاصل کیا. راستے میں آنے والے تمام شہروں نے اس کا استقبال پھولوں کے ہاروں سے کیا.
سکندر ہیلیسپونٹ پہنچ کر بحری جہاز میں سوار ہوا اور یورپ سے ایشیا کا رخ کیا. اس نے زمین میں اپنا نیزہ گاڑ کر ایشیا کو اپنی فتح شدہ سرزمین قرار دیا. وہاں سے وہ دریائے گرانیکس کی طرف بڑھا جہاں دارا کے صوبے داروں کو سخت معرکے کے بعد شکست دی. اس نے فارسیوں سے حاصل کردہ مالِ غنیمت ایتھنز والوں اور اپنی ماں اولمپيا کو بھیجا. اس نے ساحلی شہر آیونیا، کاریا، لیڈیا، اور ساردیس فتح کرکے ان کے خزانے لوٹے. پھر اس نے فریجیا، لیشیا، اور پامفیلیا کو زیر کیا. آخری معرکے میں ایک معجزہ پیش آیا. سکندر کے پاس جہاز نہ تھے. سمندر  پیچھے ہٹ گیا تاکہ اس کی فوج پیدل گزر سکے.
آخرکار سکندر اس مقام پر پہنچا جہاں اس کا بحری بیڑا موجود تھا. اب اس کی منزل سسلی تھا. اپنے مخالفین کو شکست دے کر وہ اٹلی کی سرزمین پر اتر گیا. رومی جرنیلوں نے اپنے ایک سردار مارکس کے ذریعے اسے موتیوں اور قیمتی پتھروں کا تاج اس  پیغام کے ساتھ بطور تحفہ بھیجا،
“اے سکندر! یہ تاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں. حقیقت میں آپ ہم رومیوں کے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے بادشاہ ہیں.”
رومیوں نے پانچ سو پاؤنڈ سونا بھی سکندر کی نذر کیا.
سکندر نے ان کے تحفے قبول کئے اور وعدہ کیا کہ وہ انہیں عظمت و طاقت بخشے گا. اس نے رومیوں سے دو ہزار تیر انداز اور چار سو ٹیلنٹ بھی حاصل کئے.

Leave a Reply

NZ's Corner