موت کی کھائی میں چھلانگ اور چنگیز خان کا خراجِ تحسین: تاریخ کا سب سے نڈر اور تنہا جنگجو
1221ء کی ایک خونی دوپہر… دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہریں اور اس کے کنارے پر کھڑی دنیا کی سب سے خوفناک اور سفاک فوج۔ چنگیز خان کے منگولوں نے ایک تنہا جنگجو کو تین طرف سے گھیر رکھا تھا۔ پیچھے خونخوار دشمن اور آگے موت جیسی گہری کھائی اور دریا۔ اس جنگجو کے تمام ساتھی مارے جا چکے تھے اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس نے خون میں لت پت اپنی تلوار نیام میں ڈالی، اپنی ڈھال کو پیٹھ پر باندھا، اور اپنے تھکے ہوئے گھوڑے کو ایڑ لگا کر درجنوں فٹ اونچی چٹان سے دریائے سندھ کی بپھری ہوئی موجوں میں چھلانگ لگا دی۔
چنگیز خان، جس کے نام سے آدھی دنیا کانپتی تھی، یہ منظر دیکھ کر حیرت سے اپنے گھوڑے سے اترا۔ اس نے فوراً اپنے تیر اندازوں کو تیر چلانے سے روک دیا اور دریا کی خوفناک لہروں کا سینہ چیر کر دوسرے کنارے پر زندہ پہنچنے والے اس تنہا شخص کی طرف اشارہ کر کے اپنے بیٹوں سے کہا:
“ایک باپ کی اولاد ہو تو ایسی ہو! جو انسان اس بھنور سے زندہ نکل آیا ہے، وہ دنیا میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔”
یہ خوارزم شاہی سلطنت کے آخری اور تاریخ کے سب سے بہادر، لیکن بدقسمت حکمران سلطان جلال الدین منگبرنی (Jalal ad-Din Mangburni) کی سچی داستان ہے، جس نے اس وقت منگولوں کو للکارا جب بڑے بڑے بادشاہ ان کے خوف سے قلعے چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔
بزدل باپ کا نڈر بیٹا
جلال الدین کے والد، سلطان علاؤالدین محمد خوارزم شاہ کی ایک غلطی (منگول سفیروں اور تاجروں کے قتل) نے چنگیز خان کے غضب کو دعوت دی تھی۔ جب منگولوں کا طوفان آیا تو علاؤالدین اپنی لاکھوں کی فوج ہونے کے باوجود ڈر کر بھاگ نکلا اور ایک گمنام جزیرے پر کسمپرسی کی موت مرا۔ لیکن جلال الدین اپنے باپ کی طرح بزدل نہیں تھا۔ اس نے بکھری ہوئی فوج کو اکٹھا کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ آخری سانس تک اپنی زمین اور عزت کے لیے لڑے گا۔
پروان کا معرکہ: منگولوں کا غرور خاک میں مل گیا
جلال الدین نے افغانستان کے علاقے ‘پروان’ (Parwan) کے مقام پر منگول فوج کا سامنا کیا۔ چنگیز خان نے اپنے سب سے بہترین جرنیل ‘شیگی قوتوقو’ کو بھیجا تھا۔ اس جنگ میں جلال الدین نے اپنی شاندار عسکری حکمتِ عملی سے منگولوں کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ ان کی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی مسلم یا غیر مسلم فوج نے منگولوں کو اتنی بڑی شکست دی تھی، جس سے یہ طلسم ٹوٹ گیا کہ منگول ناقابلِ شکست ہیں۔
اپنوں کی غداری اور دریائے سندھ کا المیہ
پروان کی شاندار فتح کے بعد جلال الدین کے دو اہم جرنیلوں کے درمیان مالِ غنیمت (ایک گھوڑے) پر جھگڑا ہو گیا۔ اس احمقانہ جھگڑے کی وجہ سے جلال الدین کی آدھی فوج اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ یہ خبر سنتے ہی چنگیز خان خود ایک عظیم الشان فوج لے کر اس کے پیچھے نکلا اور اسے دریائے سندھ (موجودہ کالا باغ، پاکستان کے قریب) گھیر لیا۔
یہ تاریخ کی دردناک ترین جنگ تھی۔ جلال الدین کی ماں اور بیویاں منگولوں کے ہاتھ لگنے کے خوف سے دریا میں کود کر جان دے چکیں (یا کچھ روایات کے مطابق سلطان نے خود ان کی عزت بچانے کے لیے انہیں دریا کے حوالے کیا)۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا تو جلال الدین نے وہ تاریخی چھلانگ لگائی جس کا ذکر آغاز میں کیا گیا ہے۔
راکھ سے دوبارہ اٹھنے والا طوفان
دریائے سندھ پار کرنے کے بعد جلال الدین نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہندوستان (دہلی) آیا، لیکن سلطان التتمش نے چنگیز خان کے خوف سے اسے پناہ دینے سے معذرت کر لی۔ جلال الدین نے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں اپنی طاقت بنائی، اور پھر واپس ایران، جارجیا (Georgia) اور آرمینیا کے علاقوں میں جا کر اپنی سلطنت دوبارہ کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ وہ اگلے 10 سال تک کبھی منگولوں سے، کبھی صلیبیوں سے اور کبھی سلجوقیوں سے تنِ تنہا لڑتا رہا۔ وہ ایک ایسے شیر کی طرح ہو گیا تھا جسے ہر طرف سے کتوں نے گھیر رکھا ہو۔
ایک المناک اور گمنام موت
مسلسل جنگوں اور اپنوں کی بے وفائی نے جلال الدین کو تھکا دیا تھا۔ 1231ء میں، جب وہ منگولوں کے ایک اچانک حملے سے بچ کر کردستان (Kurdistan) کے پہاڑوں میں اکیلا پناہ لیے ہوئے تھا، تو سوتے ہوئے اسے ایک نامعلوم اور لالچی کرد خانہ بدوش نے (محض اس کا گھوڑا اور ہتھیار لوٹنے یا پرانی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے) خنجر مار کر شہید کر دیا۔
تاریخی سبق: جلال الدین منگبرنی اپنی سلطنت تو نہ بچا سکا، لیکن اس نے تاریخ میں یہ ثابت کر دیا کہ شکست کھا جانا شرم کی بات نہیں، لیکن لڑے بغیر ہار مان لینا سب سے بڑی بزدلی ہے۔ وہ تاریخِ اسلام کا وہ “Lone Wolf” تھا جسے دنیا کا سب سے بڑا فاتح (چنگیز خان) بھی شکست دینے کے باوجود دل سے سلام کرنے پر مجبور ہو گیا۔
