بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

1528ء کا ایک شاہی دسترخوان… ہندوستان کا بانی اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اپنے امراء کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دسترخوان پر بیٹھے ایک معمولی افغان فوجی پر پڑی۔ اس فوجی کے سامنے جب ایک ثابت اور سخت گوشت کا ٹکڑا رکھا گیا، تو اس نے پریشان ہونے کے بجائے انتہائی بے نیازی سے اپنا خنجر نکالا، گوشت کے ٹکڑے کیے اور سکون سے کھانے لگا۔ بابر، جو چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا، فوراً چونک اٹھا۔ اس نے اپنے وزیر خلیفہ سید نظام الدین کو قریب بلا کر سرگوشی کی:

“اس افغان پر کڑی نظر رکھنا، مجھے اس کی پیشانی پر بادشاہت کے آثار اور آنکھوں میں ایک طوفان نظر آ رہا ہے۔”

بابر کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو نہ صرف شکست دی، بلکہ اسے ہندوستان سے جوتے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے محض 5 سال حکومت کی، لیکن ان 5 سالوں میں ہندوستان کا وہ نقشہ بدل دیا جو بڑے بڑے بادشاہ 50 سال میں نہ کر سکے۔

یہ داستان ہے ایک ایسے لڑکے کی جو کبھی اپنے باپ کی توجہ کو ترستا تھا، لیکن اپنی تلوار اور عقل کے زور پر تاریخ کا عظیم ‘شیر شاہ سوری’ بنا۔

فرید خان سے ‘شیر خان’ بننے کا خونی سفر
شیر شاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ وہ بہار کے ایک چھوٹے سے جاگیردار کا بیٹا تھا، لیکن اس کی سوتیلی ماں اس سے شدید نفرت کرتی تھی جس کی وجہ سے اس کا باپ بھی اسے نظر انداز کرتا تھا۔ گھر سے مایوس ہو کر فرید خان نے جوانی میں ہی تلوار اور علم سے دوستی کر لی۔

اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ تب آیا جب وہ بہار کے حکمران بہار خان لوہانی کی ملازمت میں تھا۔ ایک دن شکار کے دوران ایک خونخوار اور دیوہیکل شیر نے اچانک حکمران پر حملہ کر دیا۔ جب سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، تو نوجوان فرید خان آگے بڑھا اور اپنی تلوار کے ایک ہی بھرپور وار سے اس شیر کو بیچ سے چیر کر رکھ دیا۔ اس کی اس دہشت ناک بہادری پر اسے “شیر خان” کا خطاب دیا گیا، اور یہی نام بعد میں اس کی پہچان بنا۔

مغل کیمپ میں جاسوسی اور ہمایوں کی دربدری
شیر خان صرف ایک طاقتور جنگجو نہیں تھا، بلکہ تاریخ کا ایک انتہائی شاطر دماغ تھا۔ اس نے جان بوجھ کر کچھ عرصہ بابر کی مغل فوج میں شمولیت اختیار کی تاکہ وہ ان کے جنگی طریقے، توپ خانے کا استعمال اور ان کی کمزوریاں سیکھ سکے۔ جب اس نے سب کچھ سیکھ لیا تو خاموشی سے الگ ہو کر اپنی افغان فوج بنانا شروع کر دی۔

بابر کی موت کے بعد جب ہمایوں تخت پر بیٹھا تو شیر خان نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ چوسا (1539ء) اور قنوج (1540ء) کے تاریخی میدانوں میں شیر خان نے مغل فوج کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ شہنشاہ ہمایوں کو اپنی جان بچانے کے لیے گھوڑے سمیت دریائے گنگا میں چھلانگ لگانی پڑی اور ایک نظام سقے (پانی پلانے والے) نے اس کی جان بچائی۔ ہمایوں ہندوستان چھوڑ کر ایران بھاگ گیا اور شیر خان دہلی کے تخت پر ‘شیر شاہ سوری’ کے نام سے براجمان ہوا۔

5 سالہ معجزہ: وہ کام جو آج بھی زندہ ہیں
شیر شاہ نے 1540ء سے 1545ء تک صرف پانچ سال حکومت کی، لیکن اس کی اصلاحات آج بھی برصغیر کے نظام کا حصہ ہیں:

روپے کا آغاز: آج پاکستان، بھارت، نیپال اور سری لنکا میں جو کرنسی ‘روپیہ’ (Rupee) کہلاتی ہے، یہ پہلی بار شیر شاہ سوری نے ہی متعارف کروائی تھی۔ اس نے چاندی کا ایک خالص سکہ جاری کیا جس نے معیشت میں انقلاب لا دیا۔

جرنیلی سڑک (Grand Trunk Road): اس نے کابل سے لے کر چٹاگانگ (بنگلہ دیش) تک 2500 کلومیٹر طویل ایک شاندار سڑک تعمیر کروائی جسے آج ہم جی ٹی روڈ (GT Road) کہتے ہیں۔ ہر چند کوس پر سرائے، مسجد، کنواں اور ڈاک چوکیاں بنوائیں۔

بے رحم انصاف: شیر شاہ کا انصاف اتنا سخت تھا کہ تاریخ دان لکھتے ہیں: “اس کے دور میں ایک بوڑھی عورت بھی سونے کا ٹوکرا سر پر رکھ کر رات کے اندھیرے میں سفر کر سکتی تھی اور کسی ڈاکو کی جرات نہیں تھی کہ اسے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔”

کالنجر کا قلعہ اور آخری مسکراہٹ
موت کے فرشتے نے بھی اس عظیم فاتح کو میدانِ جنگ میں ہی چوما۔ 1545ء میں وہ کالنجر کے ناقابلِ تسخیر قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ جنگ کے دوران ایک بارود کا گولہ قلعے کی دیوار سے ٹکرا کر واپس اس کے بارود کے ذخیرے میں آ گرا جہاں وہ خود کھڑا تھا۔

ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور شیر شاہ شدید جھلس گیا۔ اس کا جسم کوئلہ بن چکا تھا لیکن اس کی جان نہیں نکل رہی تھی۔ وہ شدید تکلیف میں خیمے میں پڑا تھا، یہاں تک کہ شام کے وقت اس کے جرنیلوں نے آ کر خبر دی کہ: “بادشاہ سلامت! قلعہ فتح ہو گیا ہے۔” یہ سنتے ہی اس جلے ہوئے اور درد سے کراہتے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری، اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

شیر شاہ سوری محض ایک بادشاہ نہیں تھا، بلکہ ایک چلتی پھرتی اکیڈمی تھا جس نے دنیا کو سکھایا کہ حکمرانی نسل سے نہیں، قابلیت اور انصاف سے کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner