مصنوعی چاند

مصنوعی چاند

یہ آٹھویں صدی عیسوی کا زمانہ تھا
جب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی، علم، تہذیب اور طاقت اپنے شباب پر تھے۔
مگر اسی روشن دور میں ایک ایسا شخص بھی ابھرا جس نے اپنی ذہانت کو روشنی نہیں، بلکہ فریب کے لیے استعمال کیا۔

اس کا نام ہاشم تھا،
مگر تاریخ اسے مقنع خراسانی کے نام سے جانتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ خراسان کے ایک معمولی گاؤں میں ایک دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔
لیکن اس کی ذہانت غیر معمولی تھی خاص طور پر کیمیا اور دھاتوں کے علوم میں۔

یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس کی کہانی خطرناک رخ اختیار کرتی ہے۔

ابتدا میں اس نے لوگوں کو حیران کرنا شروع کیا۔
کبھی کیمیا کے تجربات، کبھی عجیب و غریب کرتب،
اور پھر اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو ہلا دیا:

“میں عام انسان نہیں، میں ایک برگزیدہ ہستی ہوں!”

رفتہ رفتہ اس نے خود کو ایک نبی کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔

لیکن اس کا سب سے بڑا ہتھیار کیا تھا؟

ایک “معجزہ”
ایک مصنوعی چاند۔

رات کے اندھیرے میں، وہ ایک خاص ترکیب سے تیار کردہ روشنی کو ایک کنویں یا مخصوص جگہ کے اوپر ظاہر کرتا،
اور وہ چاند کی طرح چمکنے لگتی۔

سادہ لوح لوگ، جو پہلے ہی اس کی باتوں سے متاثر تھے،
اس “چاند” کو دیکھ کر یقین کرنے لگے کہ وہ واقعی کوئی غیر معمولی ہستی ہے۔

کچھ نے اسے نبی مان لیا
اور کچھ نے اس سے بھی بڑھ کر، اسے الوہیت کا درجہ دے دیا۔

یہ صرف عقیدے کا فریب نہیں تھا
یہ ایک سماجی اور سیاسی بغاوت بن چکا تھا۔

لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگے،
اس نے ایک گروہ بنایا، ایک طاقت کھڑی کی،
اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک منظم بغاوت کی شکل اختیار کر لی۔

جب اس کی خبر عباسی خلیفہ المہدی تک پہنچی،
تو یہ محض ایک شخص کا مسئلہ نہیں رہا
یہ ریاست اور عقیدے دونوں کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔

چنانچہ ایک بڑی فوج اس کے خلاف بھیجی گئی۔

جنگیں ہوئیں
مہینوں نہیں، بلکہ برسوں تک کشمکش جاری رہی۔

آخرکار اس کے قلعے کا گھیراؤ کر لیا گیا۔
اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

جب اسے یقین ہو گیا کہ شکست ناگزیر ہے،
تو اس نے ایک آخری قدم اٹھایا۔

کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے قریبی ساتھیوں کو زہر دیا،
اور خود بھی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
پھر اپنے جسم کو آگ کے حوالے کر دیا،
تاکہ اس کی حقیقت دنیا کے سامنے نہ آ سکے۔

اور یوں
وہ “مصنوعی چاند” بھی ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

سبق کیا ہے؟

یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں
یہ ایک اصول کی کہانی ہے:

ذہانت اگر ہدایت کے بغیر ہو، تو وہ تباہی بن جاتی ہے

فریب وقتی طور پر چمک سکتا ہے، مگر ہمیشہ قائم نہیں رہتا

اور سچائی، چاہے دیر سے ہی سہی، مگر غالب آ کر رہتی ہے

سب سے اہم بات کہ:
ہر چمکنے والی چیز چاند نہیں ہوتی
اور ہر “معجزہ” حقیقت نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner