بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کوریا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ بڑے بھائی کا نام نولبو تھا اور چھوٹے کا نام ہیونگبو۔ نولبو بہت امیر تھا۔ اس کے پاس بڑے بڑے کھیت تھے، موٹی موٹی گائیں تھیں، اور اس کا گھر ایک محل کی طرح تھا۔ لیکن اس کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی کے لیے کوئی محبت نہ تھی۔ وہ ہیونگبو سے حسد کرتا تھا۔

دوسری طرف ہیونگبو بہت غریب تھا۔ وہ اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کے پاس نہ تو کھیت تھے، نہ مویشی، اور نہ ہی پیسے۔ لیکن اس کے پاس ایک بہت بڑی دولت تھی۔ ایک نیک دل۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا، پرندوں کو دانہ ڈالتا، اور کبھی کسی سے بدگمانی نہیں کرتا تھا۔

ایک دن ہیونگبو کی بیوی نے اس سے کہا، “میاں! ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ تم اپنے بڑے بھائی کے پاس جا کر کچھ مانگ کیوں نہیں لاتے؟”

ہیونگبو کو یہ کرنا بہت شرم کا باعث لگا، لیکن بچوں کی بھوک دیکھ کر وہ اپنے بھائی کے پاس چلا گیا۔ جب اس نے نولبو کے دروازے پر دستک دی تو نولبو باہر آیا اور اسے دیکھ کر بولا، “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اپنے گھر کی طرف بھاگو ورنہ میں تمہیں کتوں سے کٹوا دوں گا!”

ہیونگبو نے عاجزی سے کہا، “بھائی، میرے بچے بھوکے ہیں۔ ذرا کچھ دانے دے دو۔”

نولبو نے اسے دھکا دے کر دروازے سے باہر نکال دیا اور دروازہ بند کر لیا۔ ہیونگبو خالی ہاتھ واپس لوٹا اور اپنی بیوی کو بتایا کہ کیا ہوا۔ بیوی رونے لگی، لیکن ہیونگبو نے کہا، “فکر مت کرو، خدا بھلے لوگوں کا ساتھ دیتا ہے۔”

چند روز بعد ہیونگبو اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اسے ایک زخمی نگل (ایک قسم کا پرندہ) ملا۔ نگل کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ ہیونگبو نے اسے اٹھایا، اپنے گھر لے گیا، اور اس کی ٹانگ پر لکڑی کا ٹکڑا باندھ کر پٹی کر دی۔ اس نے نگل کو اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور پانی پلایا۔

کچھ ہی دنوں میں نگل ٹھیک ہو گیا۔ ایک دن وہ اڑ کر آسمان کی طرف چلا گیا، لیکن جانے سے پہلے اس نے ہیونگبو کے آنگن میں ایک کدو کا بیج گرا دیا۔ ہیونگبو نے وہ بیج اٹھایا اور اپنے کھیت میں بو دیا۔

کچھ مہینوں بعد کدو کا پودا اگ آیا اور اس پر بہت بڑے بڑے کدو لگے۔ جب ہیونگبو نے ان کدو کو توڑا تو اس کے اندر سے سونے کے سکے، موتی اور قیمتی جواہرات نکلے۔ ہیونگبو ایک راتوں رات امیر ہو گیا۔ اس نے اپنا گھر ٹھیک کروایا، اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدا، اور جو کچھ بچا وہ غریبوں میں تقسیم کر دیا۔

جب نولبو کو یہ خبر ملی تو وہ جلن سے پاگل ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ایسا کرے گا تو وہ بھی امیر ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ خود ایک نگل کو ڈھونڈنے نکلا۔ اس نے ایک نگل کو دیکھا اور اس کی ٹانگ جان بوجھ کر توڑ دی۔ پھر وہ اسے گھر لے گیا اور اس کی ٹانگ پر پٹی کر دی۔

کچھ دنوں بعد وہ نگل بھی اڑ گیا اور نولبو کے آنگن میں کدو کا بیج گرا گیا۔ نولبو نے خوشی سے وہ بیج بو دیا اور اس کے پکنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب کدو پک گئے تو نولبو نے بڑے شوق سے انہیں توڑا۔ لیکن جب اس نے کدو کھولے تو اندر سے سانپ، بچھو اور بھیانک جن نکلے۔ انہوں نے نولبو کے پورے گھر کو تباہ کر دیا۔ اس کے کھیت برباد ہو گئے، اس کے مویشی مر گئے، اور وہ خود بھی بے گھر ہو گیا۔

نولبو کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ اپنے چھوٹے بھائی کے پاس آیا اور اس سے معافی مانگی۔ ہیونگبو نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا اور کہا، “بھائی، ہم تو ایک ہی ماں کے بچے ہیں۔ تمہارا گھر میرا گھر ہے۔”

ہیونگبو نے اپنے بھائی کے لیے ایک نیا گھر بنوایا اور اسے کھیت بھی دیے۔ دونوں بھائیوں نے مل کر باقی زندگی خوشی سے گزاری۔

اخلاقی سبق: نیکی کا بدلہ نیکی ہے اور بدی کا بدلہ بدی۔ لالچ اور حسد انسان کو تباہ کر دیتے ہیں، جبکہ ہمدردی اور بھلائی انسان کو بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔

حوالہ:
یہ کہانی کوریا کی سب سے مشہور لوک کہانیوں میں سے ایک ہے، جسے “Heungbu and Nolbu” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کوریا کے جوزون خاندان کے دور سے منسوب ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner