بلاعنوان

بلاعنوان

ایک چوہدری نے ایک مراثی کو ملازم رکھ لیا۔
سردیوں کا موسم تھا، ایک رات دونوں ایک ہی کمرے میں رضائی اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔
چوہدری نے کہا:
“ذرا باہر دیکھو، بارش ہو رہی ہے یا نہیں؟”
مراثی نے سکون سے جواب دیا:
“ابھی ابھی ایک بلی باہر سے آ کر آپ کی چارپائی کے پاس بیٹھی ہے۔ اگر اسے ہاتھ لگائیں اور وہ گیلی نکلے تو سمجھ لیں بارش ہو رہی ہے، اور اگر سوکھی ہو تو مطلب بارش نہیں۔”
کچھ دیر بعد چوہدری نے پھر آواز دی:
“اٹھو اور ذرا بتی جلا دو۔”
مراثی بولا:
“سرکار، منہ کمبل کے اندر کر لیں، بتی خود ہی بجھ جائے گی۔”
تھوڑی دیر گزری تو چوہدری پھر بول پڑا:
“دروازے سے ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے، اٹھ کر اسے اچھی طرح بند کر دو۔”
مراثی ہنستے ہوئے بولا:
“حضور! دو کام تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں، اب ایک کام آپ بھی خود کر لیں۔”

#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner