اطالیہ کے ایک خوبصورت شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جو اپنی شان و شوکت اور انصاف پسندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے پاس بہت سے خزانے تھے، لیکن اسے اپنے وزراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے درمیان سب سے زیادہ ایماندار کون ہے۔
ایک دن شاہی محل میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ نے بازار سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا تھا۔ وہ بہت قیمتی تھا اور اس کی چمک دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ شام کو جب بادشاہ نے ہیرے کو اپنے صندوق میں رکھا اور اگلی صبح جب اس نے دیکھا تو وہ صندوق خالی تھا۔
بادشاہ نے اپنے وزراء کو جمع کیا اور کہا، “میرا ہیرا کسی نے چرا لیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے اس کا پتہ بتا سکتا ہے؟”
وزراء نے بہت کوشش کی، لیکن کسی کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص بھی اس چوری کا پتہ لگائے گا، اسے آدھی سلطنت انعام میں دی جائے گی۔
شہر کے ایک غریب مچھیرے نے یہ سنا۔ وہ خود تو ان پڑھ تھا، لیکن اس کی بیٹی بہت ذہین تھی۔ اس نے اپنی بیٹی سے مشورہ کیا۔ بیٹی نے کہا، “ابا جان! آپ بادشاہ کے پاس جائیں اور کہیں کہ مجھے تین دنوں میں چوری کا پتہ لگ جائے گا۔”
مچھیرے نے ایسا ہی کیا۔ بادشاہ نے اسے تین دن کا وقت دے دیا۔
مچھیرے کی بیٹی نے ایک چال چلی۔ اس نے اپنی چھوٹی سی بلی کو تربیت دی کہ وہ رات کے وقت ان تمام لوگوں کے گھروں میں جائے جو چوری کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔ بلی نے پہلی رات ایک وزیر کے گھر سے ہیرے کی چمک دیکھی۔ اس نے فوراً اپنی مالکن کو بتایا۔
دوسرے دن مچھیرے کی بیٹی نے بادشاہ کو بتایا کہ چور کو پکڑنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ ایک بڑے برتن میں پانی بھر کر اس میں مینڈک ڈال دیے جائیں۔
بادشاہ کو یہ مشورہ عجیب لگا لیکن اس نے مان لیا۔ جب تمام وزراء کو دربار میں جمع کیا گیا اور انہیں مینڈکوں والے پانی کے برتن کے پاس کھڑا کیا گیا، تو مینڈک زور زور سے ٹراں ٹراں کرنے لگے۔ اس شور میں جس وزیر نے چوری کی تھی، وہ ڈر گیا اور اس کے چہرے کے رنگ بدل گئے۔ اس نے فوراً ہیرے کے چھپانے کی جگہ بتا دی۔
بادشاہ نے مچھیرے کی بیٹی کی ذہانت کی بہت تعریف کی اور اسے انعام دیا۔ مچھیرے کی بیٹی نے کہا کہ اسے صرف ایک چیز چاہیے۔ اپنے باپ کے لیے ایک چھوٹی سی کشتی تاکہ وہ آسانی سے مچھلیاں پکڑ سکے۔ بادشاہ خوش ہوا اور اس نے اسے وہ کشتی دے دی۔
اخلاقی سبق
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی دولت عقل اور ذہانت ہے، نہ کہ سونا اور چاندی۔ ایک غریب مچھیرے کی بیٹی نے اپنی ذہانت سے وہ کام کر دکھایا جو بڑے بڑے وزراء نہ کر سکے۔ جسمانی طاقت یا دولت کی بجائے عقل اور دانش ہی اصل ہتھیار ہیں۔
حوالہ: یہ کہانی اطالوی لوک ادب کی ایک معروف کہانی ہے، جیسا کہ “Italian Folktales” میں اس کا ذکر ہے۔
