ایک بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے پیچھے اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے تیزی سے ہرن کا پیچھا کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔
گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ بادشاہ نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کہاں جائے۔ گھوڑا بھی گرمی سے ہانپ رہا تھا۔
کئی میل چلنے کے بعد کوئی بستی نظر نہ آئی، البتہ دور کچھ جانور چرتے دکھائی دیے اور بانسری کی آواز بھی تیز ہوا کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کا رخ کیا۔
چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی آواز اب صاف سنائی دے رہی تھی۔ ایک نوجوان دردناک آواز میں بانسری بجا رہا تھا۔
بادشاہ نے گھوڑا روکا۔ کچھ فاصلے پر دیکھا کہ ایک نوجوان شکستہ اور میلے کپڑے پہنے ایک درخت کے نیچے بے نیازی سے ریت پر نیم دراز ہے اور بڑی مستی سے بانسری بجا رہا ہے۔
بادشاہ دیر تک اسے دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ کیا اس جنگل کا بادشاہ یہی شکستہ حال نوجوان ہے؟
نوجوان بانسری بجانے میں مگن تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک نظر دیکھا اور دل میں سوچا: “ہونہہ! کوئی شکاری ہوگا۔” پھر دوبارہ بانسری بجانے لگا۔
بادشاہ اس کے قریب پہنچا اور پوچھا:
“میاں صاحبزادے! یہاں کہیں پینے کے لیے پانی بھی مل جائے گا؟”
شاہجہاں کا شاہانہ لباس اور شاندار گھوڑا دیکھ کر چرواہا ذرا چونکا، مگر جلد ہی سنبھل کر بولا:
“یہاں پانی کہاں! پانی تو بستی میں ملے گا۔ تھوڑی ہی دور بستی ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے ہاتھ کے اشارے سے راستہ بتایا اور پھر بے نیازی کے ساتھ بانسری بجانے لگا۔ جانور چر رہے تھے اور وہ اپنی دھن میں مست تھا۔
بادشاہ گھوڑے پر سوار ہو کر جانے کی سوچ ہی رہا تھا کہ نوجوان نے پوچھا:
“کیا تمہیں پیاس لگی ہے؟”
بادشاہ نے عاجزی سے جواب دیا:
“ہاں بھئی! پیاس سے برا حال ہے۔”
چرواہا اٹھا اور درخت کی جڑ میں رکھا ہوا میلا کچیلا برتن اٹھایا اور بولا:
“لو، یہ پی لو۔ اس میں پانی ہے۔”
بادشاہ نے بے قراری کے ساتھ پانی اپنے حلق میں انڈیل لیا۔ پیاس کی شدت سے وہ بے حال ہو چکا تھا۔ پانی تو اس نے پہلے بھی پیا تھا، لیکن آج اسے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ نعمت اسے پہلی بار ملی ہو۔
وہ احسان مندی اور محبت بھری نظروں سے چرواہے کو دیکھتے ہوئے بولا:
“میاں صاحبزادے! تم رہتے کہاں ہو؟”
چرواہے نے جواب دیا:
“اسی بستی میں رہتا ہوں، چند میل دور۔”
بادشاہ نے پوچھا:
“کیا تم کبھی شہر بھی گئے ہو؟”
“کیا تم شہر میں رہتے ہو؟ وہاں ایک بہت بڑی مسجد ہے، وہ ہمارے بادشاہ نے بنوائی ہے، کیا تم وہیں رہتے ہو؟ میں ایک بار باپ کے ساتھ وہاں گیا تھا۔”
چرواہے نے جواب دیتے ہوئے کہا:
“تم کل وہاں آ جانا قلعہ میں، اور دیکھو کوئی چیز لاؤ تو میں تمہیں کچھ لکھ کر دے دوں۔”
بادشاہ نے اسے انعام سے نوازنا چاہا۔
“کیا تم قلعے میں رہتے ہو؟ تب تو تم نے بادشاہ کو ضرور دیکھا ہوگا؟” چرواہے نے حیرت سے بادشاہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں ہی بادشاہ ہوں۔” بادشاہ نے جواب دیا۔
“تم بادشاہ ہو؟ ہمارے بادشاہ؟” حیرت سے چرواہا بادشاہ کو دیکھتا رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی بادشاہ کو دیکھ رہا ہے۔ آج چرواہا اپنے بادشاہ سے باتیں کر رہا تھا۔ اسے اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔ آج بادشاہ اس کا مہمان تھا، مگر وہ ڈر رہا تھا کہ اس نے بادشاہ کو بڑی بے رخی سے جواب دیا تھا۔ وہ کچھ سوچ میں پڑ گیا۔
بادشاہ نے اس کا سکوت توڑتے ہوئے کہا:
“تم ہمارے پاس آنا، ہم تمہیں انعامات دیں گے۔ دیکھو، پیڑ کی چھال اٹھا لاؤ۔”
بادشاہ نے پیڑ کی چھال پر کوئلے سے کچھ لکھ کر اسے دیا اور کہا:
“تم یہ لے کر قلعہ میں آنا، میں تمہارا انتظار کروں گا۔”
اور بادشاہ وہاں سے لوٹ آیا۔
کئی دن گزر گئے۔ بادشاہ اپنے میزبان کا بے چینی سے انتظار کرتا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنے میزبان کو انعام دے کر مالا مال کر دوں گا۔
جمعہ کا دن تھا۔ بادشاہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے جامع مسجد جا چکا تھا۔ قلعہ میں کئی روز سے چرواہے کا انتظار تھا۔ آج دوپہر کے وقت وہ دروازۂ قلعہ پر پیڑ کی چھال لیے ہوئے پہنچا تو دروازے کے محافظوں نے اسے فوراً پکڑا اور دو سپاہیوں کے ساتھ بادشاہ کی خدمت میں جامع مسجد بھیج دیا۔
چرواہا ڈرتا سہمتا جامع مسجد کے اندر داخل ہوا۔ جمعہ کی نماز ہو چکی تھی، لوگ جا چکے تھے، کچھ جا رہے تھے۔ بادشاہ کے درباری جامع مسجد میں موجود تھے۔ سپاہی چرواہے کو درباریوں کے حوالے کر کے واپس ہو گئے۔
چرواہے نے پوچھا:
“بادشاہ کہاں ہیں؟”
درباریوں نے کہا:
“دیکھو، وہ جو محراب کے قریب بیٹھے ہیں، وہی بادشاہ ہیں۔”
شاہجہاں اس وقت بڑی عاجزی اور لجاجت سے دعا مانگ رہا تھا۔
چرواہے نے کہا:
“نہیں! میں تو بادشاہ کو پوچھ رہا ہوں جنہوں نے یہ قلعہ بنوایا ہے اور جو قلعہ میں رہتے ہیں۔”
“ہاں بھائی! یہی بادشاہ ہیں۔” درباریوں نے اسے اطمینان دلایا۔
وہ کچھ دیر بادشاہ کو دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک شخص دونوں ہاتھ پھیلائے، گڑگڑا کر فقیروں کی طرح کیا مانگ رہا ہے اور کیوں مانگ رہا ہے۔
اس سے رہا نہ گیا۔ اس نے پوچھا:
“یہ بادشاہ کیا مانگ رہے ہیں اور کس سے مانگ رہے ہیں؟ یہ تو بادشاہ ہیں، “
درباریوں نے کہا:
“یہ اللہ سے مانگ رہے ہیں۔ اللہ سے ہر ایک مانگتا ہے، چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر۔”
چرواہا یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ پھر اچانک وہ ایک طرف کو چل دیا۔ درباریوں نے اسے روکنا چاہا، لیکن وہ نہ رکا۔ لوگوں نے اسے بہت روکا، جانے کی وجہ پوچھی، مگر اس نے کچھ نہ بتایا اور اپنی راہ لے لی۔
بادشاہ دعا سے فارغ ہوا۔ خادم بادشاہ کو لینے دوڑے۔ خادموں نے بادشاہ کو بتایا کہ چرواہا آیا تھا۔
بادشاہ نے بڑی بے چینی سے پوچھا:
“کہاں ہے وہ؟”
بادشاہ کئی دن سے اپنے میزبان کا بڑی بے قراری سے انتظار کر رہا تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ واپس چلا گیا۔ ہم نے اسے بہت روکا، لیکن وہ نہ رکا۔
بادشاہ نے فوراً کچھ لوگوں کو گھوڑوں پر بھیج دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ اس نوجوان کو لے کر واپس آ گئے۔
بادشاہ نے عزت کے ساتھ چرواہے کو اپنے پاس بٹھایا اور دیر تک اس کی خاطر تواضع کرتے رہے، مگر چرواہا ہر عزت و اکرام سے بے نیاز تھا۔
بادشاہ نے اس سے پوچھا:
“میاں! تم مجھ سے ملنے آئے تھے، پھر ملے بغیر ہی واپس کیوں چلے گئے؟”
وہ خاموش رہا۔
بادشاہ نے دوبارہ کہا:
“میاں! میں تمہارا بڑی شدت سے انتظار کر رہا تھا، اور تم ملے بغیر ہی واپس جا رہے تھے۔ بتاؤ تو سہی، کیا بات ہوئی؟”
چرواہے نے جواب دیا:
“میں آپ سے انعام لینے آیا تھا، مگر میں نے دیکھا کہ آپ خود ہاتھ پھیلا کر مانگ رہے تھے۔ جب آپ خود مانگ رہے تھے تو بھلا مجھے کیا دیتے؟ میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ میں بھی اسی سے مانگوں جس سے آپ مانگ رہے تھے۔”
یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دینے والا صرف اللہ ہے۔ اگر وہ نہ دینا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی ایک ذرہ نہیں دے سکتی، اور اگر وہ دینا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کی عطا کو روک نہیں سکتی۔
بندے کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں، ہر بندہ محتاج ہے، اور جو جتنا بڑا ہے، وہ اتنا ہی زیادہ محتاج ہے
