چار اندھے

چار اندھے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار اندھے دوست رہتے تھے، جنہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ایک دن گاؤں میں ایک سرکس آئی جس کے ساتھ ایک بڑا ہاتھی بھی تھا۔
چاروں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر ہاتھی کو چھوئیں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا دکھتا ہے۔ وہ ہاتھی کے پاس پہنچے اور باری باری اسے چھونے لگے۔
پہلے اندھے نے ہاتھی کی سونڈ کو ہاتھ لگایا اور فوراً بولا: “ارے! ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے!”
دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پاؤں کو چُھوا اور پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے بولا: “تم بالکل غلط کہہ رہے ہو، ہاتھی سانپ جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور گول ستون (پیلر) کی طرح ہوتا ہے!”
تیسرے اندھے نے ہاتھی کے بڑے کان کو ہاتھ لگایا اور ہنس کر بولا: “تم دونوں کو کچھ نہیں پتا، ہاتھی تو اناج صاف کرنے والے بڑے چھاج (پنکھے) کی طرح ہوتا ہے!”
چوتھے اندھے نے ہاتھی کی پونچھ کو پکڑا اور کہنے لگا: “تم سب پاگل ہو گئے ہو، ہاتھی تو ایک رسی کی طرح ہوتا ہے!”
چاروں دوست اپنے اپنے تجربے پر اصرار کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے درمیان بحث اتنی بڑھی کہ وہ آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ وہاں سے ایک عقلمند آدمی گزر رہا تھا، اس نے ان کا جھگڑا دیکھا تو رک گیا اور ان سے پوچھا: “تم لوگ کیوں لڑ رہے ہو؟”
انہوں نے باری باری اپنی بات بتائی۔ عقلمند آدمی مسکرایا اور کہنے لگا:
“تم چاروں اپنی اپنی جگہ بالکل سچے ہو، لیکن تم میں سے کسی نے بھی پورے ہاتھی کو نہیں دیکھا۔ تم نے ہاتھی کے جس جس حصے کو چھوا، تمہیں لگا ہاتھی بس اتنا ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی ان تمام حصوں کو ملا کر بنتا ہے، اس لیے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔”
چاروں دوستوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔

کہانی کا گہرا سبق (Moral)
ادھورا سچ نقصان دہ ہے: کسی بھی معاملے کی پوری حقیقت جانے بغیر اپنی رائے پر اصرار کرنا نادانی ہے۔ ہم اکثر چیزوں کو صرف اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی سچے ہیں۔
دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام: ہر انسان کا زندگی کا تجربہ الگ ہوتا ہے، اس لیے دوسروں کی بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

Leave a Reply

NZ's Corner