مقبول حج

مقبول حج

حضرت مالک بن دینارؒ اور محمد بن ہارون بلخی کا واقعہ
حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے بڑا رش دیکھا، لاکھوں کا اجتماع ہوا تھا۔
کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع تھا تو میرے دل میں خیال آیا، میں نے کہا: “اللہ! اتنے لوگ آئے ہیں، ان کا حج قبول بھی ہوا ہے کہ نہیں؟” فرماتے ہیں میں سوچ رہا تھا تو رات کو خواب میں میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ سب کا حج قبول ہو گیا ہے، مگر بلخ کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام “محمد بن ہارون بلخی” ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔
فرماتے ہیں کہ وہاں شہروں کے علیحدہ علیحدہ خیمے لگتے تھے۔ اب بھی آپ حج کرنے جائیں تو پاکستانیوں کی رہائش علیحدہ ہوتی ہے، انڈینز کی علیحدہ، بنگلادیش، مصری، یمنی سب لوگوں کی علیحدہ علیحدہ رہائش ہوتی ہے اور ملکوں کے جھنڈے لگے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں میں نے سویرے ڈھونڈنا شروع کیا میں اس شہر کے حیمے تک گیا اور لوگوں سے اس کے بارے پوچھا۔ان۔لوگوں نے بتایاکہ وہ تو بڑا ہی نیک آدمی ہے۔ ساری رات عبادت کرتا ہے، سارا دن روزہ رکھتا ہے۔ قائم اللیل اور صائم الدہر ہے، کیا بات ہے اس کی!”
آپ اس کو کسی پہار کے ساتھ دیکھیں وہ تنہا رہتا ہے۔
فرماتے ہیں میں ان لوگوں کی بات سن کر حیران ہو گیا کہ مجھے خواب میں کیا بتایا گیا اور یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں! فرماتے ہیں میں پہاڑ کے پیچھے گیا، حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے اس شخص کو مصلے پر بیٹھے دیکھا۔ کثرتِ عبادت کے آثار اس کے وجود پر نظر آ رہے تھے اور اس کا ایک بازو کٹا ہوا تھا۔
فرماتے ہیں کہ دو رکعتیں مکمل کر کے جب اس نے سلام پھیرا، تو میں نے اسے “السلام علیکم” کہا۔ وہ مجھے کہنے لگا: “وعلیکم السلام! آپ مالک بن دینار ہیں؟” میں نے کہا: “بڑی اس کی فراست (بصیرت) ہے!” فرماتے ہیں پھر اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہنے لگا: “آپ کو خواب آئی ہوگی کہ میرا حج قبول نہیں ہوا؟”
فرماتے ہیں مجھ پر جیسے بجلی گری کہ یہ کیا کہہ رہا ہے! میں نے کہا: “یار! لوگ بھی تیری تعریف کر رہے ہیں اور تیری بصیرت بھی بڑی ہے، تو پھر یہ ماجرا کیا ہے؟” کہنے لگا: “آپ نہ پوچھیں۔” یہ کہہ کر اس نے رونا شروع کر دیا اور دیر تک روتا رہا۔ میں نے کہا: “نہیں یار، تو بتا۔” کہنے لگا: “نہیں، آپ نہ پوچھیں، آپ ناراض ہوں گے۔” میں نے کہا: “میں نہیں ہوتا، تو بول نا۔”
کہنے لگا: “حضور! 24 سال ہو گئے مجھے حج کرتے ہوئے، یہ میرا 24 واں حج ہے اور ہر سال کوئی اللہ کا ولی آ کر بتاتا ہے کہ جا چلا جا، تیرا کوئی حج قبول نہیں ہوا!”

میں نے کہا: “تیری غلطی کیا ہے؟” کہنے لگا: “میں اپنی ماں کا نافرمان ہوں۔” میں نے کہا: “واقعہ کیا ہوا؟”
کہنے لگا: “حضرت! اللہ نے مجھے دولت دی، مال دیا، زمینیں دیں تو میں عیاش ہو گیا۔” امام مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ سے کہنے لگا: “پیسے آئے تو میں عیاش ہو گیا۔ رمضان کا مہینہ تھا، عصر کے بعد میری اماں افطاری کی تیاری کر رہی تھیں۔ میں گھر گیا، میں نے شراب پی ہوئی تھی، میں نے کہا: ‘اماں! روٹی دے۔’ تو اماں کہنے لگی: ‘شرم کر، شرم کر! روزہ رکھا نہیں تو جنہوں نے رکھا ہے ان کا تو خیال کر۔’ کہتے ہیں اماں کی بات کا مجھے غصہ لگا۔”
(راوی کہتے ہیں کہ میں کہا کرتا ہوں کہ بدنصیب ہے وہ بیٹا جس کا باپ اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے کہ پتہ نہیں کہاں سے بولے گا! بدنصیب ہے وہ بیٹا جس کی ماں اس سے بات کرتے ہوئے سہم جاتی ہے کہ پتہ نہیں کون سی بولی بولے گا! بدنصیب ہیں وہ بچے جن سے ماں باپ بھی کھل کے بات نہ کر سکیں)۔
کہنے لگا: “حضرت مالک بن دینار! جب اماں نے کہا نہ کہ ‘شرم کر’، تو مجھے غصہ آیا۔ میں نے ماں کو تھپڑ مارا اور میری ماں جلتے ہوئے تندور میں جا گری! لوگوں نے مجھے پکڑ کے اندر کمرے میں بند کر دیا۔ ساری رات میں شور سنتا رہا پر میں نشے میں دھت رہا۔ سویرے آنکھ کھلی تو میری بیوی بیگ باندھ رہی تھی۔ میں نے کہا: ‘کہاں جا رہی ہو؟’ کہنے لگی: ‘جو ماں کا نہیں بنا، وہ میرا کیسے بنے گا؟’ میں نے کہا: ‘میری اماں کہاں ہے؟’ وہ کہنے لگی: ‘وہ تو لوگوں نے رات کو دفن کر دی، جنازہ پڑھ کے۔’ میں تڑپ کے کہنے لگا: ‘مجھے کیوں نہیں بتایا؟’ تو لوگ کہنے لگے: ‘تیری مرتی ہوئی ماں کہہ گئی تھی کہ اسے میرا منہ نہ دیکھنے دینا، یہ میرے جنازے کے قریب نہ آئے۔'”
حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ جب اس نے یہ بات سنائی، تو میں نے بھی اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا اور میں نے کہا: “تو اسی قابل ہے!” کہتے ہیں وہ روئے جا رہا تھا اور کہنے لگا: “حضور! دعا کریں اللہ مجھ سے راضی ہو جائے۔ جب ماں کے انتقال کی خبر ملی تو میں نے کلہاڑی لے کر وہ ہاتھ ہی کاٹ دیا جس سے ماں کو مارا تھا۔ میں نے اپنی ساری جائیداد خیرات کر دی۔ 24 سال ہو گئے ہیں، ساری رات نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں، حج کرتا ہوں، پر ہر سال کوئی آ کر کہتا ہے کہ جا دوڑ جا، تیرا کوئی حج قبول نہیں ہوا۔ حضور! دعا کریں مالک راضی ہو جائے۔” فرماتے ہیں میں تھپڑ مار کے آ گیا اور میں نے کہا: “تجھ سے کیسے راضی ہو جائے اتنے ظالم سے!”
امام مالک فرماتے ہیں کہ رات کو جب میں آ کر سویا، تو مجھے خواب میں رسولِ پاک ﷺ کا دیدار ہوا۔ تو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: “مالک! تو اسے مایوس کیوں کر آیا ہے؟ اللہ تو بڑا مہربان ہے۔” میں نے عرض کی: “حضور! ماں کے نافرمان کو معافی کیسے ملے گی؟” تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جا، اسے جا کر بتا دے، تجھے قیامت میں تیری ماں کی وجہ سے ہی بخش دیا جائے گا۔”
میں نے عرض کی: “حضور! اماں کی وجہ سے کس طرح؟” تو محبوب ﷺ فرمانے لگے: “اس کی ماں قیامت میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کرے گی ربِ کریم کی عدالت میں۔ کہے گی: ‘اللہ! میں نے نو ماہ اسے پیٹ میں رکھا، درد سہہ کے اسے جنا، اپنے جگر کا خون پلا کے پالا اور اس نے مجھے قتل کیا۔’ ربِ کریم اس کی ماں کا مقدمہ سن کے کہے گا: ‘اٹھاؤ اس کو اور دوزخ میں پھینکو! اس نے ماں جلائی تھی، اسے بھی جلاؤ۔'”
محبوب ﷺ فرمانے لگے: “جب فرشتے اس محمد بن ہارون کو پکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے نا، ابھی گھسیٹ ہی رہے ہوں گے تو یہ پلٹ کے پھر اپنی اماں کی طرف دیکھے گا۔ اور دوسری دفعہ پھر گھسیٹیں گے تو پھر پلٹ کے دیکھے گا۔ اور تیسری دفعہ پھر پلٹ کے کہے گا: ‘اماں! یہ مجھے جلانے لگے ہیں، اماں یہ مجھے جہنم میں پھینکنے لگے ہیں!’۔”
میرے حبیب ﷺ فرمانے لگے: “وہ جل کے مرنے والی ماں وہاں بھی بول پڑے گی! کہے گی: ‘یا اللہ! چل میں نے معاف کیا، تو بھی معاف کر دے اللہ! اے اللہ! میں نے معاف کیا، تو بھی معاف کر دے اللہ، تو معاف کر دے!'”
😢😢😢😢😢😢😢😢
ماں باپ کی محبت جیسی کوئی محبت نہیں کرے گا کوئی کبھی آپ سے دوستو ان کی قدر کرو ان کی قدر کرو جہ چلے گئے تو پھر کبھی نہیں ملیں گے😢
واللہ اعلم بالصواب اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ۔پسند آئے تو لائک،کمنٹ کریں اور علم کو چھیلانے کے لیے اس کو شئیر کر دیں شکریہ۔

Leave a Reply

NZ's Corner