بلاعنوان

بلاعنوان

کہتے ہیں کہ مشرقی افریقہ کے کسی قدیم ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک روز دربار کی سازشوں، درباریوں کی چاپلوسی اور وزیروں کی مکاریوں سے تنگ آ کر اس نے گہری سانس لی اور بولا:
“انسان عجیب مخلوق ہے؛ زبان پر شہد، دل میں زہر۔ جھوٹ، فریب اور لالچ اس کی گھٹی میں پڑا ہے۔ کیوں نہ کسی ایسے جانور کو وزیر بنا دوں جو کم از کم منافقت سے پاک ہو؟”
یہ کہہ کر اس نے شاہی اصطبل سے ایک گدھا منگوایا اور فرمان جاری کر دیا:
“آج سے یہ ہمارا وزیر ہے!”
فرمان کیا تھا، شہر بھر میں قہقہوں کا طوفان آ گیا۔ چوک، بازار، گلیاں اور قہوہ خانے سب اسی قصے سے گونج اٹھے۔ لوگ کہتے:
“دیکھو بھئی! اب سلطنت کے معاملات عقل سے نہیں، ڈھینچوں سے چلیں گے!”
بادشاہ کو مگر اپنی دانائی پر بڑا ناز تھا۔
چند دن بعد ملکہ نے مسکراتے ہوئے بادشاہ سے پوچھا:
“جہاں پناہ! ایک بات عرض کروں؟”
بادشاہ نے گردن اکڑا کر کہا:
“فرماؤ!”
ملکہ بولی:
“آپ نے گدھے کو وزیر بنا دیا ہے۔ اب یہ بتائیے کہ سلطنت کا اصل حاکم کون ہے؟ آپ یا آپ کا وزیر؟”
بادشاہ نے فوراً جواب دیا:
“ظاہر ہے میں بادشاہ ہوں، وہ تو محض وزیر ہے!”
ملکہ نے کہا:
“اگر ایسا ہے تو اپنے وزیر کو حکم دیجیے کہ شہر میں اعلان کرے: ‘بادشاہ دنیا کا سب سے عقلمند انسان ہے۔'”
بادشاہ کو اپنی تعریف سننے کا شوق تھا۔ اس نے فوراً گدھے کو حکم دیا:
“جاؤ، پورے شہر میں اعلان کرو کہ ہمارا بادشاہ سب سے زیادہ عقلمند ہے!”
گدھا شاہی حکم پا کر بازاروں میں نکلا۔ لوگ جمع ہو گئے کہ آج وزیرِ اعظم کیا فرمان سنائے گا۔
گدھے نے سینہ تان کر پوری قوت سے آواز نکالی:
“ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔!”
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر کسی شوخ طبع شخص نے کہا:
“ارے! یہ تو کہہ رہا ہے کہ تم سب گدھے ہو!”
بس پھر کیا تھا، ہنسی کا ایسا فوارہ چھوٹا کہ بازار گونج اٹھا۔ ہر طرف قہقہے، طنزیہ جملے اور چٹکلے گردش کرنے لگے۔
جب یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے غصے میں آ کر گدھے کو وزارت سے برطرف کر دیا اور دربار میں کھڑے ہو کر بولا:
“آج میں نے ایک بڑی بات سیکھی ہے۔ گدھے کو وزیر بنانے سے وہ عقلمند نہیں بنتا، بلکہ لوگ بادشاہ کی عقل پر سوال اٹھانے لگتے ہیں!”
پھر اس نے آہ بھری اور کہا:
“عہدے کی شان اس شخص سے بڑھتی ہے جو اس پر بیٹھتا ہے۔ اگر نااہل کو منصب دو گے تو رسوائی بھی تمہارے حصے میں آئے گی۔”
سبق
گدھے کو وزیر بنانے سے گدھا وزیر نہیں بنتا، بلکہ بادشاہ کی عقل مشکوک ہو جاتی ہے۔
نااہل شخص کو اختیار دینا دراصل اپنی دانائی پر سوالیہ نشان لگانا ہے۔
#منقول
مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں

Leave a Reply

NZ's Corner