گاؤں کے کنارے ایک قدیم برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اتری ہوئی تھیں اور شاخیں آسمان سے راز و نیاز کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ نہ جانے کتنی نسلیں اس کے سائے میں پلی تھیں، کتنے مسافر اس کے نیچے دم لے چکے تھے، اور کتنے پرندوں نے اسے اپنا گھر بنایا تھا۔
گرمی کی دوپہروں میں وہ ٹھنڈی چھاؤں بانٹتا، بارشوں میں مٹی کو بہنے سے بچاتا، اور خزاں میں بھی خاموشی سے کھڑا رہتا، گویا زندگی کے ہر رنگ کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا جانتا ہو۔
ایک دن ایک لکڑہارا کلہاڑی کندھے پر رکھے وہاں آ پہنچا۔
اس کی نگاہ درخت کے مضبوط تنے پر پڑی تو اسے اپنی ضرورتیں یاد آگئیں؛ گھر کی تنگ دستی، بچوں کی خواہشیں اور بازار میں لکڑی کی اچھی قیمت۔
اس نے کلہاڑی سنبھالی اور درخت کے قریب آیا۔
ہوا نے آہستہ سے سرگوشی کی، پرندے بےچین ہو کر پھڑپھڑانے لگے، اور درخت جیسے پہلی بار خوفزدہ نظر آیا۔
اس نے خاموش زبان میں کہا:
“مجھے مت کاٹ۔ میں نے کبھی تمہارا نقصان نہیں کیا۔ میں نے تمہیں سایہ دیا، تمہاری سانسوں کے لیے ہوا دی، تمہارے بچوں کو کھیلنے کی جگہ دی۔”
مگر ضرورت جب لالچ کا لبادہ اوڑھ لے تو دل کی سماعت کمزور ہو جاتی ہے۔
لکڑہارے نے کلہاڑی اٹھائی۔
پہلا وار ہوا۔
درخت کانپ اٹھا۔
دوسرا وار ہوا۔
پرندے چیخ کر اڑ گئے۔
تیسرا وار ہوا۔
پتے لرزنے لگے، جیسے کوئی بوڑھا بزرگ آخری سانسیں لے رہا ہو۔
درخت پھر بولا:
“میں گر جاؤں گا، مگر یاد رکھنا… میرے ساتھ صرف لکڑی نہیں گرے گی، تمہارے بچوں کی چھاؤں، پرندوں کے آشیانے اور زمین کی ٹھنڈک بھی رخصت ہو جائے گی۔”
مگر کلہاڑی چلتی رہی۔
آخرکار ایک زوردار چرچراہٹ کے ساتھ درخت زمین پر آ گرا۔
فضا میں گرد اڑی، پرندے دور نکل گئے، اور وہ جگہ جو کبھی زندگی سے بھرپور تھی، اچانک ویران محسوس ہونے لگی۔
کئی سال بعد اسی گاؤں میں سخت گرمی پڑی۔ زمین بنجر ہونے لگی، پرندے کم ہو گئے اور لوگ سایہ ڈھونڈتے پھرتے تھے۔
وہی لکڑہارا ایک دن اس خالی جگہ کے پاس کھڑا تھا۔
اس نے جلتے سورج کی طرف دیکھا، پھر سوکھی زمین کی طرف، اور آہ بھر کر بولا:
“کاش میں نے اس دن درخت کی فریاد سن لی ہوتی۔”
مگر وقت کے دریا میں بہ جانے والے لمحے واپس نہیں آتے۔
درخت تو گر گیا تھا، لیکن اپنے پیچھے ایک سبق چھوڑ گیا تھا:
قدرت چیخ چیخ کر نہیں بولتی، وہ خاموشی سے عطا کرتی ہے۔ اور جب انسان اس کی خاموش محبت کا جواب کلہاڑی سے دیتا ہے، تو نقصان صرف درخت کا نہیں، پوری زندگی کا ہوتا ہے۔
#منقول
