بلاعنوان

بلاعنوان

کہتے ہیں دور کہیں کسی گاؤں میں کئی لوگوں کی فصلیں چوری ہونے لگی، کسان اپنی فصل میں پہنچتے تو دیکھ کر لگتا کہ کوئی جانور گھاس کھا کر گیاہے لیکن کسی کو بھی جانور کے پیروں کے نشان نہ ملتے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بھینس فصل چر گئی، کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک کہانی عام ہوگئی کہ کوئی جانور نما جن رات گئے آتا ہے، فصل چرتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔
لیکن پھر کسی ایسے شخص نے جسے جن والی کہانی پر یقین نہیں تھا، رات گئے ایک نوجوان کو بھینس کندھے پر اٹھا کر جاتے ہوئے دیکھ لیا، پیچھا کرنے پر معاملہ یوں کھلا کہ نوجوان روز اپنی بھینس کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے، فصلوں میں چھوڑتا ہے اور پھر کندھے پر اٹھا کر واپس لے آتا ہے، تھوڑی تحقیق سے معلوم ہوا بھینس اٹھانے والا نوجوان جانور کو تب سے اٹھا رہا تھا جب وہ ’کٹی‘ تھی، اس نے روز کا معمول بنالیا تھا کہ چھوٹی بھینس کو کندھے پر اٹھا کر لے جاتا کسی کی فصل میں چھوڑتا، جب وہ سیر ہوجاتی تو کندھے پر اٹھا کر ہی واپس لے آتا، رفتہ رفتہ کٹی کا وزن بڑھتا گیا اور نوجوان طاقتو ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ ’کٹی‘ ایک مکمل بھینس بن گئی اور نوجوان اس قابل ہوگیا کہ بھینس کو کندھوں پر اٹھالیتا تھا، یہ ایک افسانوی کہانی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مستقل مزاجی میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ آپ ایسا کام آسانی سے کرنے کے قابل ہوجائیں گے جو بھینس کو کندھوں پر اٹھانے جیسا مشکل لگتا ہے، جب آپ کسی کام میں اتنے زیادہ ماہر ’پرو‘ ہوجائیں گے تو دوسروں کو جو کام انتہائی مشکل یا ناممکن لگ رہا ہوگا، آپ آسانی سے کرسکتے ہوں گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner