ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جزیرے پر تمام جذبات اور احساسات اکٹھے رہتے تھے۔ وہاں خوشی، غم، امید، خوف، عقلمندی اور محبت سب ایک ساتھ رہتے تھے۔
ایک دن سمندر میں ایک شدید طوفان آیا جو اس جزیرے کو ڈبو دینے کے قریب تھا۔ سب جذبات بہت گھبرا گئے۔
اسی وقت محبت (Love) نے سب کے لیے ایک بڑی کشتی تیار کی تاکہ سب محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ تمام جذبات جلدی سے کشتی میں سوار ہونے لگے۔
صرف ایک جذبہ پیچھے رہ گیا… انا (Ego)۔
محبت واپس گئی اور اسے کہا:
“آؤ، جلدی کرو، کشتی ڈوبنے والی ہے!”
لیکن انا نے سر اٹھا کر جواب دیا:
“میں کسی کی مدد کی محتاج نہیں ہوں۔ میں خود بچ سکتا ہوں۔”
محبت نے بہت کوشش کی، اسے سمجھایا، ہاتھ پکڑا، منتیں کیں… مگر انا اپنی ضد پر قائم رہا۔
کشتی میں موجود دوسرے جذبات چیخنے لگے:
“محبت! جلدی آؤ، وقت کم ہے!”
لیکن محبت نے کہا:
“میں کسی کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔”
اسی لمحے ایک بڑا موج آیا… اور جزیرے پر پانی بھر گیا۔
کشتی میں موجود تمام جذبات بچ گئے، لیکن وہ سب خاموش تھے… کیونکہ محبت کشتی میں نہیں تھی۔
بعد میں سب نے سمجھا کہ: اصل تباہی طوفان نہیں تھا… بلکہ انا کی ضد تھی جس نے محبت کو قربان کر دیا۔
جب انا بڑھ جائے تو محبت کمزور پڑ جاتی ہے، اور جہاں محبت قربان ہو جائے وہاں انسانیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
