بلاعنوان

بلاعنوان

ایک شخص بالاآخر جنت کے دروازے پر پہنچ گیا اور اپنے آخری فیصلے کے لیے خدا کے حضور کھڑا ہوا۔ کافی دیر تک، خدا گہری خاموشی میں ڈوبا اسے دیکھتا رہا۔ جب اس شخص سے مزید صبر نہ ہو سکا، تو وہ بول اٹھا۔
“اے میرے مالک، میری تقدیر کیا ہے؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟ میں نے جنت کی بادشاہت میں اپنی جگہ کمائی ہے۔ میں نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں،” اس شخص نے فخر اور وقار سے اپنا سر اونچا کرتے ہوئے دعویٰ کیا۔
خدا نے حیرانی سے پوچھا، “اور کب سے تکلیف اٹھانے کو ایک کارنامہ سمجھا جانے لگا ہے؟”
“میں نے ٹاٹ کے کھردرے پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور بھاری زنجیریں اٹھائیں،” اس شخص نے ضدی غرور سے اپنی تیوریاں چڑھاتے ہوئے دلیل دی۔ “میں نے خشک مٹر اور چوکر کھا کر گزارا کیا۔ پانی کے سوا کچھ نہیں پیا، اور کبھی کسی عورت کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں نے مسلسل روزوں اور دعاؤں سے اپنے جسم کو بھوکا رکھا اور تھکایا…”
خدا نے نرمی سے جواب دیا، “ٹھیک ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے تکلیفیں اٹھائیں۔ لیکن تم نے یہ سب تکلیفیں آخر کس لیے اٹھائیں؟” اس سے میری مخلوق کو انسانیت کو کیا بھلائی ملی؟
اس شخص نے بنا کچھ سوچے فوراً جواب دیا، “یہ سب میں نے آپ کی شان و شوکت کے لیے کیا!”
“خیر، یہ میری شان و شوکت کا بہت ہی اداس اور تاریک رخ ہے،” خدا نے ایک غمگین اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ آہ بھری۔ “کیا تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ مجھے لوگوں کو بھوکا رکھنے، انہیں چتھڑے پہنانے اور محبت کی خوشیوں سے محروم کرنے میں خوشی ملتی ہے؟”
ان کے درمیان ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ خدا اسی گہری اور متفکر نظر سے اس شخص کو دیکھتا رہا۔
اس شخص نے دوبارہ پوچھا، “تو… پھر میرے انعام کا کیا ہوا؟”
خدا نے نرمی سے سرگوشی کی، “تم کہتے ہو کہ تم نے تکلیف اٹھائی۔ میں تمہیں یہ بات کس طرح سمجھاؤں کہ تم سمجھ جاؤ؟ اس بڑھئی (ترکھان) کی مثال لو جو لائن میں تم سے آگے کھڑا تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے لیے گھر بنانے میں گزار دی۔ اس نے سخت تپتی دھوپ اور جمانے والی سردی میں ایمانداری سے، محنت سے کام کیا۔ وہ بعض اوقات بھوکا بھی رہا، اور کام کے دوران اکثر ہتھوڑے سے اپنی انگلیوں کو بھی زخمی کر بیٹھتا تھا—اور ہاں، اس وجہ سے اس نے تکلیف بھی اٹھائی۔ لیکن  اختتام پر، اس نے کچھ بھلائی کا کام تو کیا کچھ گھر تو بنائے۔ اور اسے اس کی محنت کی کمائی مل گئی۔”
خدا لمحہ بھر کے لیے رکا، اور اس شخص کی آنکھوں میں جھانکا۔
“لیکن تم… ایسا لگتا ہے کہ تم نے اپنی پوری زندگی ہتھوڑے سے صرف اپنی ہی انگلیاں زخمی کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔”
خدا اس کے اور قریب ہوا۔مخلوق کو کیا فائدہ دیا تم نے؟، کسی کے ساتھ کیا بھلائی کی تم نے؟
“وہ گھر کہاں ہیں؟  جو تم نے بنائے؟

Leave a Reply

NZ's Corner