بلاعنوان

بلاعنوان

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک غریب چوہا روزگار کی تلاش میں اپنا جنگل چھوڑ کر شہر چلا گیا۔ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ایک بڑے تاجر نے اسے ملازم رکھ لیا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ اونٹوں، بھینسوں اور گھوڑوں کو چارہ ڈالے، انہیں باندھے، کھولے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔
چند ماہ بعد جب بھی وہ اپنے جنگل واپس آتا تو اپنے رشتہ داروں کے درمیان سینہ پھلا کر بیٹھ جاتا۔
“تم لوگوں نے کبھی اونٹ دیکھا ہے؟ میں تو روز اس کی رسی پکڑ کر چلتا ہوں۔ بھینسیں بھی میرے ایک اشارے پر رک جاتی ہیں”۔
ننھے ننھے چوہے حیرت سے منہ کھول لیتے اور بوڑھے چوہے بھی دل ہی دل میں سوچتے کہ واقعی شہر نے اسے بڑا بہادر بنا دیا ہے۔

ایک دن اچانک جنگل میں ہلچل مچ گئی۔
ایک دیوہیکل جنگلی گینڈا بھٹکتا ہوا چوہوں کی بستی کی طرف آ نکلا۔ سب جانور جان بچا کر بھاگنے لگے۔
چوہے نے سینہ تان کر کہا،
“آج موقع آ گیا ہے سب کو اپنی بہادری دکھانے کا۔ آخر میں روز اس سے بھی بڑے بڑے جانور سنبھالتا ہوں”۔
وہ تیزی سے دوڑا، قریب پڑی ایک موٹی رسی اٹھائی اور لپک کر گینڈے کی گردن میں ڈالنے کی کوشش کی۔

مگر شہر کے سدھے ہوئے اونٹ اور بھینسیں تو معمولی سا کھنچاؤ محسوس ہوتے ہی رک جایا کرتے تھے، یہ جنگل کا آزاد گینڈا تھا۔ اس نے گردن بس ذرا سی جھٹکی، چوہا ہوا میں پتنگ کی طرح لہراتا ہوا کئی گز دور جا گرا۔ کبھی پتھر سے ٹکرایا، کبھی جھاڑیوں میں الجھا، اور آخرکار بے ہوش ہو کر پڑا رہ گیا۔
کئی دن بعد جب اسے ہوش آیا تو پورا خاندان عیادت کے لیے موجود تھا۔
ایک نوجوان چوہے نے ہنستے ہوئے کہا،
“چچا! آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ اونٹ، بھینس اور بڑے بڑے جانور آپ کے ایک اشارے پر چلتے ہیں۔ پھر یہ حال کیسے ہو گیا؟”
چوہے نے کراہتے ہوئے آنکھ کھولی، لمبی سانس لی اور بولا، “بیٹا، شہر کے جانور پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔”
سب حیران رہ گئے۔
ایک بوڑھے چوہے نے پوچھا،
“پڑھے لکھے ہونے سے کیا فرق پڑ گیا؟”
چوہا درد سے کروٹ بدلتے ہوئے بولا، “فرق یہ پڑ گیا کہ انہیں تہذیب آتی ہے، ادب آتا ہے۔ وہ رسی دیکھ کر رک جاتے ہیں تاکہ سامنے والے کی عزت رہ جائے، مگر یہ مردود گینڈا ان پڑھ نکلا، اسے نہ قانون کا پتہ تھا، نہ آداب کا”۔

اس واقعے کے بعد چوہے نے زندگی کا ایک اصول بنا لیا۔
جہاں بھی کوئی بڑا جانور دیکھتا، پہلے ایک ہی سوال کرتا: “معاف کیجیے، آپ کسی کے ملازم ہیں یا اپنی مرضی کے مالک؟”
اگر جواب آتا، “اپنی مرضی کا مالک،”
تو چوہا دور ہی سے سلام کر کے راستہ بدل لیتا تھا۔

اخلاقی سبق:
بعض لوگ اپنی کامیابی کو اپنی طاقت سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اکثر وہ دوسروں کے تعاون، تربیت اور برداشت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب حقیقت سے واسطہ پڑتا ہے تو غرور سب سے پہلے زمین پر گرتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner