حاضر دماغ کسان اور بادشاہ…..

حاضر دماغ کسان اور بادشاہ…..

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔

پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔

اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل کر اپنی سلطنت میں گھومتا تاکہ دیکھ سکے کہ اس کی رعایا محفوظ ہے یا نہیں۔ اسی رات، بادشاہ عام آدمی کے بھیس میں کسان کے گھر کے پاس سے گزرا۔ وہاں اس نے وہ بڑا تربوز دیکھا اور اس سے اتنا متاثر ہوا کہ وہ کسان کے گھر کے دروازے پر گیا اور دستک دی۔

کسان جاگا اور باہر آ کر پوچھا، “تم کون ہو اور اس وقت کیا چاہتے ہو؟”

بادشاہ نے جواب دیا، “میں ایک غریب آدمی ہوں اور میں نے اس کھیت میں یہ بڑا تربوز دیکھا ہے اور میں یہ تربوز چاہتا ہوں۔”

“تربوز.. نہیں!!” کسان نے جواب دیا۔

بادشاہ کو تجسس ہوا اور اس نے پوچھا، “کیوں نہیں؟؟ تم اس کا کیا کرنے والے ہو؟”

کسان نے جواب دیا، “میں اسے اپنے بادشاہ کو تحفے میں دینے والا ہوں۔”

بادشاہ نے سوال کیا، “اگر بادشاہ کو یہ پسند نہ آیا تو؟”

کسان نے فوراً جواب دیا، “پھر وہ جہنم میں جائے..!!”

اس گفتگو کے بعد بادشاہ چلا گیا اور کسان واپس سو گیا۔

اگلی صبح، کسان اپنا تربوز لے کر بادشاہ کے محل پہنچا۔ جب اس نے بادشاہ کو دیکھا تو اسے پہچان لیا، لیکن ڈرنے یا رات کی بات یاد کرنے کے بجائے اس نے ایسا ظاہر کیا جیسے وہ کچھ جانتا ہی نہ ہو۔ اب اس نے بادشاہ کو تربوز پیش کیا اور کہا، “حضور.. یہ اس ملک کا سب سے بڑا تربوز ہے۔ میں یہ آپ کے لیے تحفے کے طور پر لایا ہوں، مجھے امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔”

بادشاہ نے پوچھا، “اگر مجھے یہ پسند نہ آیا تو؟”

“تو پھر آپ کو میرا جواب پہلے سے ہی معلوم ہے.. حضور..!!” کسان نے جواب دیا۔

کسان کا جواب سن کر بادشاہ مسکرایا اور بولا، “میں تمہارا تحفہ قبول کرتا ہوں۔” بادشاہ نے کسان کو نہ صرف اس کے تحفے کے لیے بلکہ اس کی حاضر دماغی اور ذہانت کے لیے بھی انعام دیا۔

ذہانت اور سوچ سمجھ کر بات کرنا ہمیں مشکل حالات سے آسانی سے نکال سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner