شاہی چھتری۔۔۔

شاہی چھتری۔۔۔

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنے جنگل میں شیر بادشاہ کے محل میں ایک خاص نوکری نکلی۔ کام یہ تھا کہ بادشاہ کے تخت کے پیچھے کھڑے ہو کر شاہی چھتری سنبھالنی تھی۔ یہ ایک باعزت عہدہ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہر وقت بادشاہ کے قریب رہنے کا موقع ملتا تھا۔

جنگل بھر سے جانور آئے۔
ان میں ایک چھوٹا سا خرگوش بھی تھا۔ وہ ذہین تھا، تیز تھا، آداب جانتا تھا اور ہر لحاظ سے اس نوکری کا اہل تھا۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو اسے صرف اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ اس کا قد بہت چھوٹا تھا۔
لومڑی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: “بادشاہ کی شاہی چھتری اتنی اونچی ہے کہ تم اسے سنبھال ہی نہیں سکتے۔”
آخرکار یہ نوکری ایک لمبے قد والے ہرن کو مل گئی۔
خرگوش کا دل ٹوٹ گیا۔
جب بھی وہ محل کے قریب سے گزرتا اور ہرن کو شاہی لباس میں بادشاہ کے پیچھے کھڑا دیکھتا تو اس کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی۔
وہ اکثر آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا: “اے قدرت! اگر میرا قد تھوڑا سا بڑا ہوتا تو آج میں بھی اس مقام پر ہوتا۔”

اس کی بوڑھی ماں اسے سمجھاتی:
“بیٹا، ہر کمی محرومی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات جو چیز ہمیں نقصان لگتی ہے، وہی ہماری حفاظت کا سبب بن جاتی ہے۔”
مگر خرگوش کے دل کو تسلی نہ ہوتی۔
وقت گزرتا رہا۔
پھر ایک دن جنگل پر مصیبت آن پڑی۔ پہاڑوں کے اُس پار سے شکاریوں کا ایک بڑا گروہ جنگل میں داخل ہو گیا۔ ان کے پاس جال بھی تھے اور ہتھیار بھی۔

شیر بادشاہ نے فوراً حکم دیا:
“تمام لمبے قد والے اور طاقتور جانور میرے ساتھ آئیں۔ جنگل کا دفاع کرنا ہوگا۔”
ہرن بھی شاہی دستے کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
چند دن بعد جنگ ختم ہوئی، مگر اس کی قیمت بہت بھاری تھی۔
کئی جانور شکاریوں کے جالوں میں پھنس گئے۔
کئی زخمی ہوئے۔
اور کچھ تو واپس ہی نہ لوٹ سکے۔
شاہی چھتری اٹھانے والا وہ ہرن بھی شدید زخمی حالت میں واپس آیا۔ اس کے جسم پر زخم تھے اور وہ پہلے جیسا مضبوط نہ رہا تھا۔
خرگوش یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اسی شام وہ اپنی ماں کے پاس آیا۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔

اس نے آہستہ سے کہا:
“ماں! آج پہلی بار سمجھ آیا کہ میں جس چیز کو اپنی بدقسمتی سمجھتا تھا، شاید وہ میری حفاظت تھی۔”
بوڑھی ماں مسکرائی اور بولی:
“بیٹا! انسان ہو یا جانور، وہ صرف اپنی خواہش دیکھتا ہے، انجام نہیں۔ بعض اوقات قدرت جس دروازے کو بند کرتی ہے، دراصل کسی مصیبت کا راستہ بند کر رہی ہوتی ہے۔”
خرگوش نے سر جھکا لیا۔
اب جب بھی وہ محل کے پاس سے گزرتا، اس کے دل میں حسرت نہیں اٹھتی تھی بلکہ شکر کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔
وہ سوچتا: “جس جگہ پہنچنے کے لیے میں دعا کر رہا تھا، شاید اگر وہاں پہنچ جاتا تو آج زندہ بھی نہ ہوتا۔”

اخلاقی سبق:

ہم اکثر اپنی محرومیوں پر افسوس کرتے ہیں، حالانکہ بہت سی محرومیاں دراصل قدرت کی پوشیدہ رحمت ہوتی ہیں۔ ہر بند دروازہ ناکامی نہیں ہوتا، بعض دروازے اس لیے بند کیے جاتے ہیں تاکہ ہم کسی ایسے راستے پر نہ چلے جائیں جہاں ہمارا نقصان ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ کبھی کبھی جو چیز ہمیں نہیں ملتی، وہی سب سے بڑی نعمت ثابت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner