ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت گر گئے ہیں۔ صبح اس نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے دربار کے سب سے بڑے عالم کو بلایا۔ عالم نے تعبیر سنی اور کہا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کے تمام خاندان والے آپ سے پہلے وفات پا جائیں گے۔” یہ سن کر بادشاہ غصے میں آ گیا اور عالم کو قید میں ڈلوا دیا۔
کچھ دنوں بعد بادشاہ نے ایک اور، کم مشہور مگر دانا شخص کو بلایا اور وہی خواب دہرایا۔ اس شخص نے مسکرا کر جواب دیا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کی عمر آپ کے سارے خاندان سے زیادہ لمبی ہوگی، اور آپ سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہیں گے۔” بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اسے قیمتی انعام سے نوازا۔
جب درباریوں نے حیرانی سے پوچھا کہ دونوں کی تعبیر تو دراصل ایک ہی بات تھی، پھر ایک کو سزا اور دوسرے کو انعام کیوں؟ تو دانا بادشاہ کے وزیر نے کہا: “بات ایک ہی تھی، مگر اصل فرق الفاظ کے انتخاب اور ادائیگی کے انداز میں تھا۔ ایک نے تلخ سچائی کو مزید تلخ بنا کر پیش کیا، دوسرے نے وہی سچائی نرمی اور حکمت سے بیان کی۔”
اخلاقی سبق: بات وہی اہم نہیں ہوتی، بلکہ اسے کہنے کا انداز بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ حکمت اور نرمی سے کہی گئی سچائی دلوں کو جیت لیتی ہے، جبکہ سخت اور بے رحم انداز سے کہی گئی وہی بات دلوں کو زخمی کر دیتی ہے۔
حوالہ/مصنف: روایتی مشرقی حکمت آموز حکایت، فارسی/اردو حکایتی ادب میں صدیوں سے مستعمل، مصنف نامعلوم۔
