کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے قریب ایک بوڑھا چوکیدار رہتا تھا جو راتوں کو کان کے دروازے پر پہرہ دیتا۔ کہا جاتا کہ کان کی گہرائیوں میں ایک پراسرار مخلوق بستی ہے جو لالچی کان کنوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ ایک نوجوان کان کن، جو زیادہ نمک نکال کر جلد امیر ہونا چاہتا تھا، رات کو چھپ کر بند کان میں گھس گیا۔ گہرائی میں جاتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور راستے آپس میں گڈمڈ ہونے لگے، جیسے کوئی جان بوجھ کر اسے بھٹکا رہا ہو۔
نوجوان کا سانس پھولنے لگا اور خوف سے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اسے اپنی نانی کی نصیحت یاد آئی کہ ایسی حالت میں سورۃ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کی۔ آہستہ آہستہ اسے دور سے دروازے کی جانب سے ہلکی روشنی نظر آنے لگی، اور وہی راستہ جو کچھ دیر پہلے تک گم تھا، اب صاف دکھائی دینے لگا۔ وہ صحیح سلامت باہر نکل آیا۔
باہر چوکیدار نے اسے دیکھ کر کہا: “بیٹا، یہ کان صرف زمین کی دولت نہیں، لالچ کی بھی آزمائش ہے۔ جو حلال طریقے اور مقررہ وقت میں کام کرے، وہ محفوظ رہتا ہے، اور جو صرف زیادہ کمانے کی ہوس میں حدیں توڑے، وہ راستہ بھٹک جاتا ہے۔” نوجوان نے توبہ کی اور اگلے دن سے صرف اپنی مقررہ ڈیوٹی کے دوران ہی کام کرنا شروع کیا۔
اخلاقی سبق: حد سے بڑھی ہوئی لالچ انسان کو صحیح راستے سے بھٹکا دیتی ہے، جبکہ ذکرِ الٰہی اور صبر انسان کو دوبارہ راہِ راست پر لے آتا ہے۔ رزق میں برکت مقررہ حدود میں رہنے سے ہے، حدیں توڑنے سے نہیں۔
حوالہ/مصنف: روایتی عوامی حکایت، پنجاب کی نمک کان کنوں کی زبانی روایت پر مبنی (لوک ادب، مستند حدیث نہیں)۔
