پرانے زمانے کی بات ہے۔کسی شہر میں ایک بہت دولت مند آدمی رہتا تھا۔اس کی حویلی بادشاہوں کے محلات کی طرح عظیم الشان تھی۔ہر وقت نوکر چاکر اس کی خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے۔وہ بہت ظالم تھا اور ذرا سی غلطی پر نوکروں کو سخت سزا دیتا۔اس کا ایک غلام آقا کے مظالم سے تنگ آ گیا۔
ایک دن موقع پا کر وہ بھاگ گیا اور جنگل میں جا چھپا۔
کئی دن وہ جنگل میں چھپا رہا۔ایک روز درخت پر چھپا بیٹھا تھا کہ اسے ایک شیر نظر آیا، جو لنگڑا کر چل رہا تھا۔اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔شیر اس درخت کے پاس آ بیٹھا، جس پر غلام بیٹھا تھا۔غلام نے دیکھا کہ شیر کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔غلام کو بہت ترس آیا۔
اس نے سوچا آج نہیں تو کل آقا کے ملازم اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے گا۔
پھر کیوں نہ وہ مرنے سے پہلے کوئی نیکی کر جائے۔بے شک آج شیر اسے چیر پھاڑ ڈالے، لیکن یہ موت ظالم آقا کے ہاتھوں مرنے سے تو بہتر ہے۔
یہ سوچ کر وہ درخت سے نیچے اُترا اور شیر کے پاؤں سے کانٹا نکال دیا۔شیر نے اسے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا اور آہستہ آہستہ جنگل کی طرف چلتا ہوا غائب ہو گیا۔غلام بھی بھوک و پیاس سے تنگ آ کر نزدیکی قصبے میں چلا گیا اور وہاں محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے لگا۔
ایک دن امیر آدمی شکار کھیلنے کے لئے جنگل میں آیا تو اس کے ساتھیوں نے شیر کو گھیر کر پکڑ لیا اور حویلی میں لا کر پنجرے میں ڈال دیا۔
اُدھر ظالم آقا کو غلام کے بھاگنے کا ابھی تک بڑا غصہ تھا۔اس نے غلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔اتفاق سے آقا کے کارندوں کی نظر غلام پر پڑ گئی۔انھوں نے بھاگے ہوئے غلام کو گرفتار کر کے آقا کے سامنے پیش کر دیا۔
ظالم آقا نے غلام کے لئے موت کی سزا تجویز کی اور اسے شیر کے آگے ڈالنے کا حکم دیا۔کارندوں نے حکم کی تعمیل کی اور اسے بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا۔
لیکن ظالم آقا اور اس کے کارندے اس وقت حیران رہ گئے، جب شیر نے غلام پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے پاؤں چاٹنے شروع کر دیئے اور اس کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ظالم آقا نے غلام کو پاس آنے کا حکم دیا اور اس سے شیر کی اس مہربانی کی وجہ پوچھی۔
غلام نے آقا کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔آقا کے دل پر اس بات کا گہرا اثر ہوا۔وہ حیران تھا کہ جانور بھی احسان کرنے والے کو نہیں بھولتے۔اس نے غلام کو انعام و اکرام دے کر آزاد کیا اور شیر کو جنگل میں چھڑوا دیا۔
