ہر چیز کو دوبارہ درست نہیں کیا جا سکتا

ہر چیز کو دوبارہ درست نہیں کیا جا سکتا

ایک دفعہ ایک چھوٹے لڑکے کی سب سے پسندیدہ سائیکل دیوار سے ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ گئی۔ اس کا فریم ٹیڑھا ہو گیا، پہیہ مڑ گیا اور زنجیر بھی اتر گئی۔ لڑکا بہت دکھی ہوا اور اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل اٹھا کر ایک بوڑھے مکینک کے پاس پہنچ گیا۔

اس نے پریشانی سے پوچھا:
“کیا آپ اسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ اور اس پر کتنا خرچ آئے گا؟ یہ پہلے بھی تین بار خراب ہو چکی ہے، مگر میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔”

مکینک نے غور سے سائیکل دیکھی اور کہا:

“یہ کافی خراب ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک کرنے پر 20 سکے لگیں گے، جبکہ 30 سکوں میں تم ایک نئی سائیکل خرید سکتے ہو۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ تم اسے چھوڑ کر آگے بڑھو۔”

لڑکے نے فوراً جواب دیا:

“نہیں! مجھے یہ سائیکل بہت عزیز ہے۔ براہِ کرم اسے ٹھیک کر دیں، میں 20 سکے دے دوں گا۔”

مکینک نے سائیکل مرمت کر دی اور لڑکا خوشی خوشی گھر چلا گیا۔

مگر اگلے ہی دن وہ دوبارہ واپس آیا۔ سائیکل ایک بار پھر ٹوٹ چکی تھی۔

اس نے افسردگی سے پوچھا:
“اس بار کتنے پیسے لگیں گے؟”

مکینک نے کہا:

“10 سکے۔ لیکن یہ سائیکل اب پرانی اور کمزور ہو چکی ہے۔ یہ پھر خراب ہو جائے گی۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنے پیسے بچاؤ اور نئی سائیکل لے لو۔”

لیکن لڑکا پھر بھی نہ مانا۔

“نہیں، بس ایک بار اور اسے ٹھیک کر دیں۔”

مکینک نے دوبارہ مرمت کر دی۔

تین دن بعد لڑکا ایک بار پھر آیا۔ اس دفعہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل کو گھسیٹتا ہوا لا رہا تھا۔

وہ روتے ہوئے بولا:

“میری سائیکل پھر ٹوٹ گئی ہے، لیکن اب میرے پاس اسے ٹھیک کروانے کے لیے ایک بھی سکہ نہیں بچا۔”

مکینک نے شفقت سے اسے دیکھا اور کہا:

“تم اس پرانی سائیکل کو بار بار ٹھیک کروانے میں 30 سے بھی زیادہ سکے خرچ کر چکے ہو، جبکہ انہی پیسوں میں تم ایک نئی سائیکل خرید سکتے تھے۔

زندگی بھی اکثر اس سائیکل کی طرح ہوتی ہے۔ ہم بعض اوقات ایسی چیزوں، رشتوں یا امیدوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو حقیقت میں ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔ ہم اپنا وقت، اپنی توانائی اور اپنے جذبات ان پر صرف کرتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ بار بار ہمیں مایوس کرتی ہیں۔

مگر ہر چیز کو دوبارہ درست نہیں کیا جا سکتا۔

کبھی کبھی اصل دانائی اسی میں ہوتی ہے کہ جو چیز اب ہمارے لیے فائدہ مند نہیں رہی، اسے چھوڑ دیا جائے… تاکہ زندگی میں کسی نئی، بہتر اور خوبصورت چیز کے لیے جگہ بن سکے۔

Leave a Reply

NZ's Corner