جنگل کی تاریخ میں اگر کسی ایک جانور کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا تھا تو وہ لومڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنی پوری سرکاری زندگی میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ نہ عید آئی تو رخصت لی، نہ آندھی نے اسے روکا، نہ موسلا دھار بارش، نہ بیماری، نہ میلے، نہ تہوار، نہ کسی عزیز کی خوشی، نہ کسی اپنے کا غم۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ دربار میں موجود ہوتی اور رات گئے تک ریاست کے معاملات نمٹاتی رہتی۔
اس کی خدمت صرف ایک بادشاہ تک محدود نہ رہی۔ پہلے دادا شیر کے دور میں وہ وزیر رہی، پھر اس کے بیٹے کے ساتھ، اور اب پوتا بھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آج بھی وہی لومڑی بیٹھی تھی۔ جنگل کے کئی نوجوان پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، مگر دربار میں ایک چیز کبھی نہ بدلی اور وہ تھی لومڑی کی حاضری۔
آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب پورے جنگل میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی گئی۔ ہر طرف جھنڈے لہرا رہے تھے، بینڈ بج رہے تھے، اور ہزاروں جانور جمع تھے۔
بادشاہ شیر نے اپنے ہاتھوں سے لومڑی کو “نشانِ خدمتِ جنگل” عطا کیا اور بلند آواز میں کہا،
“اگر کسی کو ریاست سے محبت سیکھنی ہو، اگر کسی کو وفاداری کی مثال دیکھنی ہو، اگر کسی کو یہ جاننا ہو کہ قوموں کی خدمت کیسے کی جاتی ہے، تو وہ لومڑی کو دیکھے”
پورا میدان تالیوں سے گونج اٹھا۔
چند ہی ہفتوں بعد جنگل کے نصاب میں ایک نیا سبق شامل کر دیا گیا۔
عنوان تھا: “لومڑی: خدمت کا استعارہ”
بچوں کو پڑھایا جانے لگا کہ کامیاب قومیں انہی لوگوں کے کندھوں پر کھڑی ہوتی ہیں جو اپنی ذات بھول کر صرف خدمت کرتے ہیں۔
شام کو تقریب ختم ہوئی تو لومڑی ایوارڈ سینے سے لگائے گھر پہنچی۔
گھر میں اس کی ننھی پوتی دوڑتی ہوئی آئی۔ اس نے ایوارڈ کو حیرت سے دیکھا، پھر دادی کی گردن میں بانہیں ڈال کر معصومیت سے بولی،۔”دادی جان! کیا واقعی آپ نے کبھی ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی؟”
لومڑی مسکرائی۔
“نہیں، بیٹا!”
“بارش میں بھی نہیں؟”
“نہیں” “عید پر بھی نہیں؟”
“نہیں”
“جب بیمار ہوتی تھیں تب بھی نہیں؟”
“تب بھی نہیں”
“آخر کیوں؟ آپ کے اندر اتنا جذبۂ خدمت کہاں سے آیا؟”
لومڑی نے چاروں طرف دیکھا، پھر آہستہ سے پوتی کو اپنے قریب بٹھایا، ایوارڈ ایک طرف رکھا اور ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بولی، “بیٹا، یہ وہ کہانی ہے جو دنیا جانتی ہے۔”
پوتی حیران ہو کر بولی،
“اور سچ؟”
لومڑی نے کہا،
“سچ یہ ہے کہ نہ یہ کوئی جذبۂ خدمت تھا، نہ کوئی عظیم قربانی، نہ کوئی غیر معمولی وفاداری۔”
پوتی کی آنکھیں اور پھیل گئیں۔
“پھر آخر راز کیا تھا؟”
لومڑی نے قہقہہ لگایا اور بولی،
“بس ایک ہی خوف!”
“کیسا خوف؟”
لومڑی نے شرارتی انداز میں آنکھ ماری اور کہا،
“مجھے ہر روز یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ اگر میں ایک دن بھی چھٹی کر گئی، تو کہیں بادشاہ شیر کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ میرے بغیر بھی حکومت آرام سے چل سکتی ہے”
اور باقی رہی آرام کی بات تو
لومڑی مسکرائی اور بولی، “آرام تو بہت کیا ہے، بس کبھی چھٹی لے کر نہیں کیا!”
یہ سن کر بچی بھی ہنس پڑی۔
اور اگلے ہی دن اسکول کے مضمون میں لکھا تھا:
“میری دادی جنگل کی سب سے محنتی لومڑی ہیں، کیونکہ انہیں اپنے ملک سے بے حد محبت ہے”
حاصلِ سبق
ہر مسلسل محنت کے پیچھے لازماً جذبۂ خدمت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی محنت صرف یہ ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے کہ “میرے بغیر کام نہیں چل سکتا۔”
