صحرا کا مجنوں

صحرا کا مجنوں

چولستان کا ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی، جو درخت کے ساتھ کھڑی کوئی ایک ایکڑ کی دوری پر اسے تکے جا رہی تھی، یہ دیکھ کر چرواہے کا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے چولستان میں بارش کی پیش گوئی سن لی ہو۔
چرواہے نے بھی موقع غنیمت جانا اور عاشقانہ سگنل دینے شروع کر دیے۔ کبھی بکری کی رسی گھما کر اسٹائل مارتا، کبھی ریت پر دل بناتا، اور کبھی بالوں کو سنوارتا۔
لیکن دوسری طرف محترمہ ساکت کھڑی مسلسل اُسے دیکھے جا رہی تھیں، بغیر پلک جھپکائے، بغیر کوئی حرکت کیے۔ اب بندے کو لگا کہ یہ سچا عشق ہے۔ بس اب عشق کا پہلا امتحان دے کر عاشقوں کی فہرست میں شامل ہو جانا ہے۔
کچھ وقت کے بعد سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن ہمارا عاشق محبت کے میدان میں ڈٹا رہا۔ دل میں سوچ رہا تھا، سنا تھا سچے عاشق سانس لینا بھی بھول جاتے ہے اور یہ حسینہ تو بس ہلنے جلنے سے انکاری ہے۔
دھوپ چڑھتی گئی، لیکن محترمہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی۔ چرواہے کے دل میں محبت کا آتش فشاں مزید بھڑک اٹھا۔
“یہ محبت کا امتحان لے رہی ہے، میں بھی دیکھتا ہوں، کون زیادہ پکا عاشق ہے”
دوپہر ڈھلی، شام ہونے لگی، لیکن وہ “ملکہ حسن” وہیں کھڑی، وہی نظروں کا کھیل، وہی بے نیازی، چرواہے نے دل ہی دل میں خود کو مبارکباد دی، یار، بڑی اعلیٰ قسمت ہے، پہلی ہی نظر میں پورا دن دے دیا۔ بندہ پسینے میں شرابور، محبت کے مارے نڈھال، لیکن ضدی ایسا کہ کہہ رہا تھا، یہ عشق ہے، کوئی گلی ڈنڈا تو نہیں کہ درمیان میں چھوڑ دوں، شام ہو گئی، صحرا میں ہلکی ہوا چلنے لگی، اور جب عشق کے مارے چروہے کا صبر جواب دے گیا تو اس نے سوچا کہ چلو جا کے حال دل سنا دوں۔
جیسے ہی درخت کے قریب پہنچا، تو جو منظر دیکھا، اس نے بندے کی محبت، صبر اور سارے عاشقانہ بھوت کو ہوا میں اُڑا دیا۔ محترمہ کوئی نہیں، بلکہ درخت کی شاخ پر ایک رنگین چنری تھی جو ہوا میں لٹک رہی تھی۔
بیچارہ چرواہا جو خود کو صحرا کا مجنوں سمجھ رہا تھا، 
پورے دن کی عاشقی ایک چنری کے ساتھ کرنے میں نکال دی۔
پھر خود سے دل میں کہنے لگا کہ چلو خیر ہے، عشق تو نہ ملا، لیکن کم از کم یہ سبق ضرور مل گیا کہ محبت میں قدم بڑھانے سے پہلے تسلی کر لینی چاہیے کہ محبوب واقعی موجود بھی ہے یا نہیں ۔

Leave a Reply

NZ's Corner