جنگل کے ایک کنارے پر مکار چوہا “مُنو” رہتا تھا۔ عقل میں تیز، زبان میں میٹھا اور کام کے معاملے میں ایسا سست کہ اگر کبھی محنت اس کے دروازے پر آ جاتی تو وہ کھڑکی سے جھانک کر دیکھتا اور پردہ گرا دیتا۔ کئی مہینوں سے روزگار کی تلاش میں تھا، مگر جہاں بھی جاتا، اس سے ایک ہی سوال ہوتا: “کیا کام آتا ہے؟” منو اس سوال کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔
آخر ایک دن وہ تھک ہار کر جنگل کی ایک ویران پگڈنڈی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک بوڑھا جانور درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس کے گرد جانوروں کا ہجوم تھا۔ کوئی دودھ لیے کھڑا تھا، کوئی شہد، کوئی پھل اور کوئی لفافہ۔ بوڑھا کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور کبھی اتنی گہری سانس لیتا کہ سامنے بیٹھا جانور بھی اپنی سانس روک لیتا۔ منو نے کافی دیر یہ تماشا دیکھا، پھر اس کی آنکھوں میں وہ چمک پیدا ہوئی جو عام طور پر کسی مکار دماغ میں نیا منصوبہ پیدا ہونے کے بعد آتی ہے۔ اس نے دل میں کہا، “واہ منو! دنیا محنت سے نہیں، موقع پہچاننے سے چلتی ہے۔ یہ بوڑھا کچھ نہیں کرتا، صرف سنتا ہے، دو جملے بولتا ہے اور جانور خود اپنی جیب کھول دیتے ہیں۔ اگر یہی کام میں شروع کر دوں تو شاید روزگار مجھے ڈھونڈتا ہوا آئے۔”
“مُنو”نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا کہ روزگار کی تلاش ختم، اب روزگار خود اس کے پاس آئے گا۔
جنگل کے ایک ایسے حصے میں، جہاں ہر آنے جانے والے کی نظر پڑتی تھی، ایک دن اچانک ایک نیا روحانی مرکز نمودار ہوا۔ بڑے دروازے پر لکھا تھا: “مرکزِ فیضِ حضرت
بابا مُنو شاہؒ”۔ اندر ایک بلند چبوترے پر ایک عجیب و غریب چوہا، سفید لباس، لمبی تسبیح اور نیم بند آنکھوں کے ساتھ اس انداز میں بیٹھا تھا جیسے اسے دنیا کی نہیں بلکہ دنیا کو اس کی ضرورت ہو۔
مگر منو اتنا بھی سادہ نہ تھا کہ صرف لباس بدل کر بابا بن جاتا۔ اسے معلوم تھا کہ آج کے زمانے میں صرف داڑھی، تسبیح اور بند آنکھیں کافی نہیں، کرامت کا ثبوت بھی چاہیے۔ چنانچہ اس نے اپنے جیسے آٹھ دس چالاک جانور چنے اور انہیں اپنے “مرید” بنا کر مرکز کے صحن میں بٹھا دیا۔ خرگوش، بندر، لومڑ، ریچھ، طوطا اور چند دوسرے جانور ہر وقت ایسے بیٹھے رہتے جیسے کئی برسوں سے بابا کے در پر پڑے ہوں۔ ان کا کام تھا آنے والے جانوروں کو دیکھتے ہی اس کے گرد محبت اور عقیدت کا مصنوعی ہالہ بنا دینا۔
کوئی نیا جانور اندر آنے لگتا تو ایک مرید فوراً اسے روک کر بڑے پیار سے پوچھتا، “بھائی، خیریت ہے؟ بہت پریشان لگ رہے ہو، کس لیے آئے ہو؟” وہ بیچارہ اپنی بیماری، گھر کی پریشانی، روزگار کا مسئلہ یا اولاد کی فکر بیان کرتا۔ دوسرا مرید فوراً اپنی مصنوعی کہانی شروع کر دیتا، “ارے بھائی! بالکل یہی مسئلہ کبھی میرے ساتھ بھی تھا۔ میں بھی تباہ ہو گیا تھا۔ پھر بابا منو صاحب سے ملا، ایک تعویذ لیا اور بس! چند دن میں مسئلہ ایسا غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔” تیسرا مرید فوراً تائید کرتا، “میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا!” چوتھا آہستہ سے کہتا، “بابا صاحب کو بس دیکھنے کی دیر ہوتی ہے، آدمی کچھ کہے نہ کہے، انہیں سب معلوم ہو جاتا ہے۔”
ابھی وہ جانور ان کی باتوں کے جال میں پوری طرح الجھ بھی نہ پاتا کہ دروازے پر بیٹھا بندر “ٹپو” اپنا اصل کام شروع کر دیتا۔ وہ آنے والے کی شناختی دستاویز دیکھنے کے بہانے اس کا نام، باپ کا نام، علاقہ، گھر کی صورتِ حال، خاندان اور مسئلے کی نوعیت معلوم کرتا اور فوراً اندر ایک خفیہ پیغام پہنچا دیتا: “بابا، خرگوش آیا ہے، نام فلاں، باپ فلاں، مسئلہ یہ ہے۔”
ادھر “مُنو” آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہوتا، تسبیح کے چند دانے گھماتا، لمبی سانس لیتا اور ایسے ظاہر کرتا جیسے ابھی ابھی آسمان سے کوئی غیبی خبر اتری ہو۔ پھر خرگوش اندر جاتا تو بابا اچانک آنکھیں کھول کر کہتا، “بیٹا، تمہارے دل پر بہت بوجھ ہے۔”
خرگوش حیران!
“بابا! آپ کو کیسے معلوم؟”
منو مزید گہرا ہو جاتا، “تمہارا مسئلہ روزگار کا ہے۔”
خرگوش کی آنکھیں پھیل جاتیں۔
“بابا! سبحان اللہ! میں نے تو ابھی کچھ کہا بھی نہیں”
منو تسبیح کا ایک دانہ گھماتا اور فرماتا، “ہمیں کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ہمیں دکھائی دے جاتا ہے۔”
باہر بیٹھے مرید فوراً سر ہلاتے، “بابا سب جانتے ہیں”
یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاتا کہ آخر آنے والے کو خود اپنی عقل پر شک ہونے لگتا۔
کسی دن کچھوا آتا تو بابا اس کے گھر کی پریشانی بتا دیتا۔ کوئی ہرن آتا تو اس کی ملازمت کا مسئلہ بیان کر دیتا۔ کوئی طوطا آتا تو اس کے خاندان کی الجھنیں گنوا دیتا۔ ہر جانور باہر نکلتا تو اس کے چہرے پر ایک ہی کیفیت ہوتی: حیرت، عقیدت اور یقین۔
چند ہی ہفتوں میں جنگل میں مشہور ہو گیا کہ بابا
“مُنو” شاہ کو بتانے کی ضرورت نہیں، وہ خود سب جانتے ہیں۔ جانور ایک دوسرے سے کہتے، “تم نے دیکھا؟ میں نے بابا کو کچھ بتایا ہی نہیں تھا، انہوں نے خود میرا نام، مسئلہ اور گھر کے حالات تک بتا دیے!”
اور یہی منو کی اصل کامیابی تھی۔
وہ جانور یہ دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے تھے کہ بابا تک معلومات پہنچانے والا کون ہے، کیونکہ ان کی آنکھیں بابا کی کرامت پر لگی تھیں اور دروازے پر بیٹھا ٹپو خاموشی سے ہر آنے والے کی پوری داستان جمع کر رہا تھا۔
چند ماہ میں منو کی جھونپڑی کے باہر قطاریں لگنے لگیں۔ پھلوں کے ڈھیر، دودھ کے برتن، شہد کے مٹکے، نذرانوں کی پوٹلیاں؛ منو کی بے روزگاری ایسے ختم ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
ایک دن منو نے اپنے مریدوں کو دیکھ کر مسکرا کر تسبیح گھماتے ہوئے کہا، “لوگوں کو یہ یقین دلانا مشکل نہیں کہ تم سب کچھ جانتے ہو؛ مشکل صرف یہ ہے کہ انہیں یہ یاد نہ رہنے دو کہ معلومات انہوں نے خود تم تک پہنچائی تھیں۔”
اور واقعی پورا جنگل بابا کی “کرامت” کا قائل ہو چکا تھا۔ جانور حیران تھے کہ بابا کو ان کے ماضی، حال اور مسائل تک کا علم کیسے ہو جاتا ہے، مگر کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ جس معلومات پر وہ حیران ہو رہے ہیں، وہ معلومات خود ان کے ہاتھوں سے بابا کے دربار تک پہنچ رہی ہیں۔
جنگل میں بابا کی واہ واہ تھی، مریدوں کی بلے بلے تھی، اور منو کی کرامت کے قصے ہر طرف تھے۔
بس ایک حقیقت کسی کو معلوم نہیں تھی:
بابا کسی کے دل کا حال نہیں جانتا تھا؛ وہ صرف اپنے دروازے پر بیٹھے لوگوں کی باتیں جانتا تھا۔
حاصلِ سبق:
ہر حیرت انگیز بات کرامت نہیں ہوتی، اور ہر وہ شخص جو آپ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہو، ضروری نہیں کہ وہ غیب جانتا ہو۔ کبھی کبھی ہم خود اپنی معلومات، اپنے راز اور اپنی کمزوریاں ایسے لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو پھر انہی چیزوں کو ہمارے سامنے “علم” اور “کرامت” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ عقل مند وہ نہیں جو ہر دعوے پر حیران ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو حیرت کے پیچھے چھپی ہوئی تدبیر تلاش کرے۔
