“جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔”

“جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔”

ایک بادشاہ اپنے عقل مند وزیر کے ساتھ اکثر سفر پر جایا کرتا تھا۔ وزیر ہر معاملے میں دانائی سے مشورہ دیتا اور آخر میں ایک جملہ ضرور کہتا:

“جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔”

بادشاہ کو کبھی کبھی یہ بات بہت ناگوار گزرتی۔

ایک دن دونوں شکار کے لیے جنگل گئے۔ اچانک جنگلی جانوروں نے حملہ کر دیا۔ کئی محافظ مارے گئے اور بادشاہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک انگلی کٹ گئی۔

وزیر نے بادشاہ کو دیکھا اور حسبِ معمول کہا:

“بادشاہ سلامت، جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔”

بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔

“میری انگلی کٹ گئی، میں درد سے تڑپ رہا ہوں، اور تم کہتے ہو یہ بہتر ہے؟!”

غصے میں بادشاہ نے وزیر کو ایک گہرے کنویں میں دھکا دے دیا اور اکیلا آگے بڑھ گیا۔

وزیر کنویں سے بھی یہی کہتا رہا:

“جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔”

کچھ دور جا کر جنگلی قبیلے کے لوگوں نے بادشاہ کو پکڑ لیا۔ وہ اسے اپنے دیوتا کی قربانی کے لیے لے گئے۔

جب قربانی کا وقت آیا تو پجاری نے بادشاہ کو غور سے دیکھا اور اچانک چیخ اٹھا:

“یہ شخص نامکمل ہے! اس کی ایک انگلی کٹی ہوئی ہے۔ اسے قربان نہیں کیا جا سکتا!”

قبیلے والوں نے بادشاہ کو چھوڑ دیا۔

جان بچتے ہی بادشاہ کو وزیر کی بات یاد آگئی۔

وہ فوراً واپس گیا، کنویں سے وزیر کو نکالا اور شرمندہ ہو کر بولا:

“مجھے معاف کر دو! تم بالکل درست کہتے تھے۔ میری انگلی کا کٹنا ہی میرے لیے بہتر تھا، ورنہ آج میں زندہ نہ ہوتا۔”

وزیر مسکرایا اور بولا:

“بادشاہ سلامت، آپ نے مجھ پر ظلم نہیں کیا، بلکہ میرے ساتھ بھلائی کی۔ اگر آپ مجھے کنویں میں نہ ڈالتے تو میں آپ کے ساتھ ہوتا، اور چونکہ میرا جسم مکمل تھا، وہ لوگ مجھے قربان کر دیتے!”

بادشاہ خاموش ہوگیا۔

اس دن اسے سمجھ آیا کہ جس چیز کو ہم نقصان سمجھتے ہیں، ممکن ہے اسی میں اللہ کی بڑی حکمت اور بھلائی چھپی ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner