ایک دن ایک بھیڑیا بھوک سے بے تاب ہو کر غذا کی تلاش میں جنگل میں مارا مارا پھر رہا تھا، وہیں ایک خرگوش جھاڑیوں میں گہری نیند سو رہا تھا۔ بھیڑیے کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اسے غنیمت جانا اور آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھنے لگا۔ خرگوش نے خطرے کی بو پا کر چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی، مگر بھیڑیے نے اس کا راستہ روک کر کہا:
“کہاں جاتا ہے؟”
خرگوش پر خوف غالب آگیا اور اس نے خوشامد شروع کر دی، اپنا منہ زمین پر رگڑ کر کہنے لگا:
“میں جانتا ہوں کہ بھوک کی آگ شعلہ فشاں ہے، جس کی وجہ سے جہاں پناہ بے قرار ہیں اور غذا کے طلب گار ہیں۔ مگر مجھ جیسا چھوٹا موٹا جانور آپ کے لیے کافی نہیں، یہ تو ایک نوالے سے زیادہ نہیں۔ البتہ یہاں قریب ہی ایک لومڑی رہتی ہے، جس کا موٹاپے کی وجہ سے چلنا دوبھر ہے اور اس کا گوشت تازگی میں آب حیات سے زیادہ ہے۔ اگر جہاں پناہ وہاں تک قدم رنجہ فرمائیں، تو میں اسے کسی حیلے سے پکڑوا دوں گا تاکہ آپ کا ناشتہ معقول اور پیٹ بھر کر ہو۔ اور اگر اس پر بھی میری تسلی نہ ہو تو میں حاضر ہوں، مجھے نوش فرمائیے!”
بھیڑیا خرگوش کی چرب زبانی اور چاپلوسی پر فریفتہ ہو کر لومڑی کی سمت روانہ ہوا۔ وہ لومڑی مکاری اور دھوکے بازی میں ماہر تھی۔ خرگوش کو اس سے پرانا بیر تھا، اس لیے وہ اس موقع کو غنیمت جان کر اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خرگوش جب لومڑی کے غار کے قریب پہنچا تو بھیڑیے کو باہر کھڑا کرکے خود اندر داخل ہوا اور بڑے احترام سے لومڑی کو سلام کیا۔
لومڑی نے بھی اسی انداز میں جواب دیا اور کہا: “خوش آمدید! کہاں سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟ آؤ بیٹھو تاکہ کچھ دیر باتیں کریں!”
خرگوش نے کہا: “مجھے ایک عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کروں، لیکن انقلابِ زمانہ کی جفا کاریوں کے باعث اب تک اس سعادت سے محروم تھا۔ اس دوران ایک بزرگ جو کرامت اور ولایت میں بے مثال ہیں، یہاں تشریف لائے ہیں اور آپ کی گوشہ نشینی کا شہرہ سن کر آپ کے دیدار کے خواہش مند ہیں۔ اگر اجازت ہو تو بہتر ہے، اور اگر دل نہ چاہے تو پھر کسی موقع پر دیکھا جائے گا۔”
لومڑی اس کی چرب زبانی کو بھانپ گئی اور دل میں سوچی کہ میں بھی ان کے ساتھ انہی کی طرح سلوک کروں اور ان کا دیا ہوا فریب انہی کے گلے کا ہار بنا دوں۔
اس نے کہا: “میں نے مسافروں کی خدمت میں کمر باندھی ہے اور اپنے گھر کا دروازہ مہمان پر کھول رکھا ہے، خصوصاً ایک بزرگ، جس کا بیان تم نے اس خوبی سے کیا ہے اور ایسے صاحبِ کمال، جس کی تعریف اس درجہ فرمائی ہے، اس کی مہمانداری میں کیونکر بھول سکتی ہوں؟ کیونکہ بزرگوں نے بھی کہا ہے کہ مہمان جب آتا ہے، اپنا رزق ساتھ لاتا ہے۔ لیکن مجھے توقع ہے کہ تم اتنا وقت ضرور رُکو گے کہ میں اپنے گھر کو صاف کر لوں اور قدمِ مبارک کے لیے کوئی فرش بچھا دوں۔”
خرگوش سمجھا کہ میرا جادو اس پر اثر کر گیا، اس نے جواب دیا: “مہمان بے تکلف اور درویش صفت ہے، اسے آرائشِ مکان اور فرش کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ذرا سا بھی تکلف ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں!”
یہ کہہ کر وہ باہر آیا اور تمام ماجرا بھیڑیے کو سنایا اور ایک بار پھر اسے تازہ گوشت کی لالچ دی۔ بھیڑیا اس لالچ میں اپنے تیز کیے ہوئے دانت پِیس رہا تھا اور خرگوش اس تصور میں مگن تھا کہ جب یہ لومڑی کے کھانے میں مصروف ہوگا، تو میں موقع پا کر فرار ہو جاؤں گا۔
لیکن جہاں دیدہ لومڑی نے بہت پہلے احتیاطاً اس غار کے ایک گوشے میں گڑھا کھود رکھا تھا اور اس کے منہ پر گھاس پھوس بچھا دی تھی، جبکہ اپنے باہر نکلنے کے لیے ایک الگ راہ بنا رکھی تھی۔ اس نے جلدی سے گھاس پھوس کو درست کرکے آواز لگائی:
“اے مہمانو! جلد قدم رنجہ فرمائیے۔”
یہ کہہ کر وہ خود اس خفیہ راستے پر جا کھڑی ہوئی۔ خرگوش اور بھیڑیا دونوں جلدی سے اندر داخل ہوئے۔ جیسے ہی ان کا پاؤں گھاس پر پڑا، دونوں اس گڑھے میں جا گرے۔
بھیڑیا سمجھ گیا کہ یہ دھوکہ اسی خرگوش نے دیا ہے اور مجھے گرفتار کروایا ہے۔ غصے میں آکر اس نے خرگوش کو چیر ڈالا، خود بھی وہیں ہلاک ہو گیا اور لومڑی اپنی چالاکی سے محفوظ رہی۔


