ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے۔ دونوں نے تجارت کرنے کا ارادہ کیا اور ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ ان میں سے ایک نہایت عقل مند مگر حد سے زیادہ چالاک تھا۔ وہ اپنی چالاکیوں اور لوگوں کو دھوکا دینے کی عادت کی وجہ سے مکار چند کے نام سے مشہور تھا۔ دوسرا بہت سادہ لوح اور غافل تھا۔ وہ نفع اور نقصان میں بھی زیادہ فرق نہیں کر پاتا تھا، اس لیے لوگ اسے بھولا رام کہتے تھے۔
دونوں دوست کئی دن تک سفر کرتے رہے۔ راستے میں مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے ایک دن انہیں اچانک ایک تھیلا نظر آیا۔ انہوں نے قریب جا کر دیکھا تو اس میں اشرفیوں کی بڑی مقدار موجود تھی۔
دونوں یہ خزانہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔
مکار چند نے کہا:
“بھائی! کبھی کبھی انسان کو بغیر محنت کے بھی فائدہ حاصل ہو جاتا ہے۔ ہمیں ان اشرفیوں پر قناعت کرنی چاہیے۔ اب تجارت کی کیا ضرورت ہے؟ بہتر ہے کہ ہم واپس اپنے شہر چلیں اور آرام سے زندگی گزاریں۔”
بھولا رام نے بھی اس کی بات سے اتفاق کیا۔ دونوں واپس شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔
شہر کے قریب پہنچ کر ایک سنسان جگہ پر رک گئے۔ بھولا رام نے کہا:
“بھائی! اب تو ہمیں یہ اشرفیاں آپس میں تقسیم کر لینی چاہئیں۔”
مکار چند نے فوراً جواب دیا:
“نہیں، ابھی تقسیم کرنا مناسب نہیں۔ اگر ہم ساری رقم اپنے ساتھ گھروں میں لے گئے تو لوگوں کو شک ہو سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کچھ رقم اپنے خرچ کے لیے نکال لیتے ہیں اور باقی اشرفیاں کسی محفوظ جگہ دفن کر دیتے ہیں۔ جب ضرورت پڑے گی، ہم یہاں سے تھوڑی تھوڑی رقم نکال لیا کریں گے۔”
بھولا رام کو یہ مشورہ بہت اچھا لگا۔ اس نے اپنے چالاک دوست پر مکمل اعتماد کیا۔ دونوں نے اشرفیوں کا تھیلا ایک بڑے درخت کے نیچے زمین کھود کر دفن کر دیا اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
لیکن مکار چند کے دل میں پہلے ہی ایک شیطانی منصوبہ بن چکا تھا۔
اسی رات وہ چپکے سے گھر سے نکلا، درخت کے پاس پہنچا، زمین کھودی اور اشرفیوں کا پورا تھیلا نکال کر اپنے گھر لے گیا۔
ادھر بھولا رام کو اس چوری کا ذرا بھی علم نہ تھا۔ وہ اپنے پاس موجود تھوڑی سی رقم خرچ کرتا رہا۔ کچھ ہی دنوں میں اس کی رقم ختم ہوگئی۔
آخرکار وہ مکار چند کے پاس گیا اور بولا:
“بھائی! میرے پاس تو اب ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں رہی۔ چلو، درخت کے نیچے دفن اشرفیوں میں سے کچھ رقم نکال لیتے ہیں۔”
مکار چند نے ایسے ظاہر کیا جیسے اسے اس بات کی بہت خوشی ہوئی ہو۔
“ہاں ہاں، کیوں نہیں! چلو ابھی چلتے ہیں۔”
دونوں درخت کے پاس پہنچے۔ انہوں نے زمین کھودی، مگر وہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔
مکار چند نے فوراً غصے کا ڈراما شروع کر دیا۔ اس نے بھولا رام کا گریبان پکڑ کر کہا:
“اشرفیاں تم ہی لے گئے ہو! تمہارے علاوہ کسی کو اس جگہ کا علم ہی نہیں تھا۔”
بھولا رام حیران ہو کر بولا:
“خدا کی قسم! میں نے ایک اشرفی بھی نہیں لی۔ مجھے تو خود معلوم نہیں کہ یہ رقم کہاں گئی۔”
مگر مکار چند نے اس کی ایک نہ سنی۔ دونوں کے درمیان سخت بحث شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ جھگڑے تک پہنچ گیا۔
آخر مکار چند بھولا رام کو قاضی کی عدالت میں لے گیا اور اس پر چوری کا الزام لگا دیا۔
قاضی نے دونوں کا بیان سنا۔ جب بھولا رام نے صاف انکار کیا تو قاضی نے مکار چند سے کہا:
“اگر تمہارا دعویٰ درست ہے تو کوئی گواہ پیش کرو۔”
مکار چند نے بڑی چالاکی سے جواب دیا:
“اے قاضی! اس معاملے کا گواہ وہی درخت ہے جس کے نیچے ہم نے اشرفیاں دفن کی تھیں۔ اس کے سوا ہمارا کوئی گواہ نہیں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ اپنی قدرت سے اس درخت کو زبان دے گا اور وہ سچائی ظاہر کر دے گا۔”
قاضی کو اس عجیب دعوے پر حیرت ہوئی، مگر اس نے کہا:
“اچھا، کل ہم سب اس درخت کے پاس جائیں گے۔ اگر وہاں سے کوئی گواہی ملتی ہے تو پھر فیصلہ کیا جائے گا۔”
مکار چند خوشی خوشی گھر واپس آیا اور اپنے بوڑھے باپ کو سارا منصوبہ بتا دیا۔
اس نے کہا:
“ابا جان! میں نے ایک چال چلی ہے۔ اگر آپ میری مدد کریں تو یہ اشرفیاں ہمیشہ کے لیے ہماری ہو سکتی ہیں۔ درخت کے تنے میں ایک کھوہ ہے۔ آپ رات کے وقت اس میں چھپ کر بیٹھ جائیں۔ کل جب قاضی درخت سے گواہی مانگے گا تو آپ اندر سے آواز دے کر کہیں کہ اشرفیاں بھولا رام لے گیا ہے۔ اس طرح میرا دعویٰ سچ ثابت ہو جائے گا۔”
بوڑھے باپ نے یہ سن کر کہا:
“بیٹا! دھوکا دہی سے باز آ جاؤ۔ اگر تم آج لوگوں کو دھوکا دے بھی دو تو کیا کل اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکا دے سکو گے؟ یاد رکھو، مکار آدمی اکثر اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری یہ چال تمہارے لیے ذلت کا سبب نہ بن جائے۔”
مکار چند نے کہا:
“ابا جان! آپ صرف ایک مرتبہ میری مدد کر دیں۔ اس کے بعد ہم ساری زندگی آرام سے گزاریں گے۔”
بیٹے کی محبت اور مال کی لالچ نے آخرکار بوڑھے کو بھی کمزور کر دیا۔ اس نے بیٹے کی بات مان لی اور رات کے اندھیرے میں درخت کے تنے کی کھوہ میں جا کر چھپ گیا۔
اگلی صبح قاضی چند لوگوں کے ساتھ اس درخت کے پاس پہنچا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہ عجیب واقعہ دیکھنے کے لیے جمع ہوگئی۔
قاضی نے درخت کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا:
“اے درخت! اگر تم اس معاملے کے گواہ ہو تو بتاؤ کہ دفن کی ہوئی اشرفیاں کون لے گیا؟”
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد درخت کے اندر سے ایک آواز آئی:
“اشرفیاں بھولا رام لے گیا ہے۔ اس نے مکار چند پر ظلم کیا ہے۔”
یہ آواز سن کر تمام لوگ حیران رہ گئے۔
لیکن قاضی بہت سمجھ دار تھا۔ اسے فوراً شک ہوا کہ درخت کے اندر کوئی شخص چھپا ہوا ہے۔
اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر حکم دیا:
“اس درخت کے اردگرد خشک لکڑیاں جمع کرو اور انہیں آگ لگا دو۔”
لوگوں نے حکم کی تعمیل شروع کر دی۔ جلد ہی دھواں درخت کی کھوہ میں داخل ہونے لگا۔
کھوہ کے اندر چھپا ہوا بوڑھا دھوئیں سے بے حال ہوگیا۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ آخرکار وہ برداشت نہ کر سکا اور چیخنے لگا:
“مجھے باہر نکالو! میری جان بچاؤ! میں سب کچھ سچ سچ بتاتا ہوں!”
قاضی نے فوراً اسے باہر نکلوایا اور سختی سے پوچھا:
“تم درخت کے اندر کیوں چھپے ہوئے تھے؟ حقیقت کیا ہے؟”
بوڑھا خوف کے مارے مزید جھوٹ نہ بول سکا۔ اس نے پوری حقیقت قاضی کے سامنے بیان کر دی کہ کس طرح مکار چند نے اشرفیاں خود نکالی تھیں اور پھر بھولا رام کو چور ثابت کرنے کے لیے یہ سارا ڈراما رچایا تھا۔
اب مکار چند کی تمام چالاکی اور اس کی سازش سب کے سامنے آچکی تھی۔
قاضی نے بھولا رام کو بے گناہ قرار دیا اور مکار چند کو اس کی بددیانتی اور جھوٹ پر سخت سزا سنائی۔
مکار چند کو اپنی مکاری پر بے حد شرمندگی ہوئی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس کی چالاکی نے اسے عزت دینے کے بجائے ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔
یوں مکار چند کا بچھایا ہوا جال اسی کے لیے مصیبت بن گیا، جبکہ بھولا رام اپنی سچائی اور ایمانداری کی وجہ سے سرخرو ہوا۔
سبق
جھوٹ، دھوکا اور مکاری وقتی طور پر کامیابی کا راستہ دکھا سکتے ہیں، مگر آخرکار سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ جو شخص دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، اکثر خود ہی اس میں جا گرتا ہے۔


