لالچ کی وجہ سے ہاتھی کے بچوں کو کھانے والوں کا قصہ

لالچ کی وجہ سے ہاتھی کے بچوں کو کھانے والوں کا قصہ



تُو نے وہ قصہ سُنا ہے کہ ہندوستان میں ایک عقلمند نے دوستوں کے ایک گروہ کو دیکھا، بھوکے، تھکے ہوئے، بے ساز و سامان اور ننگے، سفر سے دراز راستہ سے آ رہے تھے،
اُس کی دانائی کی محبت جوش میں آئی اور اُن کو تپاک سے سلام کیا اور پھول کیطرح کِھل گیا۔ بولا، میں جانتا ہوں کہ بھوک سے پورا معدہ خالی ہونے سے تم پر میدانِ کربلا کی سی مصبتیں جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن خدا کے لئے اے دوستو! تم ہاتھی کے بچے کو ہر گز نہ کھانا۔ جس جانب تم اب جا رہے ہو، ہاتھی ہے، دل و جان سے میری نصیحت سُن لو، تمہارے راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں جن کا شکار تمہیں بہت مرغوب ہے، نہایت عمدہ اور پاکیزہ اور موٹے ہیں، لیکن اُن کی ماں گھات میں رہتی ہے، اپنے بچے کی خاطر سینکڑوں میل کے راستہ سے وہ روتی ہوئی اور ہائے ہائے کرتی ہوئی دوڑتی ہے۔
اُس کے قابلِ رحم بچے سے بچو۔
یہ کہا اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا، قحط اور بھوک نے راستہ میں زور پکڑا اور ایک راستہ پر انھوں نے اچانک دیکھا ایک ہاتھی کا بچہ، موٹا، نو عمر، وہ مست بھیڑیوں کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑے، اس کو چٹ کر گئے اور انھوں نے ہاتھ دھو لئے، ایک ساتھی نے نہ کھایا اور نصیحت کی کیونکہ اُس کو اُس فقیر کی بات یاد تھی وہ بات اُس کے لئے اُس کے کباب سے مانع بنی، پرانی عقل سے اُسے نیا نصیبہ عنایت ہوا۔ پھر وہ لیٹ گئے اور سو گئے، وہ بھوکا ان دوستوں کے گل٘ے میں چرواہے کی طرح تھا، اُس نے دیکھا کہ ایک خوفناک ہاتھی آ پہنچا، پہلے آیا اور نگہبان کی طرف دوڑا اُس کے منہ کو اُس نے تین دفعہ سونگھا اُس کو کوئی ناگوار بُو نہ آئی چند بار اس کے گرد چکر کاٹے اور چلا گیا اس بڑے موٹے ہاتھی نے اس کو نہ ستایا۔ پھر اس نے ہر سوئے ہوئے کے ہونٹ سونگھے اس کو اس سوئے ہوئے آدمی سے بُو آتی تھی کیونکہ اس نے ہاتھی کے بچہ کے کباب کھائے تھے, ہاتھی نے اس کو پھاڑ دیا اور مار ڈالا اس نے فوراً اس گروہ میں سے ایک ایک کو پھاڑ ڈالا اور اس کو کوئی خوف نہ تھا, وہ بے پرواہی سے ہر ایک کو ہوا میں اُچھالتا یہاں تک کہ وہ زمین پر آ گرتا اور پھٹ جاتا.
ہاتھی ہر کھانے والے کا منہ سونگھتا ہر انسان کے معدے کے چکر لگاتا تاکہ کہیں اپنے بچے کے کباب کی خوشبو پالے تاکہ بدلے میں سو زخم لگائے۔ ہاتھی کے بچوں کی ماں بدلہ لیتی ہے ہاتھی کے بچہ کے کھانے والے کو بدلے میں مار ڈالتی ہے.
اے رشوت خور! تُو ہاتھی کا بچہ کھاتا ہے, ہاتھی اپنے بچہ کی خوشبو پہچانتا ہے,
وہ ذات جو اللّٰہ کی خوشبو “یمن” (اویس قرنی رضی اللّٰہ عنہ) سے سونگھ لے وہ میرے باطن کی بُو کو کیوں محسوس نہ کر لے گی,
مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دور دراز راستہ سے بُو محسوس کر لی ہمارے منہ کی بُو کیوں نہ محسوس کر لیں گے, وہ محسوس کر لیتے ہیں مگر ہم سے چھپاتے ہیں, اچھی اور بری بُو آسمان پر پہنچتی ہے, تُو سو جاتا ہے اور اس حرام کی بُو نیلگوں آسمان پر پہنچتی ہے وہ تیرے بُرے سانسوں کے ساتھ ہو جاتی ہے یہانتک کہ آسمان کی خوشبو سونگھنے والوں تک پہنچتی ہے,
تکبر کی بُو, غصہ کی بُو, حرص کی بُو, پیاز کی طرح بات کرنے میں محسوس ہو جاتی ہے,
اس بُو کی وجہ سے دعائیں مردود ہوں گی اور دل کی کجی زبان پر نمایاں ہو جاتی ہے, اگر الفاظ ٹیڑھے ہوں اور معنی سیدھے ہوں وہ لفظوں کی ٹیڑھ, اللّٰہ کے یہاں مقبول ہے اور اگر معنی ٹیڑھے اور الفاظ اچھے ہوں تو ایسے اچھے الفاظ, لومڑی کے قابل بھی نہیں.

اے لڑکے! اولیاء کو اللّٰہ کے بچوں کی طرح سمجھ لے، وہ اُن کی موجودگی اور غیر حاضری میں اُن سے باخبر ہے، وہ اُن کی جان کے سلسلے میں بدلہ لیتا ہے،
خبردار، خبردار، یہ گدڑی پوش میرے ہیں ہزاروں ہزار ہیں اور ایک ہیں۔
تُو اللّٰہ کے بندوں کے گوشت کھاتا ہے اُن کی غیبت کرتا ہے، سزا پاتا ہے۔ خبردار! تمہارے منہ کی خوشبو سونگھنے والا خدا ہے سوائے اُس کے جو سچا ہے کون جان بچا سکتا ہے۔

تصنیف:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. مثنوی مولوی معنوی

Leave a Reply

NZ's Corner