گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں ایک غریب عورت اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ غربت اس گھر کی ایسی مہمان تھی جو چاہے جتنی بار نکالو، اگلے دن پھر دروازے پر کھڑی مل جاتی۔ گھر میں اناج ناپ کر استعمال ہوتا، آٹا گوندھتے وقت عورت کی نظریں پیالے میں موجود آٹے پر ہوتی، اور چولہے پر روٹی پکاتے ہوئے وہ پہلے بچوں کی روٹیاں گنتی، پھر اپنے لیے کوئی چھوٹا سا ٹکڑا بچا لیتی۔ ایک دن اسے کچھ گندم کے دانے نصیب ہوئے۔ اس نے انہیں صاف کیا اور گھر کے صحن میں ایک چٹائی پر پھیلا دیا تاکہ ہوا لگ جائے اور دانوں کی نمی نکل جائے۔ پھر وہ گھر کے دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ اگلی صبح جب وہ دانے سمیٹنے آئی تو اچانک اس کی نظر ایک لمبی قطار پر پڑی۔ چیونٹیاں ایک کے پیچھے ایک چلی آ رہی تھیں۔ کوئی ایک دانہ اٹھائے ہوئے تھا، کوئی دوسرے کو گھسیٹ رہا تھا، اور کچھ ایسی تھیں جو ایک بڑے دانے کے گرد جمع ہو کر اسے اپنے بل کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ عورت کچھ دیر انہیں دیکھتی رہی۔ دل میں خیال آیا کہ اگر آج یہ دانے کم ہوگئے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا؟ مگر پھر اس نے ہاتھ روک لیا۔ “چلو، تمہارا بھی تو رزق ہے،” اس نے آہستہ سے کہا اور واپس چلی گئی۔ اگلے دن پھر وہی منظر تھا۔ تیسرے دن بھی چیونٹیاں آئیں۔ چوتھے دن بھی۔ کبھی چیونٹیاں دانہ اٹھا لے جاتیں، کبھی کوئی چھوٹا سا کیڑا اسے کھینچتا ہوا لے جاتا۔ عورت ہر روز انہیں دیکھتی اور خاموشی سے گزر جاتی۔ مگر وہ بہت غریب تھی، اس لیے دل کے کسی کونے میں حساب بھی چلتا رہتا تھا: “آخر یہ کتنے دانے لے جائیں گی؟” پھر ایک دن اس نے اپنے آپ کو سمجھایا، “اگر اللہ نے ان کے لیے میرے گھر کا راستہ کھولا ہے تو شاید ان کا رزق میرے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔” پورا ہفتہ گزر گیا۔ اب اسے ان دانوں کی سخت ضرورت تھی۔ گھر کا آٹا ختم ہونے لگا تھا اور بچوں کے لیے روٹی بنانی تھی۔ وہ صبح چٹائی کے پاس پہنچی اور دانے اٹھانے کے لیے جھکی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے دانے سمیٹنے چاہے، مگر حیران رہ گئی۔ “یہ کیا؟” اس نے دوبارہ کوشش کی۔ جن دانوں کو وہ ایک ہفتہ پہلے آسانی سے اٹھا کر یہاں لائی تھی، آج وہی اسے غیر معمولی طور پر بھاری محسوس ہو رہے تھے۔ اس نے زور لگایا، پھر بھی پورا ڈھیر نہ اٹھا سکی۔ آخر اس نے سوچا کہ شاید ہاتھ کمزور ہیں۔ اس نے دانوں کا آدھا حصہ الگ کیا اور بڑی مشکل سے اٹھا لیا۔ پھر باقی آدھے اٹھانے کے لیے جھکی تو ایک عجیب خیال اس کے دل میں بجلی کی طرح چمکا۔ وہ دیر تک دانوں کو دیکھتی رہی۔ اسے یاد آیا کہ پورا ہفتہ چیونٹیاں اور کیڑے مسلسل ان میں سے دانے لے جا رہے تھے۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ جو ڈھیر پہلے اس کے لیے آسانی سے اٹھ جاتا تھا، آج اس کا آدھا حصہ بھی مشکل سے اٹھ رہا ہے؟ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اچانک برسوں پرانی ایک تصویر ابھر آئی۔ اس کی ماں صحن میں بیٹھی تھی اور وہ بچی تھی۔ ماں نے اسے روٹی کا ایک ٹکڑا کسی بھوکے جانور کے آگے رکھتے ہوئے کہا تھا، “بیٹی! کبھی یہ مت سوچنا کہ تم نے کسی کو کھلا دیا تو تمہارا کھانا کم ہوگیا۔ اللہ کی مخلوق میں سے جو کوئی تمہارے دروازے پر آتا ہے، وہ اپنا رزق لے کر آتا ہے۔ تم اسے کھلاتی ہو تو تم صرف اس کے رزق کا وسیلہ بنتی ہو، اور اگر نہیں کھلاتی تو وہ اپنا رزق کہیں اور سے لے لیتا ہے۔” اس وقت وہ بچی تھی، اس نے ماں کی بات سنی تھی مگر سمجھی نہیں تھی۔ آج، برسوں بعد، ایک چٹائی پر بکھرے چند دانوں نے اس جملے کا مطلب اس کے سامنے کھول دیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے دانوں پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا، “اماں! تم ٹھیک کہتی تھیں، یہ دانے میں نے نہیں دیے تھے، شاید اللہ نے ان کا رزق میرے گھر سے لکھا تھا۔” وہ کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر اس نے چیونٹیوں کے بل کی طرف دیکھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جن چیونٹیوں کو وہ پہلے اپنے دانوں کی کمی سمجھ رہی تھی، وہ دراصل اسے رزق کی ایک ایسی حقیقت سمجھانے آئی تھیں جسے وہ برسوں سے صرف ایک نصیحت سمجھتی رہی تھی۔ اس دن کے بعد اس عورت نے ایک عجیب عادت بنا لی۔ جب بھی وہ گندم یا کوئی اور اناج دھوپ اور ہوا لگانے کے لیے صحن میں پھیلاتی، وہ اس میں سے تھوڑا سا حصہ جان بوجھ کر ایک طرف رکھ دیتی۔ چیونٹیاں آتیں، چڑیاں آتیں، کبھی کوئی مکوڑا آتا، کوئی دانہ اٹھا کر لے جاتا، کوئی وہیں بیٹھ کر کھا لیتا۔ عورت انہیں دیکھ کر بس اتنا کہتی، “لے جاؤ، یہ تمہارا رزق ہے۔” حیرت یہ تھی کہ اب وہ پہلے سے کم گندم خریدتی تھی، مگر اس کا اناج پہلے سے زیادہ دن چلتا۔ ایک سال اس نے جتنا اناج عام طور پر پورے سال کے لیے خریدا تھا، اس سے آدھے سے بھی کم خریدا، مگر وہ سال ختم ہونے کے قریب تھا اور اس کے گھر کے مٹکے میں پھر بھی گندم باقی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کیسے ہو رہا ہے۔ اگلے سال بھی اس نے یہی کیا۔ اس کے پاس جتنا آتا، وہ اس میں سے مخلوقِ خدا کا حصہ نکال دیتی۔ اور جتنا وہ نکالتی، اس کے گھر کا حساب اتنا ہی آسان ہوتا جاتا۔ اب گاؤں کی عورتیں اس سے پوچھنے لگیں، “تمہارے گھر میں آخر ایسا کیا ہے کہ تم کم اناج لاتی ہو اور پھر بھی سال بھر گزارا ہو جاتا ہے؟” وہ مسکرا کر کہتی، “میرے گھر میں کچھ نہیں، بس میں نے اپنے دانوں میں دوسروں کا حصہ نکالنا سیکھ لیا ہے۔” ایک عورت نے حیرت سے پوچھا، “دوسروں کا حصہ نکال کر تمہارا رزق کیسے بڑھ جاتا ہے؟” وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی، “میں نہیں جانتی کہ اللہ کے ہاں حساب کیسے ہوتا ہے، میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ جب میں نے دانے گن کر رکھے تو وہ کم پڑتے تھے، اور جب میں نے ان میں سے کچھ اللہ کی مخلوق کے لیے چھوڑ دیے تو وہ ختم ہونے کے بجائے چلتے رہے۔” پھر وہ اکثر اپنے بچوں کو بھی اپنی ماں کی وہی بات سناتی: “یاد رکھنا، جو مہمان تمہارے دروازے پر آئے، اسے صرف یہ دیکھ کر مت لوٹانا کہ ہمارے پاس کم ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنا رزق لینے آیا ہو، اور اللہ نے تمہیں صرف اس رزق کا امین بنایا ہو۔” اس عورت کی زندگی میں شاید کوئی بڑا خزانہ نہیں آیا، نہ اس کے گھر کی کچی دیواریں محل بنیں، نہ اس کے پاس دولت کے ڈھیر لگے، مگر اس کے گھر میں ایک ایسی برکت ضرور آ گئی تھی جسے وہ ہاتھ سے چھو نہیں سکتی تھی۔ اس کے بچوں کے پیٹ بھرنے لگے، چولہا زیادہ اطمینان سے جلنے لگا، اور جب بھی کوئی چڑیا اس کے صحن میں آ کر دانہ چگتی تو اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے گھر سے کچھ جا نہیں رہا، بلکہ کوئی دعا چھوڑ کر جا رہا ہے۔
حاصلِ سبق:
اللہ کی مخلوق کو کھلانا صرف ایک نیکی نہیں، دل میں یقین پیدا کرنے والا عمل بھی ہے۔ انسان اپنے رزق میں سے تھوڑا سا اللہ کی مخلوق کے لیے چھوڑ دے تو اسے ہمیشہ یہ خوف نہیں رکھنا چاہیے کہ اس کا حصہ کم ہو جائے گا؛ رزق کا اصل مالک وہی ہے جو چیونٹی کے لیے ایک دانہ اور انسان کے لیے ایک پورا سال پیدا کر سکتا ہے۔ کبھی کبھی ہمارے ہاتھ سے نکلنے والا ایک دانہ، اللہ کے ہاں ہمارے گھر کی برکت کا سبب بن جاتا ہے۔


