ایک شخص جوانی میں جانور چراتا تھا، مگر آہستہ آہستہ غلط راستے پر چل پڑا۔ پہلے چوری کی، پھر ڈکیتیاں کرنے لگا اور آخرکار قتل جیسے سنگین جرائم میں بھی ملوث ہوگیا۔
کئی بار گرفتار ہوا، مگر کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ نکلتا رہا۔
پھر ایک دن ایک قتل کے مقدمے میں اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ اپیلیں بھی ہوئیں، مگر فیصلہ نہ بدلا۔
پھانسی سے چند دن پہلے اس کی ماں آخری ملاقات کے لیے جیل پہنچی۔
بیٹے نے ماں کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“امّاں! اللہ جانتا ہے، جس قتل کی سزا مجھے ملی ہے، وہ قتل میں نے نہیں کیا۔”
ماں پریشان ہو کر ایک بزرگ درویش کے پاس گئی اور ساری بات بتائی۔
درویش کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“اپنے بیٹے سے کہنا… وہ بھینس شاید آج بھی اسے نہیں بھولی۔”
ماں حیران رہ گئی۔
جیل واپس آ کر اس نے بیٹے سے پوچھا:
“بیٹا، اس بزرگ نے بھینس کا ذکر کیوں کیا؟”
یہ سنتے ہی بیٹے کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ وہ دیر تک خاموش رہا، پھر بولا:
“امّاں… بہت سال پہلے میں ایک گاؤں سے ایک بھینس چوری کرکے لے جا رہا تھا۔ اس کا چھوٹا سا بچھڑا بھی اپنی ماں کے پیچھے چل پڑا۔”
“گاؤں والے ہمارے پیچھے آ رہے تھے۔ بچھڑا بار بار پیچھے رہ جاتا، اور مجھے ڈر تھا کہ اس کی وجہ سے میں پکڑا جاؤں گا۔”
وہ کانپتی آواز میں بولا:
“میں نے بندوق نکالی… اور اس معصوم بچھڑے کو مار دیا۔”
ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
بیٹا بولا:
“بھینس کچھ دیر اپنے بچے کے پاس کھڑی رہی۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا… جیسے سب کچھ سمجھ گئی ہو۔”
“امّاں! وہ منظر آج تک مجھے نہیں بھولا۔ میں نے بہت برے کام کیے، مگر اس دن پہلی بار مجھے اپنے ظلم کا احساس ہوا تھا۔”
وہ رونے لگا۔
“مجھے نہیں معلوم کہ جس قتل کی سزا مجھے ملی، وہ میں نے کیا تھا یا نہیں… لیکن شاید یہ میرے اُن اعمال کا حساب ہے جنہیں میں خود بھول چکا تھا۔”
ماں خاموش بیٹھی رہی۔
انسان اپنے گناہوں کو وقت کے ساتھ بھول سکتا ہے، مگر ظلم کبھی بے نشان نہیں ہوتا۔
کبھی کسی عدالت کا فیصلہ دیر سے آتا ہے، مگر ضمیر کی عدالت بہت پہلے فیصلہ سنا چکی ہوتی ہے۔

