کسی کو راز دار نہ بناؤ

کسی کو راز دار نہ بناؤ

      
ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔
اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:
“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”
بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:
“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں ایک خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میں اپنے کسی بھی مصاحب کو اعتماد کے قابل نہیں سمجھتا، البتہ مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انتہائی رازداری میں تم پر اپنا راز ظاہر کرلوں۔”
وزیر نے انتہائی ادب اور فرمانبرداری کے ساتھ ہاتھ جوڑ کر عرض کیا:
“اگرچہ یہ ناچیز اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ جہاں پناہ اپنا راز مجھ پر ظاہر کریں، بہرحال اگر آپ نے مجھے اس لائق سمجھا ہے تو اس راز کو جان سے بھی زیادہ عزیز رکھوں گا، یہاں تک کہ ہوا بھی اس کو پا نہ سکے گی۔”
بادشاہ نے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہوئے کہا:
“مجھے اپنے بھائی کی طرف سے ہمیشہ ایک اندیشہ سا رہتا ہے۔ اس کی حرکات و سکنات پر نظر کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے قتل کے درپے ہے۔ اور میں نے بھی یہ طے کر لیا ہے کہ اس کے مجھے کوئی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی میں اس کا صفایا کر دوں۔ تمہیں چاہیے کہ تم مسلسل اس کی نگرانی کرو، اور میری حفاظت کا خیال رکھو۔”
وزیر نے بظاہر تو وفاداری اور رازداری کا وعدہ کر لیا، لیکن اس کے دل میں خیانت نے راہ پا لی اور وہ اپنے ہی آقا کے ساتھ دغابازی پر اتر آیا۔
وزیر پہلی فرصت میں موقع پا کر بادشاہ کے بھائی کے پاس پہنچا اور سارا اندرونی واقعہ اسے سنا ڈالا۔ بادشاہ کے بھائی نے یہ خبر سن کر خوشی کا اظہار کیا، وزیر کو شاندار انعام و اکرام سے نوازا، اور دونوں نے مل کر ایک خطرناک سازش تیار کی۔ اس کے بعد وزیر موقع پاتے ہی بادشاہ کو اس کے بھائی کے خلاف مسلسل اکساتا رہا اور آخرکار ایک سازش کے تحت موقع پا کر بادشاہ کو اس کے اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل کروا دیا، یوں خود پوری سلطنت پر قابض ہو گیا۔
جیسا ہی نیا حاکم تخت نشین ہوا، تو اس نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے اس غدار وزیر کو دربار میں پیش کرنے اور قتل کر دینے کا حکم صادر کیا۔
وزیر نے یہ سن کر ہاتھ جوڑے اور دست بستہ عرض کیا:
“حضور کا اقبال بلند ہو! میرا گناہ کیا ہے؟ یہ کون سا قبلہ ہے جو مجھ پر سجا جا رہا ہے؟”
نئے بادشاہ نے غصے سے کہا:
“تیرا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو نے کسی کا راز دوسروں پر ظاہر کیا۔ میرے بھائی نے تجھے اپنا راز دار بنایا تھا، کیا اس کا بدلہ یہی تھا کہ تو نے اس کا راز فاش کر کے اسے میرے ہاتھوں سے قتل کروا دیا؟ جو شخص اپنے پہلے آقائے نعمت کا وفادار نہ رہا، اور جس نے ذرا سی طمع کے لیے نمک حرامی کی، اس پر میں یا کوئی بھی انسان دوبارہ کیسے اعتماد کر سکتا ہے؟”
وزیر نے اپنی جان بخشش کے لیے بہت معذرت کی اور عذر پیش کیے، مگر بادشاہ نے ایک نہ سنی اور بے دردی سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا

Leave a Reply

NZ's Corner