ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔
اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ اس طرح کسی کو ہم پر شک نہیں ہوگا۔“
چنانچہ سب نے درویشوں کا لباس پہن لیا اور شہر کی ایک مہمان سرائے میں جا ٹھہرے۔ وہ دن رات تسبیح پڑھنے کا دکھاوا کرتے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کی شہرت پھیل گئی کہ شہر میں چند نیک اور پرہیزگار درویش آئے ہیں۔
یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بھی ان کی زیارت کے لیے آیا اور انہیں اپنے محل میں دعوت دی۔
بادشاہ کا اکلوتا بیٹا عرصے سے فالج کے مرض میں مبتلا تھا۔ بڑے بڑے حکیموں سے علاج کروایا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کھانے کے بعد بادشاہ نے روتے ہوئے عرض کیا:
“اللہ کے نیک بندو! میرے بیٹے کے لیے دعا کیجیے۔ اس کے سوا میرا کوئی اور بیٹا نہیں۔ میری ساری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں۔”
بادشاہ کی درد بھری فریاد سن کر سب خاموش ہو گئے۔
ڈاکوؤں کے سردار نے پہلی مرتبہ کسی باپ کی بے بسی کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا، پھر سب نے ہاتھ اٹھا دیے۔
سردار کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے دل سے دعا کی:
اے اللہ! ہم گناہ گار ہیں، مگر تیرے در کے سوا ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اپنے اس بے بس بندے پر رحم فرما اور بادشاہ کی مشکل آسان کر دے!”
دعا کے بعد بادشاہ اپنے بیٹے کے پاس چلا گیا۔ کچھ وقت گزرا تو شہزادے کی حالت میں بہتری کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اللہ کی رحمت سے اس کی صحت بحال ہونے لگی اور بالآخر وہ دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا۔
جب بادشاہ نے اپنے بیٹے کو صحت یاب دیکھا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور درویشوں کو ڈھیروں انعامات پیش کیے۔
لیکن اس واقعے نے ڈاکوؤں کے سردار کے دل میں ایک عجیب ہلچل پیدا کر دی۔
وہ تنہائی میں بیٹھا سوچنے لگا:
“ہم تو لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے درویش بنے تھے۔ ہمارا ذکر بھی دکھاوا تھا، مگر آج ہم نے ایک مجبور انسان کے لیے دعا کی اور اللہ نے اپنی رحمت سے اسے شفا عطا فرمائی۔ اگر ہم دکھاوے کی زندگی چھوڑ کر سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع کر لیں تو ہماری زندگی کیوں نہیں بدل سکتی؟”
یہ خیال اس کے دل میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
“بھائیو! ہم نے ساری عمر لوگوں کو دھوکا دیا، اب مزید خود کو دھوکا نہیں دیں گے۔ آؤ، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور ایک نئی زندگی شروع کریں۔”
سردار کی بات سن کر سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ان کے دلوں میں بھی ندامت پیدا ہو چکی تھی۔
انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی، لوٹا ہوا مال واپس کرنے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا عزم کیا اور اپنی زندگی بدلنے کی کوشش شروع کر دی۔
جو لوگ کبھی دوسروں کے لیے خوف کی علامت تھے، اب وہ اپنی اصلاح اور نیکی کے راستے پر چلنے لگے۔
