مرغے میاں کو اپنی آواز سے عشق تھا۔ صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار بھی نہ ہوتی کہ وہ چھت پر چڑھ کر گردن اکڑاتا، سینہ پھلاتا، آنکھیں بند کرتا اور اپنی پوری قوت سے بانگ دینا شروع کر دیتا۔ اس کے نزدیک یہ محض اذان نہیں تھی، ایک فن تھا، ایک عبادت تھی، ایک ایسا اعلان تھا جسے وہ چاہتا تھا کہ دنیا کے آخری کنارے تک سنا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کے فن کے سب سے بڑے ناقد اس کے اپنے گھر والے تھے۔ ابھی پہلی بانگ مکمل نہ ہوتی کہ کبھی مالک کی چپل فضا میں اڑتی، کبھی مالکن کی ڈانٹ آسمان سر پر اٹھا لیتی، اور کبھی مالک غصے میں باہر نکل کر اسے یوں بھگاتا جیسے اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ مرغے میاں دل ہی دل میں کڑھتے، “آخر میری آواز میں خرابی کیا ہے؟ دنیا میں گلوکاروں کی قدر ہوتی ہے، شاعروں کو سنا جاتا ہے، نقارے بجائے جاتے ہیں، مگر جب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہوں تو سب کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول جاتے ہیں؟” انہوں نے کئی مرتبہ وقت بدل کر بھی دیکھا۔ کبھی مالک کے سونے کے فوراً بعد بانگ دی، کبھی اتنی صبح اٹھے کہ خود اندھیرے میں اپنی چونچ سے راستہ ٹٹولتے پھریں، اور کبھی اس وقت آواز نکالی جب انہیں یقین تھا کہ گھر کے تمام افراد گہری نیند میں ہوں گے۔ مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی جاگ جاتا اور مرغے میاں کو اپنی آواز کا معاوضہ چپل، ڈانٹ یا بھگدڑ کی صورت میں ملتا۔ آخر ایک دن ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب انسانوں کی بستی میں رہنا ان کی عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ “جس معاشرے میں فن کی قدر نہ ہو، وہاں فنکار کا کیا کام؟” یہ کہتے ہوئے انہوں نے گھر کی دیوار پھلانگی اور جنگل کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے بھر ان کے دل میں خوشی کی لہریں اٹھتی رہیں۔ وہ سوچتے، “جنگل ہی اصل آزادی کی جگہ ہے۔ وہاں نہ کوئی مالک، نہ مالکن، نہ چپل، نہ ڈانٹ۔ وہاں میں اپنی آواز کا بادشاہ ہوں گا!” ابھی وہ جنگل میں پوری طرح داخل بھی نہ ہوئے تھے کہ ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئے۔ انہوں نے اپنے پر جھاڑے، گردن بلند کی، آنکھیں بند کیں اور برسوں کی دبی ہوئی خواہش پوری کرنے کے لیے ایسی زور دار بانگ دی کہ درختوں پر بیٹھے پرندے پھڑپھڑا کر اڑ گئے۔ مگر ابھی دوسری بانگ کی ابتدا ہی ہوئی تھی کہ جھاڑیوں میں حرکت ہونے لگی۔ کہیں سے لومڑی نکلی، کہیں سے بھیڑیا، کہیں سے جنگلی کتے، اور کچھ فاصلے پر ایک تیندوا بھی سر اٹھا کر دیکھنے لگا۔ سب کی نگاہیں مرغے پر تھیں، البتہ کسی کے چہرے پر موسیقی کا ذوق نہیں تھا۔ کسی کو ناشتہ دکھائی دے رہا تھا، کسی کو دوپہر کا کھانا اور کسی کو شام کی دعوت۔ مرغے میاں نے پہلے تو سمجھا کہ شاید ان کے فن کے مداح جمع ہو رہے ہیں، مگر جب ایک بھیڑیے نے دانت نکال کر چھلانگ لگائی تو ان کی آواز حلق ہی میں رہ گئی۔ وہ چٹان سے کودے اور جان بچا کر بھاگے۔ پیچھے درندوں کا ایک ہجوم تھا اور آگے مرغے میاں کی جان۔ کبھی وہ جھاڑیوں میں گھستے، کبھی پتھروں پر پھسلتے، کبھی پروں کو سنبھالتے اور کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتے کہ موت کتنے قدم دور ہے۔ بڑی مشکل سے وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں تعاقب کرنے والے جانور پیچھے رہ گئے۔ ہانپتے ہوئے ایک درخت کے نیچے بیٹھے تو انہیں اپنے مالک کے بیٹے کی پڑھی ہوئی ایک کہانی یاد آئی، جس میں جنگل کا بادشاہ شیر مظلوموں کو انصاف فراہم کرتا تھا۔ ان کے دل میں امید کی ایک نئی شمع روشن ہوئی۔ “اگر دنیا میں کہیں انصاف باقی ہے تو وہ بادشاہ کے دربار میں ہے!” وہ اٹھے، اپنے پر درست کیے اور شیر کے دربار کی طرف چل پڑے۔ شیر اپنے شاہی غار کے سامنے لیٹا ہوا تھا۔ مرغے کو آتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے زبان پر پھرتی پھیرتے ہوئے مرغے کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس کے ذہن میں پہلا خیال آیا کہ اتنے دنوں بعد گوشت کا ایک اچھا نوالہ ہاتھ آیا ہے۔ پھر فوراً دوسرا خیال آیا کہ کہیں یہ جانور جنگل کے کسی مذہبی اصول کے مطابق اس کے لیے ممنوع تو نہیں، اور تیسرا خیال اس سے بھی اہم تھا کہ آخر اسے کھانے سے اس کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ شیر نے اپنی خواہش پر قابو پاتے ہوئے شاہانہ سنجیدگی اختیار کی اور بولا، “آؤ، آؤ! کون ہو تم، اور ہمارے دربار میں کس غرض سے آئے ہو؟” مرغے میاں نے گردن جھکائی اور کہا، “حضور، میرا نام مرغا ہے۔ میں ایک مظلوم مہمان ہوں۔ انسانوں کی بستی میں میری آواز کی قدر نہ ہوئی، اور جب میں امن کی تلاش میں آپ کے جنگل میں آیا تو یہاں کے درندے میری جان کے دشمن بن گئے۔ میں انصاف چاہتا ہوں!” شیر نے ایسے افسوس کا اظہار کیا جیسے جنگل کی تمام ناانصافیاں اسی لمحے اس کے دل پر آن گری ہوں۔ اس نے فوراً اپنے ایک درباری گیدڑ کو بلایا اور کان میں کہا، “جاؤ، جنگل کے امام صاحب سے معلوم کرو کہ مرغے کا گوشت ہمارے مذہبی اصولوں کے مطابق جائز ہے یا ناجائز۔ اور شاہی طبیب سے بھی پوچھو کہ اسے کھانے سے ہماری صحت پر کیا اثر پڑے گا۔” گیدڑ روانہ ہو گیا۔ ادھر مرغے میاں کا دل باغ باغ ہو رہا تھا۔ انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی بڑے عہدے دار کو اتنی توجہ سے اپنی بات سنتے دیکھا تھا۔ انسانوں کی بستی میں تو کوئی ان کی پوری بانگ سننے کو تیار نہ تھا، مگر یہاں جنگل کا بادشاہ ان کے نام، ان کے دکھ اور ان کے کھانے تک کے معاملات پر غور کر رہا تھا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ شیر کی توجہ ان کی مظلومیت سے زیادہ ان کی غذائیت میں دلچسپی رکھتی ہے! شیر نے نہایت ہمدردی سے پوچھا، “اچھا، پھر تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ ذرا تفصیل سے بتاؤ۔” مرغے میاں نے اپنی پوری داستان سنائی۔ مالک کی چپل، مالکن کی ڈانٹ، بار بار کی پٹائی، راتوں کی بے خوابی اور جنگل میں درندوں کے تعاقب تک، کوئی واقعہ نہ چھوڑا۔ شیر سر ہلاتا رہا، کبھی افسوس کرتا، کبھی غصے سے اپنے پنجے زمین پر مارتا۔ جب مرغے نے بتایا کہ وہ جنگل میں پہنچ کر اپنی خوشی سے بانگ دینے لگا تھا اور اسی آواز پر تمام جانور اسے کھانے کے لیے دوڑ پڑے تو شیر کی آنکھوں میں اچانک ایک نئی چمک پیدا ہوئی۔ اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور سوچ میں پڑ گیا۔ چند لمحوں بعد اس نے دل ہی دل میں کہا، “ارے! یہ تو چلتا پھرتا شکار پکڑنے کا آلہ ہے! میں خود شکار کے پیچھے دوڑتا ہوں، کبھی کامیابی ملتی ہے، کبھی ناکامی۔ یہ جہاں بانگ دے گا، جانور خود اپنی جگہوں سے نکل آئیں گے۔ مجھے بس صحیح وقت پر وہاں پہنچنا ہوگا!” اس نے فوراً اپنے پہلے ارادے کو دل سے نکال پھینکا۔ اب مرغے کو کھانے کے بجائے اس کی آواز سے دوسروں کو کھانے کا منصوبہ بن چکا تھا۔ شیر نے گرج دار آواز میں اعلان کیا، “مرغے میاں! آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ جنگل میں مہمان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کروں گا۔ آئیے، میرے ساتھ چلیں۔ آج دیکھتا ہوں کون آپ کو ہاتھ لگاتا ہے!” مرغے میاں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ انہوں نے سینہ پھلایا اور شیر کے ساتھ چل پڑے۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ آخرکار ان کی مظلومیت کا اعتراف ہو گیا ہے۔ دونوں اسی جگہ پہنچے جہاں چند روز پہلے مرغے کو جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا۔ شیر نے اسے اشارہ کیا، “آپ اطمینان سے اپنی آواز بلند کریں۔ اب آپ کو کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔” مرغے میاں نے ایک لمحے کے لیے اردگرد دیکھا، پھر اپنی گردن بلند کی اور بانگ دینا شروع کر دی۔ پہلی آواز کے ساتھ ہی جھاڑیوں میں ہلچل ہوئی۔ دوسری آواز پر لومڑی نمودار ہوئی، پھر بھیڑیا، جنگلی کتے اور دوسرے جانور۔ سب حسبِ عادت مرغے کی طرف لپکے، مگر اس مرتبہ سامنے ایک ایسا منظر تھا جس کی انہیں توقع نہ تھی۔ مرغے کے پیچھے جنگل کا بادشاہ کھڑا تھا۔ جانوروں کے قدم ڈگمگا گئے۔ شیر نے ایک زبردست دھاڑ ماری اور قریب آنے والے ایک جنگلی کتے کو گردن سے دبوچ لیا۔ باقی جانور جان بچا کر بھاگ نکلے۔ مرغے میاں خوشی سے اچھل پڑے۔ “واہ حضور! کیا انصاف ہے! آج میری مظلومیت کا بدلہ لے لیا گیا!” شیر نے شکار کو پنجوں میں دباتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، “یہ تو ابھی ابتدا ہے۔ جب تک جنگل میں ایک بھی ظالم باقی ہے، ہمارا کام ختم نہیں ہوگا۔” مرغے میاں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہیں یقین ہو گیا کہ دنیا میں کوئی تو ہے جو ان کی آواز، ان کی عزت اور ان کے حقوق کی قدر کرتا ہے۔ اس دن کے بعد ایک نیا معمول بن گیا۔ ہر صبح شیر مرغے میاں کو اپنے ساتھ لے کر جنگل کے کسی نہ کسی حصے میں نکل جاتا۔ مرغا بانگ دیتا، جانور اپنے ٹھکانوں سے باہر آتے اور شیر موقع دیکھ کر کسی نہ کسی کو شکار کر لیتا۔ کبھی ایک جنگلی کتا پکڑا جاتا، کبھی کوئی لومڑی، کبھی کوئی اور جانور۔ ہر مرتبہ شیر اپنے شکار کو جنگل میں امن قائم کرنے کی کارروائی قرار دیتا، اور مرغے میاں اس کی بہادری کے گیت گاتے ہوئے واپس آتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مرغے کو محسوس ہونے لگا کہ شیر اسے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ وہ اس کے لیے وقت نکالتا، اس کی بات سنتا، اسے اپنے ساتھ رکھتا اور ہر روز اسے یقین دلاتا کہ اس کی حفاظت بادشاہ کی اولین ترجیح ہے۔ ایک دن مرغے نے شرماتے ہوئے کہا، “حضور، ایک بات عرض کروں؟” شیر نے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا، “بے تکلف ہو کر کہو، تم ہمارے معزز مہمان ہو۔” مرغا بولا، “میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا، مگر اب مجھے یہ فکر ہونے لگی ہے کہ آپ روزانہ میرے ساتھ نکلتے ہیں۔ آپ کے اپنے شاہی کام بھی ہوں گے۔ کیا واقعی آپ میرے انصاف کے لیے اتنی زحمت اٹھاتے ہیں؟” شیر نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جس میں ہمدردی بھی تھی اور ایک چھپی ہوئی چالاکی بھی۔ “مرغے میاں، آپ ابھی تک ہماری نیت کو نہیں سمجھے۔ ہمیں ظلم سے نفرت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ جنگل کا کوئی بدمعاش کسی کمزور کو ستائے۔ جب تک ایسے عناصر موجود ہیں، ہم چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔” مرغا متاثر ہو کر بولا، “مگر حضور، کیا یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا؟” شیر نے جواب دیا، “جب تک جنگل سے ظلم کا خاتمہ نہیں ہو جاتا!” مرغے میاں نے اطمینان کا سانس لیا۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ شیر کے نزدیک ظلم کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کوئی کسی کو نقصان نہ پہنچائے؛ اس کا مطلب یہ تھا کہ شکار کی فراہمی کا یہ سلسلہ ختم نہ ہو۔ جس روز جنگل میں سب جانور محفوظ ہو جاتے، اسی روز شیر کا یہ نفع بخش نظام بھی ختم ہو جاتا۔ چنانچہ اسے جنگل سے ظلم مٹانے کی جتنی فکر ظاہر ہوتی، اتنی ہی ضرورت اس بات کی تھی کہ جنگل میں کچھ نہ کچھ خطرہ باقی رہے۔ اب وہ ہر روز نئے دعوے کرتا، نئی کارروائیاں کرتا اور مرغے میاں کی آواز کو اپنے اقتدار کی خدمت میں استعمال کرتا رہا۔ مرغے کو لگتا تھا کہ وہ انصاف کی جنگ میں بادشاہ کا ساتھی ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک ایسے کھیل کا مہرہ تھا جس میں اس کی آواز سے دوسروں کو بلایا جاتا اور ان کی جان لے کر بادشاہ کا پیٹ بھرا جاتا۔ ادھر جنگل کے جانور بھی آہستہ آہستہ سمجھنے لگے کہ جس آواز کو وہ کبھی خطرے کی علامت سمجھ کر بھاگتے تھے، اب وہ ان کے لیے شیر کے نئے شکار کا اعلان بن چکی ہے۔ مگر مرغے میاں کو یہ بات سمجھنے میں ابھی بہت وقت لگنا تھا، کیونکہ جب کسی کو یقین دلا دیا جائے کہ وہ ایک عظیم مقصد کا حصہ ہے تو وہ اکثر یہ پوچھنا بھول جاتا ہے کہ اس مقصد سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
حاصلِ سبق:
بعض حکمران غریبوں کی غربت، بھوک اور بے بسی ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں، مگر انہی مسائل کو اپنے اقتدار اور مفاد کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ مظلوموں کے دکھ کا ذکر کرتے ہیں، ان کے نام پر تقریریں کرتے ہیں اور خود کو ان کا نجات دہندہ ثابت کرتے ہیں، لیکن مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسے زندہ رکھتے ہیں، کیونکہ مسئلہ ختم ہو جائے تو ان کے دعووں کی ضرورت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے حکمرانوں کے لیے غریب وہ انسان نہیں رہتا جس کی زندگی بہتر بنانی ہے، بلکہ وہ وسیلہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے اپنی طاقت، شہرت اور فائدہ برقرار رکھا جائے۔ اس لیے صرف یہ نہ دیکھیں کہ کون غریبوں کے حق میں بول رہا ہے؛ یہ بھی دیکھیں کہ اس کے اقدامات سے غریب کی حالت واقعی بدل رہی ہے یا اس کی محرومی محض کسی اور کی کامیابی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

