بلاعنوان

بلاعنوان

جنگل کے بادشاہ شیر کو ایک مرتبہ اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایک انتہائی ترقی یافتہ جنگل کے سرکاری دورے پر جانا پڑا۔ یہ کوئی معمولی سفر نہ تھا۔ انہیں پہاڑوں کی دشوار گزار گھاٹیوں، پتھریلے راستوں، تپتے میدانوں، گہری ندیوں اور گھنے جنگلات سے گزرنا تھا۔ کہیں زمین اتنی ناہموار تھی کہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا، کہیں کیچڑ میں پاؤں دھنس جاتے اور کہیں تنگ پہاڑی راستے پر ذرا سی لغزش جان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ اس پورے سفر میں شیر کے ساتھیوں میں ایک گدھا ایسا تھا جس نے بادشاہ کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب راستہ دشوار ہوتا تو وہ شیر کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیتا، جب دوسرے جانور تھک کر رک جاتے تو وہ اپنی رفتار برقرار رکھتا، اور جب سب کے حوصلے جواب دینے لگتے تو وہ خاموشی سے آگے بڑھتا رہتا۔ یوں کئی دنوں کی مسافت طے کرنے کے بعد قافلہ بالآخر ترقی یافتہ جنگل کی سرحد میں داخل ہو گیا۔ وہاں سڑکیں ہموار تھیں، پانی کے چشمے صاف تھے، بازار آباد تھے، درختوں کے گرد حفاظتی باڑیں لگی تھیں اور ہر طرف نظم و ضبط دکھائی دیتا تھا۔ اس جنگل کا بادشاہ اپنے مہمانوں کے استقبال کے لیے پہلے ہی موجود تھا۔ رسمی ملاقات کے بعد جب شیر اپنے ساتھیوں کا تعارف کروانے لگا تو اس نے گدھے کی طرف خاص اشارہ کیا۔ “عالی جاہ! میرے ساتھ آنے والے تمام جانور اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس گدھے نے اس سفر میں جو خدمت انجام دی ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ پہاڑوں کی چڑھائیاں ہوں یا پتھریلے راستے، اس نے ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو شاید ہمارا قافلہ اتنی آسانی سے یہاں نہ پہنچ پاتا۔” ترقی یافتہ جنگل کے بادشاہ نے گدھے کو غور سے دیکھا اور مسکرا کر کہا، “واقعی، وفاداری قابلِ قدر صفت ہے۔” شیر نے اپنی تعریف کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے محض ایک عام خدمت گار نہ سمجھیں۔ یہ میرے جنگل کا ایک نہایت اہم جانور ہے۔” پھر اس نے ایک ایسا حکم دیا جس نے پورے دربار کی نگاہیں بدل دیں۔ گدھے کے لیے وہی شاہانہ کرسی لگائی گئی جو شیر کے لیے مخصوص تھی، اور اسے دونوں بادشاہوں کے برابر بٹھا دیا گیا۔ گدھے میاں کی تو قسمت ہی جاگ اٹھی! کل تک جو جانور اصطبل کے باہر اپنی باری کا انتظار کرتا تھا، آج بادشاہوں کے برابر بیٹھا تھا۔ وہ بار بار اپنی کرسی کو دیکھتا، کبھی گردن سیدھی کرتا، کبھی سینہ پھلاتا اور کبھی اردگرد بیٹھے جانوروں پر ایسی نگاہ ڈالتا جیسے اس کی ذہانت کے چرچے ساتوں جنگلوں میں پہلے ہی پھیل چکے ہوں۔ دربار کے ایک کونے میں بیٹھی لومڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ برسوں سے شیر کی مشیر تھی۔ جنگل کے معاملات ہوں، کسی ریاست سے تعلقات ہوں، خزانے کا حساب ہو یا کسی پیچیدہ مسئلے کا حل، شیر اکثر اسی سے مشورہ کرتا تھا۔ اسے گدھے کی محنت سے کوئی شکایت نہ تھی، لیکن گدھے کو اپنے برابر کی کرسی پر بیٹھا دیکھ کر اس کے دل میں ایک کانٹا سا چبھ گیا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا، “واہ رے دنیا کے انصاف! عقل میرے پاس، تجربہ میرے پاس، بادشاہ کے راز میرے پاس، اور کرسی اس گدھے کے حصے میں آ گئی! اگر خدمت کی بنیاد پر ہی بادشاہوں کے برابر بیٹھنا ہے تو پھر اصطبل کے سارے جانوروں کے لیے دربار میں کرسیاں لگوا دو!” تاہم وہ خاموش رہی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ بادشاہ کے فیصلے کو اسی وقت چیلنج کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے جب بادشاہ خود اپنے فیصلے پر خوش ہو۔ یہ سرکاری دورہ ایک ہفتے پر مشتمل تھا۔ اگلی صبح شیر نے گدھے اور لومڑی کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “تم دونوں آج اس جنگل کا تفصیلی معائنہ کرو۔ دیکھو، یہاں ترقی کے کیا راز ہیں، انتظام کیسے چلتا ہے، پانی کی فراہمی کیسے ہوتی ہے، بازاروں میں اتنا نظم کیوں ہے اور عوام خوش حال کیسے ہیں۔ واپسی پر مجھے اپنی رپورٹ دینا تاکہ ہم بھی اپنے جنگل میں ایسی اصلاحات نافذ کر سکیں۔” دونوں روانہ ہو گئے۔ لومڑی اپنے معمول کے مطابق ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھی۔ وہ سڑکوں کی بناوٹ دیکھتی، پانی کے نظام کے بارے میں سوال کرتی، کھیتوں کی آب پاشی کا طریقہ سمجھتی اور جہاں کوئی اچھی بات نظر آتی، اسے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ مگر گدھے میاں کا انداز یکسر بدل چکا تھا۔ جو لومڑی پہلے اسے “محترمہ” کہہ کر مخاطب کرتا تھا، اب کبھی اسے “ذرا ادھر آئیے” کہتا، کبھی حکم دینے کے انداز میں بولتا اور کبھی اپنی شاہی حیثیت کا احساس دلانے کے لیے غیر ضروری طور پر گردن اکڑا لیتا۔ لومڑی نے ابتدا میں اسے نظر انداز کیا، لیکن گدھے کی اکڑ روز بروز بڑھتی گئی۔ ایک جگہ اس نے لومڑی سے کہا، “آپ ذرا آگے چل کر دیکھیے کہ راستہ صاف ہے یا نہیں۔” لومڑی نے پلٹ کر اسے دیکھا اور سوچا، “کل تک یہ راستہ پوچھتا تھا، آج راستہ دکھانے لگا ہے!” مگر اس نے جواب نہ دیا۔ دوپہر کے قریب دونوں ایک قدیم کنویں کے پاس پہنچے۔ کنویں کے گرد سایہ دار درخت تھے اور قریب ہی مسافروں کے بیٹھنے کے لیے پتھر کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ سفر کی تھکن نے دونوں کو پانی پینے پر مجبور کیا۔ گدھے نے پانی پیا تو حیرت سے اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ “ارے واہ! یہ پانی تو غیر معمولی طور پر میٹھا ہے!” اس نے دوبارہ پانی پیا، پھر منہ بنا کر بولا، “میں نے اپنی زندگی میں بہت سے کنوؤں کا پانی پیا ہے، لیکن ایسا میٹھا پانی کبھی نہیں چکھا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟” لومڑی کو گویا وہ موقع مل گیا جس کی وہ صبح سے تلاش میں تھی۔ اس نے پانی کی طرف دیکھا، پھر گدھے کی طرف، اور نہایت سنجیدگی سے بولی، “آپ کو واقعی اس راز کا علم نہیں؟” گدھے نے فوراً اپنی گردن بلند کی، “اگر علم ہوتا تو پوچھتا کیوں؟” لومڑی نے دھیمی آواز میں کہا، “یہاں کے بادشاہ نے اس کنویں میں خاص مقدار میں چینی ملوانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی اتنا میٹھا ہے۔” گدھے نے حیرت سے منہ کھول دیا۔ “پانی میں چینی؟ مگر کیسے؟ کیا ہر روز کوئی اس میں چینی ڈالتا ہے؟” لومڑی نے ایسے سر ہلایا جیسے کوئی نہایت اہم سرکاری راز بیان کر رہی ہو۔ “یہی تو اس جنگل کے انتظام کی خوبی ہے۔ یہاں ہر کام کا ایک خاص طریقہ ہے۔ البتہ اس کی مکمل تفصیل مجھے بھی معلوم نہیں۔ یہ راز خود بادشاہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔” گدھے کے ذہن میں ایک خیال چمکا۔ اس نے سوچا، “اگر میں شام کے شاہی کھانے پر اس راز کے بارے میں پوچھوں تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں کتنا باریک بین اور علم کا شوقین ہوں۔ شاید بادشاہ مجھے مزید اہمیت دے!” لومڑی نے اس کے چہرے پر پھیلتی ہوئی خود اعتمادی دیکھی تو اپنی مسکراہٹ چھپا لی۔ شام کو شاہی ضیافت منعقد ہوئی۔ دونوں بادشاہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھے، وزرا اور مشیر اپنے اپنے مقامات پر موجود تھے، اور میزوں پر انواع و اقسام کے کھانے سجے ہوئے تھے۔ گدھے میاں بھی اپنی شاہی کرسی پر براجمان تھے۔ انہوں نے پہلے تو کھانے کی تعریف کی، پھر ترقی یافتہ جنگل کے انتظامات پر چند عمومی جملے کہے۔ اس کے بعد اچانک اپنی گردن سیدھی کر کے بولے، “عالی جاہ! آپ کے جنگل میں ترقی کے بہت سے راز ہیں۔ میں نے آج سڑکیں دیکھیں، بازار دیکھے، پانی کی تقسیم کا نظام دیکھا اور کئی ایسی چیزیں سیکھیں جنہیں اپنے جنگل میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔” میز پر بیٹھے جانوروں نے ان کی طرف دیکھا۔ گدھے کو یہ توجہ بہت اچھی لگی۔ اس نے بات آگے بڑھائی، “آپ کے ایک کنویں کا پانی غیر معمولی طور پر میٹھا ہے۔ کیا یہ درست ہے کہ اس میں باقاعدگی سے چینی ڈالی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے؟ کیونکہ اتنے بڑے کنویں میں چینی ملانا یقیناً ایک مشکل کام ہوگا!” چند لمحوں کے لیے ضیافت پر ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے اچانک موسیقی بند کر دی ہو۔ ترقی یافتہ جنگل کا بادشاہ پہلے گدھے کو دیکھتا رہا، پھر اپنے شیر مہمان کی طرف متوجہ ہوا۔ شیر کے چہرے پر پہلے حیرت ابھری، پھر اس کے کان سرخ ہونے لگے۔ اس نے آہستہ سے پوچھا، “تم نے یہ کیا کہا؟ کنویں میں چینی ڈالی جاتی ہے؟” گدھے نے اطمینان سے جواب دیا، “جی ہاں، عالی جاہ! میں نے خود پانی چکھا ہے۔ وہ اتنا میٹھا تھا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس میں چینی ضرور ڈالی جاتی ہوگی۔ میں تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اس کا انتظام کیسے ہوتا ہے۔” ترقی یافتہ جنگل کا بادشاہ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگا، مگر ناکام رہا۔ اس نے کہا، “محترم مہمان! ہمارے جنگل میں پانی کے کئی چشمے اور کنویں قدرتی طور پر میٹھے ہیں۔ زمین کی ساخت اور پانی میں موجود قدرتی معدنیات کی وجہ سے بعض جگہوں پر پانی کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے۔ ہم نہ اس کنویں میں چینی ڈالتے ہیں، نہ اس کی ضرورت ہے۔”  لومڑی ایک کونے میں خاموش بیٹھی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ شیر کے لیے یہ محض ایک سوال نہ تھا؛ یہ اس کے اپنے فیصلے پر اٹھنے والا سوال بھی تھا۔ اس نے گدھے کو اپنے برابر کی کرسی پر بٹھایا تھا، اسے اپنے جنگل کا عظیم جانور قرار دیا تھا، اور اب اسی جانور نے ایک معمولی سی بات کی تصدیق کیے بغیر اسے دوسرے بادشاہ کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا۔ ضیافت تو کسی نہ کسی طرح ختم ہو گئی۔ اگلے دن جب شیر اپنے شاہی مہمان کے ساتھ اہم معاملات پر گفتگو کرنے بیٹھا تو اس کے ساتھ گدھا نہیں بلکہ لومڑی موجود تھی۔ گدھا اپنی سابقہ جگہ پر واپس جا چکا تھا، جبکہ لومڑی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکی تھی۔ شیر کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا کہ اس نے گدھے کی وفاداری اور محنت سے متاثر ہو کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا تھا جس کا وہ اہل نہیں تھا۔

حاصلِ سبق:
وفاداری، محنت اور خدمت اپنی جگہ قیمتی خوبیاں ہیں، مگر عقل، علم اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت الگ اوصاف ہیں۔ کسی ایک خوبی کی بنیاد پر کسی کو ہر میدان میں ماہر سمجھ لینا غلطی ہے۔ عقل مند انسان نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے بلکہ اپنی حدود کو بھی جانتا ہے، اور جس بات کا علم نہ ہو، اس پر رائے دینے سے پہلے تحقیق کرتا ہے۔ یاد رکھیے، عقل انسان کو مقام تک پہنچاتی ہے، مگر عقل کے ساتھ عاجزی ہی اسے اس مقام پر قائم رکھتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner