دنیا داری کا جال

      دنیا داری کا جال

          
ایک زاہد دنیا سے بے نیاز ہو کر ایک صحرا کے کسی گوشے میں زندگی گزارتا تھا. اسے نہ قیمتی لباس کا شوق تھا اور نہ عمدہ کھانوں کا، بلکہ وہ معمولی لباس اور معمولی سی غذا پر قناعت کرتا تھا. اس شخص کے تقویٰ اور عبادت کا چرچا دور دور تک پھیل چکا تھا، یہاں تک کہ لوگ اس کی زیارت کو آتے اور اس کے مرید ہوجاتے تھے.
اس ملک کا بادشاہ جو بہت عادل اور درویش دوست تھا اور ہمیشہ انبیاء اور اولیاء کے اخلاق کی پیروی اپنا فرض سمجھتا تھا، اسے بھی زاہد سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا. ایک دن وہ زاہد کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس سے پند و نصیحت کا تقاضا کیا. زاہد نے کہا کہ اے بادشاہ! اس جہان کی دو قسمیں ہیں: ایک فانی کہ جسے دنیا کہتے ہیں اور دوسری باقی کہ جسے عقبٰی کہتے ہیں. عالی ہمت وہ ہوتا ہے جو فانی دنیا سے دل نہیں لگاتا بلکہ ہمیشہ باقی رہنے والی دنیا کا طلبگار ہوتا ہے. بادشاہ نے پوچھا کہ اس باقی رہنے والی دنیا کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟ زاہد نے جواب دیا کہ مظلوموں کی دستگیری اور بے کسوں کی فریاد رسی کے ذریعے اور ہر وہ بادشاہ جو رعیت کی راحت چاہتا ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ عوام کو راحت پہنچائے.
زاہد کی اس نصیحت پر بادشاہ بے حد خوش ہوا اور مسلسل اس کی صحبت میں رہنے لگا، اور بادشاہ نے اس کی مریدی قبول کرلی. ایک روز جب بادشاہ زاہد کی نشست میں حاضر تھا اور گفتگو میں مصروف تھا کہ اچانک داد خواہو کا ایک گروہ چیختا چلاتا بادشاہ کے پاس آیا. زاہد نے انہیں بلایا اور ہر ایک کا حال باری باری سنا، اور اس کے مطابق بادشاہ کو حکم کرنے کا مشورہ دیا. بادشاہ اس بات سے کافی متاثر ہوا اور زاہد سے درخواست کی کہ کبھی کبھار اس قسم کے مشورے دیتا رہے تاکہ مظلوموں کی صحیح اور جلد از جلد داد رسی ہو سکے اور وہ اس طرح انصاف کرتا رہے. زاہد نے یہ پیشکش قبول کرلی اور ہر معاملے میں بادشاہ کو مشورہ دینے لگا، اور بادشاہ اس پر عمل کرنے لگا.
زاہد کی نیک نیتی کی شہرت اس ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئی اور حکومت کے معاملے میں زاہد کا عمل و دخل روز بروز بڑھتا چلا گیا. اس کے دل میں دنیا کی محبت اور دنیا کی لالچ روز بروز بڑھتی چلی گئی اور فنا و محبت سے منہ موڑ کر تخت و تاج کی خواہش پیدا ہونے لگی. یہاں تک کہ جب معاملات کو اپنے موافق پایا تو تمام اختیار اس کے ہاتھوں میں سونپ دیا. زاہد کو پہلے تو صرف ایک روٹی کی فکر تھی، اب وہ سارے جہان کی فکر میں گرفتار ہو چکا تھا.
ایک بوڑھا درویش جو زاہد کی صحبت میں رہ چکا تھا، اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اس کی بدحالی کو دیکھا تو دنگ رہ گیا. اس نے زاہد سے کہا کہ اے شیخ! یہ کیا حال ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ زاہد نے بہت سے بہانے بنائے لیکن کوئی ایسی بات جو معرفت کی کسوٹی پر پوری اترتی، درویش نے کہی. درویش نے کہا کہ یہ سب باتیں تو بہانے ہیں، حقیقت میں تو یہ ہے کہ تمہارا دل دنیا کی دوستی میں الجھ گیا ہے، اور تم اپنے ضمیر کو دنیا کی گرد و غبار سے پاک رکھو اور قناعت سے کام لو.
زاہد نے جواب دیا کہ اے میرے غم خوار! لوگوں کے آنے جانے سے مجھ میں کچھ تبدیلی نہیں ہوئی ہے. درویش نے کہا کہ ابھی تمہیں اس بات کی خبر نہیں، کیونکہ دنیا کی لالچ اور غرض مندی نے تمہاری آنکھوں پر پردے ڈال دیے ہیں. اور اس وقت جب تمہاری آنکھیں کھلیں گی، کوئی فائدہ نہ ہوگا اور پیشمانی کام نہ آئے گی. تمہاری مثال اس اندھے کی سی ہے جس نے سانپ کو تازیانہ سمجھ لیا تھا اور پرانی سمجھ نہ سکا، آخر ہلاک ہوا. میں یہ مثالیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ تم بھی دنیا پر اعتماد نہ کرو، کیونکہ وہ بھی ایک خوبصورت سانپ کی مانند ہے اور اس کی نرمی اور نازکی پر نہ جاؤ کیونکہ اس کا زخم بڑا قاتل ہوتا ہے اور اس کا زہر جان لیوا ہوتا ہے.
زاہد خاموش ہوگیا، صبح درویش چلا گیا اور زاہد پھر حکومت کے کاموں میں مشغول ہوگیا. اس نے تمام امراء اور وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی اور فیصلوں میں بھی ناانصافی کرنے لگا. یہاں تک کہ رشوت بھی لینے لگا اور ایک دن ایک شخص کو خلاف قصوروار ٹھہرا کر اس کے قتل کا حکم دے دیا. مقتول کے وارث داد خواہی کے لیے بادشاہ کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ زاہد نے ناحق ہمارے عزیز کو قتل کردیا ہے. شرعاً اس پر قصاص واجب ہے. بادشاہ نے ان کا معاملہ قاضی کے سپرد کیا، اور تحقیق کے بعد قاضی نے حکم دیا کہ مقتول کے قصاص کے لیے زاہد کو قتل کردیا جائے. اس طرح زاہد مارا گیا.

Leave a Reply

NZ's Corner