ہمت کا پھل اور عظمت کا سفر

ہمت کا پھل اور عظمت کا سفر


پرانے زمانے کی بات ہے۔ دو دوست تھے۔ ایک کا نام دانش تھا اور دوسرے کا شیرجنگ۔ ایک بار وہ دونوں ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے اور ایک دوسرے کی ہمراہی میں کئی منزلیں اور مرحلے طے کرتے چلے گئے۔ اتفاقاً ان کا گذر ایک پہاڑی کے قریب سے ہوا، جس کی چوٹی نیلگوں آسمان سے باتیں کر رہی تھی اور اس کے خوبصورت دامن میں ایک چشمہ بہ رہا تھا، جس کا پانی بے حد صاف و شفاف، ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔
اس چشمے سے لگا ہوا ایک بہت بڑا حوض تھا، جس کے اطراف سایہ دار درختوں کی قطاریں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دونوں دوست خوفناک جنگل سے نکل کر اس خوبصورت مقام پر پہنچے اور جگہ کی دلکشی کو دیکھتے ہوئے وہاں آرام کرنے کی غرض سے رک گئے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جب حوض کے آس پاس نظر ڈالی، تو اچانک حوض کے کنارے ایک سنگِ سفید نصب کیا ہوا دکھائی دیا، جس پر چند سطریں سبز روشنائی میں ایسے خوشخط انداز میں لکھی ہوئی تھیں کہ ان کی نگاہیں ٹھہر گئیں۔
عبارت یہ تھی:
> “اے مسافر! تم نے اس منزل کو اپنے قدموں سے شرف بخشا ہے، لہذا ہم تمہارا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اپنے عزیز مہمان کے استقبال کے لیے ہم نے شایانِ شان اہتمام کیا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ بے دریغ اس چشمے میں پاؤں ڈالے اور گرداب یا غرقاب ہونے کا خوف نہ رکھے، اور جس طرح ممکن ہو، چشمے کے اس پار پہنچے۔ وہاں پہاڑی کے دامن میں ایک پتھر کا وزنی شیر رکھا ہوا ہے، اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر بلاتوقف ایک سانس میں پہاڑی کے اوپر پہنچائے، اور خوفناک درندوں کا شکار ہونے یا خطرناک کانٹوں کے دامن گیر ہونے کا خوف نہ لائے اور ہمت نہ ہارے؛ کیونکہ جب راستہ ختم ہوگا، تو اس کی آرزو کا درخت مراد کا پھل لائے گا۔”
>
اس عبارت کو پڑھنے کے بعد شیرجنگ نے دانش کی طرف رخ کیا اور بولا:
“دوست! آؤ ہم اس خطرناک راہ پر قدم رکھیں اور اس طلسم کو جاننے کی ہر ممکن کوشش کریں۔”
دانش نے جواب دیا:
“میرے پیارے دوست! فقط اس تحریر کو پڑھ کر، کہ جس کے لکھنے والے کا پتہ نہ ہو اور جس کے مفہوم کی حقیقت سے ہم ناواقف ہوں، خواہ مخواہ خطرہ مول لینا اور ایک خیالی فائدے کی لالچ میں پڑ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا جہالت کی دلیل ہے۔ کوئی عقلمند زہر کو تریاق سمجھ کر نہیں کھاتا اور کوئی ہوشیار شخص آج کی محنت کا سرمایہ کل کی امید میں ضائع نہیں کرتا۔”
شیرجنگ نے کہا:
“اے رفیق! آرام کی خواہش، سستی اور کاہلی پست ہمتوں کا شیوہ ہے، اور خطروں سے کھیلنا خوش قسمتی اور اقبال مندی کی نشانی ہے۔ باہمت شخص تھوڑی سی پونجی پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس وقت تک کوشش سے باز نہیں آتا جب تک کہ منزلِ مقصود نہ پالے۔ خوشی کا پھول مصیبتوں کے کانٹوں کے بغیر حاصل نہیں ہوتا اور آرزوؤں کا خزانہ تکلیف کی چابی کے بغیر نہیں کھلتا۔ ہمت مجھے پہاڑی کی جانب کھینچ رہی ہے اور میں گردابِ بلا سے بے خوف و خطر گزرنے کو تیار ہوں۔”
دانش نے جواب دیا:
“تیری بات بجا ہے کہ دولت کی بہار مفلسی کی خزاں کے بعد ہی زیادہ مہکتی ہے۔ لیکن ایسی راہ میں قدم رکھنا کہ جس کا کوئی انجام معلوم نہ ہو اور ایسے دریا میں تیرنا جس کا کوئی کنارہ نہ ہو، عقلمندی نہیں۔ وہ شخص جو کسی کام کے آغاز سے پہلے اس کے انجام پر نظر رکھتا ہے اور نفع و نقصان کو عقل کے ترازو میں تولتا ہے، تاریخ میں شرمندہ نہیں ہوتا اور اپنی عمرِ عزیز کو برباد نہیں کرتا۔ ممکن ہے کہ یہ عبارت مذاق کے طور پر لکھی گئی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ اس چشمے میں کوئی ایسا گرداب ہو جس میں پھنس کر آدمی باہر ہی نہ نکل سکے! اور اگر بالفرض اس سے نجات مل بھی جائے، تو ممکن ہے کہ پتھر کے اس شیر کا وزن ناقابلِ برداشت ہو اور وہ اٹھایا نہ جا سکے۔ میں اس معاملے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا اور تمہیں بھی اس بے وقوفی سے منع کرتا ہوں۔”
شیرجنگ نے کہا:
“اس بات کو بھول جاؤ کہ میں اپنے ارادے سے باز آؤں گا۔ میں نے تان لیا ہے کہ کسی خوف سے اس کام سے منہ نہیں موڑوں گا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس راہ میں تم میرا ساتھ نہیں دو گے۔ بہرحال، تم دور سے نظارہ کرو اور میری کامیابی کی دعائیں کرتے رہو۔”
دانش سمجھ گیا کہ شیرجنگ اپنے ارادے میں اٹل ہے، تو اس نے کہا:
“میرے بھائی! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے ارادے کے پکے ہو اور اسے ترک کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ میں تمہیں اس حال میں دیکھنے کی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتا، کیونکہ یہ خود مول لی گئی مصیبت میرے مزاج اور فطرت کے خلاف ہے۔”
اس نے بڑے افسوس کے ساتھ اپنے دوست سے رخصت لی اور روانہ ہو گیا۔ شیرجنگ اپنی جان کی پروا کیے بغیر چشمے کے کنارے آیا اور بغیر کسی پس و پیش کے اس کے پانی میں قدم رکھ دیے۔ حالانکہ اسے پتہ تھا کہ یہ چشمہ اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، لیکن وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچا۔ اس نے اپنی سانسیں درست کیں، پتھر کے وزنی شیر کو اپنی پوری طاقت سے پیٹھ پر لادا اور بڑی محنت اور مشقت سے ایک ہی سانس میں دوڑتے ہوئے پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچا۔
پہاڑی کے اس طرف ایک بہت بڑا شہر نظر آیا، جس کی آب و ہوا بڑی دلکش اور خوشگوار تھی۔ شیرجنگ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو کر شہر کی جانب دیکھ رہا تھا کہ اچانک پتھر کے شیر میں سے ایک خوفناک دہاڑ نکلی—اتنی خوفناک کہ پہاڑ اور صحرا لرز اٹھے۔ یہ آواز جیسے ہی شہر میں پہنچی، اسے سنتے ہی بے شمار آدمی چاروں طرف سے نکل کر بے تحاشہ پہاڑ کی طرف بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ چوٹی پر پہنچ کر سب شیرجنگ کے پاس آئے۔
شیرجنگ بڑی حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا، اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔ اچانک اس مجمع میں سے چند سرکردہ اور معزز افراد آگے بڑھے، شیرجنگ کو سلام کیا اور عقیدت سے ہاتھ باندھ لیں۔ انہوں نے ادب کے ساتھ اسے اپنے ایک شاہانہ گھوڑے پر سوار کیا اور شہر کی جانب لے چلے۔ شہر میں پہنچ کر عرقِ گلاب سے اس کا غسل کروایا گیا، شاہانہ خلعت پہنائی گئی اور بہت اعزاز و احترام کے ساتھ اس ملک کی حکومت اس کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی۔
جب شیرجنگ نے اس حیرت انگیز صورتحال کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا:
> “ہمارے عقلمند بزرگوں نے اس چشمے میں ایک طلسم چھپا رکھا تھا۔ یہ پتھر کا وزنی شیر دراصل باحوصلہ اور باہمت انسانوں کو پرکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب اس شہر کا بادشاہ مرتا ہے، تو خدا کسی دلیر جوان کو اس چشمے پر بھیجتا ہے جو کسی بھی خطرے کا خوف دل میں لائے بغیر پانی پار کرتا ہے اور اس شیر کو اٹھا کر پہاڑی کی چوٹی تک پہنچاتا ہے۔ پھر اس شیر سے وہ مخصوص دہاڑ نکلتی ہے، جسے سن کر تمام اہل شہر باہر نکلتے ہیں اور اس قابلِ فخر انسان کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں تاکہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرے۔ اب یہ تاج و تخت آپ کو مبارک ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner