بغداد کے ایک گاؤں میں ایک متقی اور پرہیزگار شخص رہتا تھا جو اپنا سارا وقت عبادت میں گزارتا تھا۔ اسے دنیا کی کوئی لالچ نہیں تھی اور وہ روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک مرید نے خوش ہو کر اسے عقیدت اور محبت میں ایک موٹی تازی بھینس تحفے میں دی تاکہ وہ اس کے دودھ اور گھی سے اپنی گزر اوقات کر سکے۔
ایک چور کی نظر اس بھینس پر پڑی اور اس کے دل میں لالچ آ گیا کہ اس بھینس کو چرا لیا جائے۔ چنانچہ وہ زاہد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جو کہ دراصل انسان کی شکل میں خود شیطان تھا۔
جب چور نے پوچھا کہ “تو کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟” تو اس نے جواب دیا، “میں شیطان ہوں اور آدمی کی شکل میں ہوں تاکہ خانقاہ کے زاہد کو جاؤں، کیونکہ بہت سے لوگ اس کی تقویٰ اور عبادت سے متاثر ہو کر برائیوں سے توبہ کر کے نیکی کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور میرا کاروبار گھاٹے میں پڑ گیا ہے، اس لیے میں اسے قتل کرنے جا رہا ہوں”۔
اس کے بعد شیطان نے چور سے پوچھا کہ “تو کون ہے اور تیرا کیا حال ہے؟”۔ چور نے بتایا کہ “میں ایک مکار چور ہوں اور اس تاک میں رہتا ہوں کہ کسی طرح دوسروں کا مال حاصل کروں، اور اب زاہد کے پاس ایک موٹی تازی بھینس ہے جسے چرانے جا رہا ہوں”۔ یہ سن کر شیطان نے کہا کہ “ہم دونوں کے دوست نکلے کیونکہ ہمارا کام ایک ہی شخص سے ہے”۔
چنانچہ دونوں زاہد کی خانقاہ کی طرف چل پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو رات ہو چکی تھی اور زاہد عبادت میں مشغول تھا۔ دونوں موقع کی تلاش میں تھے کہ اتنے میں زاہد کی آنکھ لگ گئی۔
اس وقت چور نے دل میں سوچا: “اگر شیطان زاہد کو مارنے کا ارادہ کرے گا تو ممکن ہے کہ وہ بھاگ جائے اور شور مچا کر پڑوسیوں کو جگا دے، جس سے میری بھینس چرانے کی اسکیم ناکام ہو جائے گی”۔
دوسری طرف شیطان نے دل میں سوچا: “اگر چور بھینس چرائے گا تو وہ اسے لے جانے کے لیے دروازہ کھولے گا اور ممکن ہے کہ دروازہ کھلنے کی آواز سے زاہد جاگ جائے اور مجھے زاہد کو قتل کرنے میں ناکامی ہو”۔
یہ سوچ کر دونوں نے ایک دوسرے کی مخالفت شروع کر دی اور ان کے درمیان نعرے بازی اور لڑائی ہو گئی۔
چور نے غصہ ہو کر زاہد کو آواز دی: “ہوشیار! یہاں شیطان ہے جو تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے”۔
ادھر شیطان نے بھی فوراً آواز دی: “خبردار! یہاں ایک چور ہے جو تمہاری بھینس چرانا چاہتا ہے”۔
زاہد ان کی یہ لڑائی سن کر جاگ گیا اور شور مچانے لگا۔ شور سن کر پڑوسی فوراً زاہد کی مدد کے لیے آ گئے، جنہیں دیکھ کر چور اور شیطان دونوں بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح زاہد کا مال اور جان دونوں دشمنوں سے محفوظ ہو گئے۔
