دانت اور ڈھکن 😄

دانت اور ڈھکن 😄



شادی کا موقع تھا، ہم سب کزن بیٹھے تھے۔

یکدم ممانی دوائی کی شیشی تھامے وارد ہوئیں:

“ارے لڑکوں ذرا یہ بوتل تو کھول دو”

طبع آزمائی شروع ہو گئی۔ جب ایک لڑکا ناکام ہوتا تو دوسرا بڑے ہی کانفیڈنس سے کوشش کرتا مگر بے سود۔

لڑکیاں ہماری کیفیت دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھیں۔ لڑکوں نے طاقت کی انتہا لگا دی لیکن ڈھکن تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔

بوتل گھومتے گھومتے میرے پاس آ گئی۔ اس کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں، انجانی طاقت محسوس کرنے لگا۔ ہاتھوں سے زور لگایا۔۔ مگر بے سود۔

اس کی آنکھوں میں تحقیر نظر آنے لگی۔ جوش سر چڑھنے لگا تو منہ سے ڈھکن کھولنے لگا، زور لگایا، یکدم کٹک کی آواز آئی۔

اب ڈینٹسٹ کے پاس بیٹھا ہوا ہوں، نیا دانت لگنا ہے

Leave a Reply

NZ's Corner