نسلوں کی وفاداری

نسلوں کی وفاداری

پرانے زمانے کی ایک سلطنت میں شاہی اصطبل کے دروازے پر ایک جملہ اکثر سنائی دیتا تھا: ’’ہمارے خاندان نے چار نسلوں تک بادشاہ کے گھوڑوں کی خدمت کی ہے۔‘‘ یہ جملہ وہاں کام کرنے والے ایک بوڑھے ملازم کے لیے محض تعارف نہ تھا، بلکہ اس کی خاندانی عزت کا نشان تھا۔ اس کا دادا بھی شاہی اصطبل میں کام کرتا تھا، باپ نے بھی اسی خدمت میں عمر گزاری تھی اور اب وہ خود اپنی زندگی کے پچاس برس اسی کام میں گزار چکا تھا۔ گھر میں جب کبھی خاندان کا ذکر ہوتا، اس کے بزرگ فخر سے بتایا کرتے کہ ان کا بادشاہ کے دربار میں آنا جانا ہے، شاہی خاندان کے لوگوں سے سلام دعا ہے اور ان کی نسل نے ہمیشہ تخت کے وفادار خادموں میں شمار ہونے کا اعزاز پایا ہے۔ ان باتوں کو سنتے سنتے اس کے دل میں بھی یہ یقین راسخ ہو گیا تھا کہ وہ محض ایک ملازم نہیں، بلکہ شاہی خاندان کا پرانا اور معتبر آدمی ہے۔ ایک روز اسے اصطبل کے حسابات اور گھوڑوں کی خوراک سے متعلق ایک ضروری عرضداشت لے کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونا پڑا۔ وہ صبح سے اس کام کی تیاری کر رہا تھا۔ عرضداشت میں چند گھوڑوں کی خوراک بڑھانے اور دو بیمار گھوڑوں کے علاج کے لیے اضافی رقم کی منظوری درکار تھی۔ جب وہ دربار میں پہنچا تو بادشاہ نے کاغذ دیکھا، پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر پوچھا، ’’تم کون ہو اور کس کام سے آئے ہو؟‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا۔ اسے خیال آیا کہ شاید بادشاہ نے اسے پہچانا نہیں، حالانکہ وہ کئی بار شاہی اصطبل کے معاملات کے سلسلے میں حاضر ہو چکا تھا۔ اس نے ادب سے اپنا نام اور عہدہ بتایا اور عرضداشت پیش کر دی۔ بادشاہ نے کاغذ پر نظر دوڑائی، چند سوال کیے، منظوری دی اور اسے واپس جانے کا اشارہ کر دیا۔ بظاہر یہ ایک معمول کی ملاقات تھی، مگر اس ملازم کے دل میں ایک کانٹا سا چبھ گیا تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے وہ یہی سوچتا رہا کہ جس خاندان نے نسل در نسل شاہی خدمت کی، اس کا ایک فرد بادشاہ کے لیے اتنا اجنبی کیوں ہے؟ پھر اس نے خود ہی اپنے دل کو سمجھایا کہ بادشاہ کی ذمہ داریاں بہت ہیں، اسے پوری سلطنت کے معاملات دیکھنے پڑتے ہیں؛ ممکن ہے وہ ہر ملازم کو یاد نہ رکھ سکتا ہو۔ اس نے یہ خیال دل سے نکالنے کی کوشش کی، مگر اصل صدمہ ابھی اسے پہنچنا باقی تھا۔ چند روز بعد ملکہ شاہی اصطبل کی سیر کے لیے آئی۔ اسے گھوڑوں سے خاص دل چسپی تھی اور وہ اکثر ان کے پاس جا کر ان کی حالت، خوراک اور دیکھ بھال کے بارے میں دریافت کیا کرتی تھی۔ اس روز اس نے اصطبل کے ایک کونے میں اسی ملازم کو دیکھا۔ وہ ایک گھوڑے کو نہلا رہا تھا، مگر اس کے ہاتھ چلتے چلتے رک جاتے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔ ملکہ نے قریب آ کر پوچھا، ’’کیا بات ہے؟ تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘ ملازم نے فوراً چہرہ پھیر لیا۔ ’’کچھ نہیں، ملکہ معظمہ، آنکھ میں شاید پانی چلا گیا ہے۔‘‘ ملکہ نے گھوڑے کی طرف دیکھا، پھر اس کے چہرے کی طرف۔ ’’گھوڑے کو نہلاتے ہوئے دونوں آنکھوں میں پانی کیسے چلا گیا؟ صاف صاف بتاؤ، کوئی پریشانی ہے؟‘‘ ملازم خاموش رہا۔ ملکہ نے دوبارہ پوچھا تو اس کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔ آخر اس نے کہا، ’’ملکہ معظمہ! میں اس خاندان کی چوتھی نسل ہوں جو شاہی اصطبل میں خدمت کر رہی ہے۔ میرے دادا نے اسی کام میں عمر گزاری، میرے والد نے بھی یہی خدمت کی اور اب میں پچاس برس سے زیادہ عمر میں بھی اسی اصطبل میں ہوں۔ ہمارے بزرگ اس نسبت پر فخر کرتے تھے کہ ہم بادشاہ کے وفادار ہیں، دربار میں ہمارا آنا جانا ہے اور شاہی خاندان کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں۔ میں نے بھی عمر بھر یہی سمجھا کہ یہ قربت ہمارے خاندان کا اعزاز ہے۔ چند روز پہلے میں گھوڑوں کی خوراک اور علاج کی منظوری کے لیے بادشاہ سلامت کے پاس گیا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں۔ میں نے اپنا نام اور عہدہ بتایا، مگر انہیں میرے بارے میں کچھ یاد نہ تھا۔ میں نے سوچا، خیر، بادشاہ کو پوری سلطنت کے لوگ یاد نہیں رہ سکتے۔ اس بات کا مجھے دکھ ضرور ہوا، مگر میں نے اپنے دل کو سمجھا لیا۔‘‘ ملکہ نے نرمی سے پوچھا، ’’تو پھر آج تمہیں کس بات نے رلا دیا؟‘‘ ملازم نے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا، ’’اصل دکھ تو اس کے بعد ملا، ملکہ معظمہ! کل بادشاہ سلامت ایک شاہی مہمان کے ساتھ اصطبل میں تشریف لائے تھے۔ میں بھی وہیں موجود تھا۔ بادشاہ ہر گھوڑے کے پاس رک کر مہمان کو اس کے بارے میں بتا رہے تھے۔ انہوں نے ایک گھوڑے کی نسل بتائی، اس کے باپ کا نام بتایا، یہ بتایا کہ وہ کس موسم میں پیدا ہوا تھا اور اس کی رفتار اور مزاج کی کیا خصوصیت ہے۔ پھر ایک دوسرے گھوڑے کے پاس جا کر اس کے پچھلے زخم، خوراک میں تبدیلی اور اس کے بچے کی پیدائش تک کا ذکر کیا۔ ایک گھوڑے کے بارے میں تو انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچپن میں وہ کس بیماری کا شکار ہوا تھا اور کس علاج سے صحت یاب ہوا۔ میں حیران رہ گیا۔ بادشاہ کو اصطبل کے سینکڑوں گھوڑوں کی ایسی تفصیلات یاد تھیں کہ ایک بات میں بھی غلطی نہ ہوئی۔‘‘ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آواز بھرّا گئی۔ ’’ملکہ معظمہ! مجھے اس بات پر افسوس نہیں کہ بادشاہ مجھے نام سے نہیں جانتے۔ شاید واقعی ان کے پاس اتنا وقت نہ ہو۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ میں ایک انسان ہوں، میری چار نسلوں نے ان کی خدمت کی، میرے باپ دادا نے اسی کام میں اپنی عمریں گزار دیں، مگر ہماری وفاداری ان کے ذہن میں کوئی جگہ نہ بنا سکی۔ دوسری طرف یہ گھوڑے، جو ان کے اصطبل میں رہتے ہیں، ان کی نسل، عادت، بیماری اور پیدائش کی تاریخ تک انہیں یاد ہے۔ آج مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ جس قربت پر ہم ساری عمر فخر کرتے رہے، وہ شاید صرف ہمارے اپنے دل میں تھی۔ ہم انہیں اپنا سمجھتے رہے، مگر ان کی دنیا میں ہماری حیثیت ایک معمولی ملازم سے زیادہ نہ تھی۔‘‘ ملکہ دیر تک خاموش رہی۔ اسے اس شخص پر ترس بھی آیا اور اس کی بات میں چھپی حقیقت کا احساس بھی ہوا۔ اس نے کہا، ’’تمہارے باپ دادا کی محنت اور وفاداری اپنی جگہ قابلِ قدر ہے۔ مگر کسی کی خدمت کرنا اور اس کے دل میں جگہ پا لینا ایک ہی بات نہیں۔ تم نے اپنے خاندان کی نسبت کو اپنی پہچان بنا لیا، حالانکہ انسان کی اصل قدر اس تعلق سے معلوم ہوتی ہے جو وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ نبھاتا ہے۔‘‘ ملازم نے سر جھکا لیا۔ اسے پہلی بار اپنے گھر کے وہ لوگ یاد آئے جن کے ساتھ وہ روز رہتا تھا، مگر جن کی باتیں سننے کے لیے اس کے پاس اکثر وقت نہ ہوتا تھا۔ اسے اپنا بوڑھا باپ یاد آیا جس کی طبیعت بگڑنے پر بھی وہ کبھی اصطبل کے کام کو ترجیح دے دیتا تھا؛ اسے اپنے بچے یاد آئے جو اس سے کھیلنے کی فرمائش کرتے تو وہ کہہ دیتا کہ شاہی کام پہلے ہے۔ وہ بڑے لوگوں کے قریب ہونے پر فخر کرتا رہا تھا، مگر اپنے قریب رہنے والوں سے کتنی دوری پیدا کر چکا تھا، یہ اس نے کبھی نہ سوچا تھا۔ اس روز اس نے گھوڑے کو آخری بار پانی سے دھویا، اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور دیر تک اس کے پاس کھڑا رہا۔ پھر گھر لوٹا تو باپ کے پاس بیٹھا، اس کی باتیں سنیں اور بچوں کے ساتھ وقت گزارا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ تعلق کی حقیقت کسی دربار میں حاضری یا کسی بڑے نام کے ساتھ نسبت رکھنے میں نہیں، بلکہ اس محبت میں ہے جو انسان اپنے قریب رہنے والوں کو دیتا ہے۔

حاصلِ سبق:
کسی بڑے آدمی سے تعلق ہونا اور اس کے دل میں جگہ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ بعض لوگ پوری عمر اپنے تعلقات کے نام گنواتے رہتے ہیں، حالانکہ جن لوگوں کے ساتھ وہ اپنی قربت کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ انہیں پہچانتے تک نہیں۔ اصل فخر اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کس بڑے آدمی کے قریب دکھائی دیتے ہیں، بلکہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ ہمارے اپنے کون ہیں اور ہم ان کے لیے کیا ہیں۔ اچھے وقت میں بڑے ناموں کی نسبت انسان کو خوش فہمی دے سکتی ہے، مگر برے وقت میں اکثر وہی لوگ کام آتے ہیں جنہیں ہم نے اپنے قریب رکھا، جن کی بات سنی اور جن کے دکھ سکھ میں شریک رہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner