بلاعنوان

بلاعنوان

ایک شخص نے ایک کتے کو قبرستان میں دفن کر دیا۔

لوگوں نے قاضی کے پاس جا کر اس شخص کی شکایت کی۔ قاضی نے اسے طلب کیا اور غضب ناک ہو کر پوچھا:

’’کیا تم نے ہی کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا ہے؟‘‘

اس شخص نے اطمینان سے جواب دیا:

’’جی ہاں! میں نے کتے کی وصیت پوری کی ہے۔‘‘

قاضی غصے سے بولا:

’’تیرا ستیاناس ہو! تم نے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے اب میرا مذاق اڑا رہے ہو؟‘‘

اس شخص نے کہا:

’’قاضی صاحب! ذرا جلدی نہ کریں۔ اس کتے نے آپ کے لیے ایک ہزار دینار کی وصیت بھی چھوڑی ہے۔‘‘

یہ سنتے ہی قاضی کا لہجہ بدل گیا۔ فوراً بولے:

’’اللہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے!‘‘

قاضی کا یہ فرمان سن کر وہاں موجود لوگ حیران رہ گئے۔

قاضی نے لوگوں کی حیرت دیکھ کر وضاحت کی:

’’تم لوگ حیران کیوں ہو رہے ہو؟ میں نے اس کتے کے بارے میں کافی غور و فکر کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کتا اصحابِ کہف کے کتے کی نسل سے تھا!‘‘

—

سبق:

پیسہ بعض اوقات انسان کی سوچ، اصول اور کردار تک بدل دیتا ہے۔ افسوس کہ کچھ نام نہاد ملا اور قاضی چند سکّوں کی خاطر اپنے ضمیر اور ایمان کا سودا کر لیتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner