رزق کی تقسیم

رزق کی تقسیم



یہ کہانی ایک فقیر اور دو پرندوں
ایک کمزور کوے اور ایک باز کے بارے میں ہے۔
یہ کہانی ہمیں اللّہ تعالیٰ پر توکل اور رزق کے بارے مِیں ایک بڑا سبق دیتی ہے۔

ایک دن ایک فقیر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جا رہا تھا۔
دونوں گاؤں کے درمیان ایک چھوٹا سا جنگل تھا
جس مِیں ہر قسم کے جانور اور پرندے رہتے تھے۔

جب فقیر گاؤں سے نکلا اور جنگل میں داخل ہُوا
تو اس نے راستے کے کنارے ایک تالاب کی منڈیر پر ایک کوّا پڑا ہوا دیکھا
وہ کوّا بہت کمزور تھا، اُڑ بھی نہیں سکتا تھا۔

فقیر وہیں رُک گیا اور سوچنے لگا
کہ یہ کوّا تو اتنا کمزور ہو گیا ہے
کہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا،
تو یہ کھائے گا کہاں سے؟

فقیر راستے سے ایک طرف بیٹھ گیا اور دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا
کہ ایک باز اپنے پنجوں مِیں گوشت لیے ہُوئے آیا۔
وہ اس کمزور کوّے کے پاس بیٹھا،
اس گوشت مِیں سے کُچھ خُود کھایا
اور باقی گوشت وہیں چھوڑ کر اُڑ گیا۔
کوّا آگے بڑھا، اس نے وہ گوشت کھایا،
پانی پیا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔

یہ منظر دیکھ کر فقیر کے دِل مِیں خیال آیا
کہ واقعی اللُہ تعالیٰ ہر جاندار کو رزق دیتا ہے،
چاہے وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو۔

اس کہانی سے حاصل ہونے والا سبق :

اللّہ تعالیٰ ہر مخلوق کا رزق پہنچاتا ہے،
چاہے وہ طاقتور باز ہو یا کمزور کوّا،
انسان کو اللُہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
اس کہانی مِیں باز نے کمزور کوّے کی مدد کی،
یہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کا درس دیتی ہے،

فقیر نے جب یہ دیکھا تو اسے یقین ہو گیا
کہ جیسے اللّہ نے اس معذور کوے کے لیے باز کے ذریعے رزق بھیجا،
ویسے ہی وہ ہر انسان کا رزق بھی مقرر کرتا ہے!

Leave a Reply

NZ's Corner