Category Archives: Urdu Stories

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﮈﺍﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺟﺮﺍﺋﻢ ﮐﯿﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﻠﯽ ﺑﮭﮕﺖ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺰﺍ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﮞ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ” ﻣﺎﮞ ایک ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ، “ﺟﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ، ﺑﮭﯿﻨﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔” ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﯿﻞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ؟؟ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺭﮨﺎ…

Read more

آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی۔اس نے دیکھا کہ شوہر بستر پر نہیں ہے۔ وہ تشویش کے مارے اٹھی، سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی، تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔ بیوی نے جب شوہر کو آنسو پونچھ کر کافی کا گھونٹ لیتے دیکھا تو پریشانی سے بولی:”کیا ہوا ڈئیر؟ رات کے اس پہر یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟“ شوہر نے سر اٹھایا، آہ بھری اور دھیرے سے بولا:”تمہیں یاد ہے بیس سال پہلے، جب تم اٹھارہ سال کی تھی اور ہم چوری چوری ملنے گئے تھے؟“ بیوی مسکرا کر بولی:”ہاں ڈئیر، وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں؟“ شوہر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:”اور تمہیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا؟ شاٹ گن تان کر کہا تھا… یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو، یا میں تمہیں بیس سال کے لیے…

Read more

ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس کے پاس دولت، شہرت اور آسائش کی ہر چیز موجود تھی۔ شہر کے لوگ اس کی کامیابی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی: سکون۔وہ راتوں کو جاگتا رہتا، بے چینی سے کروٹیں بدلتا اور ہمیشہ کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت کم نہ ہو جائے، کاروبار نقصان میں نہ چلا جائے یا لوگ اس سے آگے نہ نکل جائیں۔ایک دن سفر کے دوران اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے ایک کچے گھر کے سامنے پہنچا جہاں ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔تاجر نے پانی مانگا۔ بوڑھے نے خوش دلی سے پانی پلایا اور کھانے کی دعوت بھی دی۔کھانے کے بعد تاجر نے پوچھا، “آپ کے پاس نہ بڑی زمین ہے، نہ دولت، نہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک چڑیا گھر تھا۔ ایک دن نہ جانے کیسے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ گیا اور ایک شیر وہاں سے نکل بھاگا۔ جونہی یہ خبر گاؤں میں پہنچی کہ “شیر آ گیا! شیر آ گیا!” تو پورے گاؤں میں قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ لگا دی۔ کوئی چھت پر چڑھ گیا، کوئی چارپائی کے نیچے گھس گیا، کوئی دروازے بند کرنے لگا اور کچھ ایسے بھی تھے جو خوف کے مارے یہ بھول گئے کہ آخر دوڑ کس طرف رہے ہیں۔ اسی بستی میں ایک چرسی رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اداکاری کرنا تھا۔ نہ اسے دنیا کی خبر تھی اور نہ زمانے کی۔ اس کی کل کائنات ایک بڑا سا آئینہ تھا جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ باقی جو کچھ اس کے پاس ہوتا، وقت کے ساتھ بیچ…

Read more

ایک شخص کُشتی لڑنے کے فن میں مشہور تھا۔ وہ تین سو ساٹھ داؤ پیچ جانتا اور ہر روز ان میں سے ایک داؤ کے ساتھ کشتی لڑاتا تھا۔ ایک شاگرد سے وہ بہت زیادہ مہربان تھا اور اس پر خصوصی توجہ دیتا تھا۔ وہ شاگرد کچھ عرصہ میں زبردست پہلوان بن گیا اور روز بروز اس کی شہرت پھیلتی چلی گئی ملک بھر میں۔ کسی پہلوان میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ اس نوجوان نے اپنی طاقت کے زعم میں بادشاہ وقت سے کہا کہ استاد کو مجھ پر جو فوقیت حاصل ہے، وہ اس کی بزرگی اور تربیت کے حق کی وجہ سے ہے ورنہ قوت اور فن میں اس سے کم نہیں ہوں۔ بادشاہ کو اس کا یہ متکبرانہ انداز پسند نہ آیا۔ اس نے استاد اور شاگرد میں کُشتی کرانے کا حکم دے دیا۔ مقررہ دن کو اس دنگل کے…

Read more

بہت زمانہ پہلے چین کی ایک وسیع و عریض سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجیب و غریب خواہشات پالنے کا شوق تھا۔ کبھی وہ موسیقاروں سے ایسا راگ سننے کا مطالبہ کرتا جو بادلوں کو رُلا دے، اور کبھی شاعروں سے ایسی نظم لکھوانا چاہتا جو پتھروں کو ہنسا دے۔ایک روز صبح دربار لگا تو بادشاہ کا موڈ بھی حسبِ معمول غیر معمولی تھا۔اس نے شاہی باورچی کو طلب کیا، جو اپنی حاضر جوابی اور پاک فن میں کمال رکھتا تھا۔باورچی ادب سے جھکا۔“حکم فرمائیے، حضور!”بادشاہ نے سنجیدگی سے کہا:“آج ہمارے لیے ایسا پکوان تیار کرو جو ہمیں رُلا دے۔”درباری ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔کسی نے سوچا شاید کوئی غمگین داستان پر مبنی کھانا ہوگا۔کسی نے خیال کیا شاید مرچوں کا کوئی نادر نسخہ تیار ہوگا۔مگر باورچی نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور محل کے باورچی خانے کی طرف روانہ ہو گیا۔چند گھنٹوں بعد شاہی…

Read more

ایک بڑے بادشاہ کا شاندار دربار لگا ہوا تھا۔وزیر، سپاہی، خادم سب ادب سے کھڑے تھے۔ سونے کے ستون، چمکتے قالین اور قیمتی زیورات دیکھ کر ہر کوئی یہی سوچتا تھا کہ اس بادشاہ سے زیادہ خوش قسمت انسان دنیا میں کوئی نہیں۔اسی دوران دربار کے دروازے پر ایک فقیر آیا۔اس کے کپڑے پرانے تھے، ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی تھی، مگر چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔فقیر نے بلند آواز میں کہا:“بادشاہ سلامت! میں دنیا کا سب سے امیر آدمی ہوں!”یہ سن کر پورا دربار ہنس پڑا۔بادشاہ مسکرایا اور بولا:“تم؟ امیر؟ تمہارے پاس تو نہ محل ہے، نہ خزانہ، نہ نوکر۔ پھر امیری کیسی؟”فقیر سکون سے بولا:“میرے پاس ایسے خزانے ہیں جو آپ کے پاس بھی نہیں۔”بادشاہ حیران ہوا:“اچھا؟ ذرا ہم بھی سنیں۔”فقیر بولا:“پہلا خزانہ… میں رات کو سکون سے سوتا ہوں۔مجھے یہ خوف نہیں ہوتا کہ کوئی میرا تخت چھین لے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔“دوسرا خزانہ… میرے…

Read more

وہ شخص شہر کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی کئی فیکٹریاں تھیں، عالی شان بنگلے تھے، قیمتی گاڑیاں تھیں، اور بینک اکاؤنٹس میں اتنا سرمایہ تھا کہ آنے والی کئی نسلیں بھی آرام سے زندگی گزار سکتیں۔ اب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھا۔ وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہتا: “بس چند ماہ اور… پھر میں سکون سے زندگی گزاروں گا۔ دنیا گھوموں گا، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزاروں گا، پرانے دوستوں سے ملوں گا، اور زندگی کے اصل مزے لوں گا۔” مگر زندگی کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں… ایک رات، جب وہ اپنے خوابوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا، اچانک کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ اس نے سر اٹھایا تو سامنے موت کا فرشتہ کھڑا تھا۔ اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ “ک… کون ہو تم؟” فرشتے نے پرسکون لہجے میں جواب دیا: “میں تمہاری روح لینے…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک غلام تھا جو نہایت کم عقل اور حد سے زیادہ لالچی تھا۔ وہ اپنے فرائض میں بھی غفلت برتتا تھا۔ بادشاہ نے اس کی کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ کم کر دیا جائے، اور اگر وہ جھگڑا کرے تو اسے غلاموں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔جیسے ہی اس کا وظیفہ کم ہوا، غلام ناراض اور گستاخ ہو گیا۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو اپنی غلطیوں پر غور کرتا، اپنے قصور کو پہچانتا اور معافی مانگ لیتا، لیکن اس کے غرور نے اسے اندھا کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کے نام شکایت بھری عرضی لکھنے کا ارادہ کیا۔یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا اپنا وجود ہی ایک ایسی عرضی ہے جو ہر وقت ربِ حقیقی کے حضور پیش ہوتی رہتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنے اعمال اور کردار کو دیکھے، پھر کوئی شکایت کرے۔غلام…

Read more

تم نے نہیں سنا کہ کوئی شیریں گفتار ایک رات یاروں میں بیٹھا درزیوں کی شکایت کر رہاتھا اور لوگوں کو اس گروہ کی چوریوں کے قصّے سنا رہاتھا۔ اس نے اچھا خاصا درزی نامہ پڑھ ڈالا اور خلقت اس کے اطراف جمع ہوکر سنتی رہی۔ سننے والوں کو جس قدر دلچسپی ہو رہی تھی اسی قدر وہ بھی مزے لے لے کر بیان کر رہا تھا بلکہ سراپا حکایت بن گیا تھا۔ جب اس نے درزیوں کی بہت سی چوریوں کے حالات سنائے کہ یہ مکّار کس کس طرح لوگوں کو ٹھگتے اور نقصان پہنچاتے ہیں تو سننے والوں میں سے ملکِ خطا کا ایک ترک ان کی بدمعاشیوں پر بالکل آپے سے باہر ہوگیا۔اس نے پوچھا کہ اے داستان گو! یہ تو بتا کہ تمہارے شہر میں کون سا درزی مکر و دغا میں سب کا استاد ہے؟ اس نے کہا کہ ایک درزی پورشش نامی بڑا زہر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کئی دنوں سے مسلسل جنگل میں بارش ہو رہی تھی۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل کی زمین جگہ جگہ پانی سے بھر چکی تھی۔ایک مکوڑا بارش سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک اسے زمین میں ایک سرنگ نظر آئی۔ وہ جلدی سے اس میں گھس گیا۔کچھ دور جانے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ تو چیونٹیوں کی بستی ہے۔چیونٹیاں پہلے تو چونکیں، مگر جب مکوڑے نے ادب سے کہا: “معاف کیجیے گا، میں آپ کی اجازت کے بغیر اندر آ گیا ہوں۔ باہر بارش بہت شدید ہے، اس لیے پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔” تو چیونٹیوں نے اسے مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ اتفاق سے کھانے کا وقت تھا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا، بہترین خوراک پیش کی اور اپنی بستی بھی دکھائی۔ مکوڑا حیران رہ گیا۔جہاں تک اس کی نظر…

Read more

ایک شہر کی بلی تھی۔ عمر بھر اس نے گلیوں، محلّوں اور صحنوں میں زندگی گزاری تھی۔ اس کے دن بڑے مزے سے گزرتے تھے۔ کہیں دودھ کا پیالہ مل جاتا، کہیں روٹی کا ٹکڑا، اور اگر قسمت زیادہ مہربان ہوتی تو کوئی موٹا تازہ چوہا بھی ہاتھ آ جاتا۔ مگر ایک دن شہر بھر میں عجیب مصیبت آ گئی۔چوہے جیسے زمین کھا گئی ہو۔نہ کسی گودام میں آواز، نہ کسی دیوار کے سوراخ میں جنبش، نہ رات کے اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی چاپ۔ بلی پریشان ہو گئی۔پہلے ایک دن انتظار کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔آخر اس نے سوچا:“اگر رزق شہر میں ختم ہو گیا ہے تو کیوں نہ جنگل کا رخ کیا جائے؟ سنا ہے وہاں چوہوں کی بھرمار ہے۔” یہ سوچ کر وہ جنگل کی طرف چل پڑی۔ جنگل پہنچ کر اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔واقعی چوہے ہی چوہے تھے۔جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں کے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو اپنی کنجوسی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے گھر سے ایک دانہ گندم بھی کم ہو جائے تو وہ آدھا دن اس کے حساب میں گزار دیتا ہے۔ اس کے گھر میں ایک مرغا تھا جو ہر صبح اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا اور پورے گھر کو جگا دیتا تھا۔ کسان کو اس مرغے سے عجیب قسم کی محبت تھی، مگر گاؤں والے جانتے تھے کہ یہ محبت مرغے سے زیادہ اس فائدے سے تھی جو اسے مفت میں حاصل ہو رہا تھا کہ مرغا ان کو ٹائم سے جگا دیتا تھا۔ایک دن اچانک مرغا مر گیا۔ کسان نے جب اپنے صحن میں مرغے کو بے جان پڑا دیکھا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا، سر جھکا لیا اور گہری…

Read more

بخارا کے ایک بازار میں ایک تاجر رہتا تھا۔اچھا خاصا کاروبار تھا — مصالحے، ریشم، عطر —لیکن اس کے گھر کی سب سے قیمتی چیز —نہ ریشم تھی، نہ عطر —بلکہ —ایک طوطا تھا۔وہ طوطا جیسے کوئی اور نہیں —پنجرے میں بیٹھتا — سبز پروں کو سنوارتا —اور پھر بولتا —اس طرح بولتا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔شعر سناتا —باتیں کرتا —مہمانوں کا نام لے کر سلام کرتا —مزاق کرتا — قہقہہ لگاتا۔تاجر اسے بہت چاہتا تھا —صبح اٹھ کر پہلے طوطے کے پاس جاتا —رات کو سوتے وقت پنجرے کو کپڑے سے ڈھانپتا —“میرا سورج — میری خوشی۔”ایک دن —تاجر کو ہندوستان کا سفر درپیش ہوا —کاروباری معاملہ تھا — جانا ضروری تھا۔اس نے گھر والوں سے پوچھا —“کیا لاؤں تمہارے لیے؟”کسی نے کپڑا مانگا —کسی نے زیور —کسی نے مصالحے۔آخر میں تاجر طوطے کے پنجرے کے پاس آیا —اور پیار سے بولا:“بتاؤ — تمہارے لیے کیا لاؤں؟”طوطے…

Read more

راجستھان کی تپتی ریتوں اور سنہری قلعوں کے زمانے کی بات ہے۔ ایک ریاست کا بادشاہ اپنے علم و دانش پر بڑا ناز کرتا تھا، مگر ساتھ ہی عجائبات اور کرامات سننے کا بھی شوقین تھا۔ اسی کمزوری کی خبر دور دور تک مشہور تھی۔ایک دن دربار میں ایک جوگی آن پہنچا۔ اس کی لمبی جٹائیں کندھوں پر بکھری تھیں، گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالائیں تھیں اور پیشانی پر ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی۔جوگی نے دربار میں داخل ہوتے ہی گرجدار آواز میں کہا:“اے راجَن! عام انسان دو آنکھوں سے دنیا دیکھتے ہیں، مگر میرے پاس تیسری آنکھ ہے، جو پردۂ مستقبل کے پار بھی دیکھ لیتی ہے!”درباری حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کسی نے سبحان اللہ کہا، کسی نے کرامت کا چرچا چھیڑ دیا۔مگر بادشاہ نے غور سے جوگی کی پیشانی دیکھی اور مسکراتے ہوئے بولا:“بابا! یہ تیسری آنکھ کم اور رنگ…

Read more

کہتے ہیں کہ مشرقی افریقہ کے کسی قدیم ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک روز دربار کی سازشوں، درباریوں کی چاپلوسی اور وزیروں کی مکاریوں سے تنگ آ کر اس نے گہری سانس لی اور بولا:“انسان عجیب مخلوق ہے؛ زبان پر شہد، دل میں زہر۔ جھوٹ، فریب اور لالچ اس کی گھٹی میں پڑا ہے۔ کیوں نہ کسی ایسے جانور کو وزیر بنا دوں جو کم از کم منافقت سے پاک ہو؟”یہ کہہ کر اس نے شاہی اصطبل سے ایک گدھا منگوایا اور فرمان جاری کر دیا:“آج سے یہ ہمارا وزیر ہے!”فرمان کیا تھا، شہر بھر میں قہقہوں کا طوفان آ گیا۔ چوک، بازار، گلیاں اور قہوہ خانے سب اسی قصے سے گونج اٹھے۔ لوگ کہتے:“دیکھو بھئی! اب سلطنت کے معاملات عقل سے نہیں، ڈھینچوں سے چلیں گے!”بادشاہ کو مگر اپنی دانائی پر بڑا ناز تھا۔چند دن بعد ملکہ نے مسکراتے ہوئے بادشاہ سے پوچھا:“جہاں پناہ! ایک بات…

Read more

بہت زمانہ پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جہاں لوگ خوشحال اور مطمئن زندگی گزارتے تھے۔ ان کا بادشاہ انصاف پسند اور اپنی رعایا سے محبت کرنے والا تھا۔ وہ اکثر سوچتا رہتا کہ اپنے لوگوں کے لیے مزید کیا کیا جائے تاکہ ان کی زندگی اور بہتر ہو سکے۔ایک دن بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی سلطنت کے دور دراز علاقوں کا خود جائزہ لے گا۔ اس نے شاہی سواری اور پروٹوکول کے بجائے پیدل سفر کو ترجیح دی تاکہ وہ عوام کے حالات کو قریب سے دیکھ سکے۔سفر کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ بادشاہ نے خوبصورت وادیاں دیکھیں، تاریخی مقامات کی سیر کی اور مختلف دیہات کے لوگوں سے ملاقات کی۔ رعایا اپنے بادشاہ کو اپنے درمیان پا کر بے حد خوش ہوئی۔مگر اس طویل سفر کا ایک ناخوشگوار نتیجہ بھی نکلا۔واپسی پر بادشاہ کے پاؤں بری طرح زخمی ہو چکے تھے۔ پتھریلی اور کھردری سڑکوں پر مسلسل…

Read more

جنگل کے کنارے ایک ندی بہتی تھی۔ وہ نہایت خاموش مزاج تھی۔ نہ کسی سے الجھتی تھی، نہ اپنی تعریف کرتی تھی۔ پہاڑوں سے اترتی، میدانوں سے گزرتی اور اپنے راستے پر بہتی چلی جاتی۔ اسی ندی کے کنارے ایک بہت بڑی چٹان پڑی تھی۔ وہ اتنی بڑی اور مضبوط تھی کہ دور سے دیکھنے والے اسے پہاڑ کا ٹکڑا سمجھتے تھے۔ اسے اپنی طاقت پر بڑا غرور تھا۔جب بھی ندی اس کے قریب سے گزرتی، چٹان طنزیہ انداز میں کہتی: “مجھے دیکھو! صدیوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہوں۔ نہ کبھی جھکی، نہ کبھی اپنا راستہ بدلا۔ اور ایک تم ہو کہ ذرا سا پتھر سامنے آجائے تو راستہ بدل لیتی ہو۔ کبھی دائیں مڑ جاتی ہو، کبھی بائیں۔” ندی مسکرا کر خاموش رہتی اور بہتی رہتی۔ وقت گزرتا رہا۔ چٹان اپنی مضبوطی کے قصے خود ہی سناتی رہی اور ندی اپنی خاموش دھن میں سفر کرتی رہی۔پھر ایک…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک بہت ہی سخی اور رحم دل بادشاہ رہتا تھا۔ اسے پرندوں اور جانوروں سے بہت لگاؤ تھا، اور اس نے اپنی سلطنت میں ایک بہت بڑی پرندوں کی پناہ گاہ بنوا رکھی تھی۔ وہ جانوروں اور پرندوں کو تکلیف دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ انہیں گوشت کے لیے بھی نہیں مارتا تھا۔ پرندوں کے ساتھ اس کی سخاوت اور مہربانی سے خوش ہو کر، ایک تاجر نے بادشاہ کو دو خوبصورت شاہین تحفے میں دیے۔ وہ دونوں شاہین مختلف آب و ہوا کے عادی تھے۔ بادشاہ نے تاجر کا شکریہ ادا کیا اور پرندوں کے نگرانِ اعلیٰ کو حکم دیا کہ ان خوبصورت شاہینوں کو تمام سہولیات فراہم کرے اور انہیں اپنے ملک میں آرام دہ محسوس کرائے۔ نگران نے پرندوں کا بہت خیال رکھا۔ آہستہ آہستہ، پرندے ملک کی آب و ہوا کے عادی ہو گئے۔ ایک دن، بادشاہ نے شاہینوں کو…

Read more

860/1815
NZ's Corner