Category Archives: Urdu Stories

پھانسی سے قبل مجرم سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے حج سے کہا کہ جیل کی چٹائی پر مجھے نیند نہیں آتی، میں زندگی کی آخری رات چٹائی کی بجائے ایک آرام دہ بیڈ پر سونا چاہتا ہوں اور بیڈ پر برف کا بلاک بھی موجود ہونا چاہیے۔ پھانسی سے ایک رات پہلے جب حج محمد یوسف کی کوٹھڑی میں داخل ہوا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی ٹھہراؤ تھا۔ جیل کے اُجالے میں بھی وہ شخص سائے کی طرح لگ رہا تھا۔ حج نے پوچھا: کوئی آخری خواہش؟ محمد یوسف نے آہستگی سے سر اٹھایا۔ اس کی داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی تیزی تھی جو بیس سال پہلے تھی جب وہ جھنگ کی گلیوں میں موٹر سائیکل کی آواز سے پوری بستی جگا دیا کرتا تھا۔ اس نے کہا: حج صاحب، مجھے جیل کی چٹائی پر نیند نہیں آتی۔ زندگی کی…

Read more

ایک دن ایک مرغا درخت کی ایک اونچی شاخ پر بیٹھا، ککڑوکوں ککڑوکوں کر رہا تھا۔ اتفاق سے ایک لومڑی درخت کے نیچے سے گزری اور مرغے کی آواز سن کر اوپر دیکھنے لگی۔ درخت پر ایک تازہ اور موٹا نوجوان مرغا نظر آیا تو لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی: “یہ شکار تو بہت عمدہ ہے، مگر اسے نیچے کیسے بلاؤں؟” کچھ دیر سوچنے کے بعد لومڑی نے بات چیت شروع کی: “کہو میاں مرغے، کیسا حال ہے؟” مرغے نے جواب دیا:“مہربانی! سناؤ تمہارا مزاج کیسا ہے؟” لومڑی مسکرا کر بولی:“تمہاری دعا سے سب ٹھیک ہے۔ ہاں، میں نے آج ایک بہت اچھی خبر سنی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کیا؟” مرغے نے کہا:“کیسی خبر؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔” لومڑی نے محسوس کیا کہ مرغا اس کی چکنی اور عقل مند باتوں میں پھنسنے کے لیے تیار ہے۔ وہ مسکرا کر…

Read more

وکیل آدھی رات کو گھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا. بیوی: دروازہ نہیں کھولونگی، اتنی رات کو جہاں سے آرہے ہو وہیں چلے جاؤ.وکیل: دروازہ کھولو نہیں تو نالے میں کود کر اپنی جان دے دونگا. بیوی: مجھے کوئی پرواہ نہیں تمہیں جو کرنا ہے وہ کرو. اس کے بعد وکیل دروازے کے پاس کے اندھیرے حصے میں جاکر کھڑا ہو گیا، اور دو منٹ انتظار کیا، پھر ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور نالے کے پانی میں پھینک دیا. بیوی نے سنا تو فوراً دروازہ کھولا اور نالے کی طرف دوڑی. اندھیرے میں کھڑا وکیل دروازے کی طرف بھاگا اور گھر کے اندر سے دروازہ بند کر لیا. بیوی: دروازہ کھولو، نہیں تو میں چلا چلا کر سارے محلے کو جگا دونگی. وکیل: خوب چلاؤ، جب تک سارے پڑوسی جمع نہ ہو جائیں، پھر میں ان کے سامنے تم سے پوچھونگا کہآدھی رات کو کہاں سے آرہی ہو؟ کالا کوٹ…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

ایک جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جب ایک دشمن زد میں آیا تو آپ تلوار سونت کر جھپٹے۔ اس نے حضرت علی کے چہرۂ پر نور پر جوہر نبی و ولی کا فخر تھے، تھوک دیا۔ اس نے ایسے چہرے پر تھوکا کہ اگر چاند بھی مقابل آئے تو اس کے سامنے سجدہ بجا لائے ،مگر حضرت علی اپنا غصہ پی گئے اور اسی وقت تلوار پھینک کر اس کافر پہلوان سے کنارہ کرنے لگے۔ وہ پہلوان آپ کی اس حرکت سے حیران ہوگیا کہ بھلا اظہارِ عفو اور رحم کا یہ کیا محل تھا۔ اس نے پوچھا کہ تم نے مجھ پر ابھی تو شمشیرِ آب دار کھینچی اور ابھی کے ابھی تلوار پھینک کر مجھے چھوڑ دیا۔ اس کا کیا سبب ہے؟ میری جنگ آزمائی میں تم نے ایسی کیا بات دیکھی کہ مجھ پر غالب آنے کے بعد بھی مقابلے سے ہٹ گئے۔ آپ…

Read more

مصر کی سرزمین اُس دور میں انصاف اور عدل کی مثال سمجھی جاتی تھی، کیونکہ وہاں حکومت تھی عظیم سلطان صلاح الدین ایوبی کی۔ سلطان نہ صرف ایک بہادر سپہ سالار تھے بلکہ عقل و فراست میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں اگر کوئی مظلوم فریاد لے کر آتا تو خالی ہاتھ واپس نہ جاتا۔ایک دن صبح سویرے قاہرہ کے مضافات میں واقع ایک پرانے کنویں سے بدبو اٹھنے لگی۔ گاؤں والوں نے جب جھانک کر دیکھا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کنویں کے اندر ایک نوجوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لڑکی غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور چند دنوں سے لاپتہ تھی۔ اس کے والدین سلطان کے دربار میں پہنچے اور انصاف کی دہائی دی۔سلطان نے فوراً حکم دیا کہ کنواں بند کر دیا جائے اور لاش نکال کر معائنہ کیا جائے۔…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے، بادشاہ اورنگ زیب  کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا:“بادشاہ سلامت! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے دربار میں اہلِ فن کی بہت قدر کی جاتی ہے؟” بادشاہ سلامت نے فرمایا:“ہاں! بالکل، اہلِ فن کی قدر کرنی چاہیے اور ہمارے ہاں یہ قدر کی جاتی ہے۔” اس شخص نے کہا:“عالی جناب! میں ایک بہروپیا ہوں، مجھے اللہ پاک نے یہ صلاحیت دی ہے کہ میں کوئی بھی روپ دھار لیتا ہوں اور سامنے والا مجھے پہچان نہیں پاتا۔” بادشاہ اورنگ زیب رَحمۃُ اللہ علیہ نے کہا:“ٹھیک ہے، تم اپنا فن مجھے دکھاؤ! جس دن تم ایسا روپ دھار لو کہ میں تمہیں نہ پہچان سکوں، اس دن تمہیں انعام دوں گا۔” چند دن گزرے، بادشاہ سلامت بیمار ہو گئے۔ پورے ملک میں خبر پھیل گئی۔ ایک دن دربان نے عرض کیا:“عالی جاہ! آپ کے بیمار ہونے کی خبر ایران تک پہنچی…

Read more

ایک وسیع و عریض جنگل میں، جہاں جانور اپنے معاملات طے کرنے کے لیے “عظیم باؤباب” کے درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے، وہاں ایک بوڑھا الو رہتا تھا۔ اسے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ دانا سمجھا جاتا تھا۔ جانور اسے “بزرگ الو” کہتے تھے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دور تک دیکھ سکتا تھا اور وہ باتیں سمجھ لیتا تھا جو دوسرے نہیں سمجھ پاتے تھے۔ جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا یا کوئی مشکل سوال سب کو پریشان کرتا، جانور اس کی اونچی شاخ کی طرف دیکھتے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ الو کی پرسکون آنکھوں کے پیچھے سچائی چھپی ہوتی ہے۔ ایک موسم، شیر بادشاہ نے جنگل کے خوراک اور پانی کے مشترکہ ذخیرے کے انتظام کے لیے ایک کونسل مقرر کی۔ ہرنوں نے اناج دیا، شہد کی مکھیوں نے شہد جمع کیا اور ہاتھیوں نے اپنی سونڈوں میں بھر کر پانی پہنچایا۔ سب جانوروں کو یقین…

Read more

ایک شہر میں عاقب نام کا ایک لالچی اور کم عقل سوداگر رہتا تھا۔ عاقب ہمیشہ دوسروں پر اپنی ذہانت کا رعب ڈالنا پسند کرتا، حالانکہ اس کی سوچ بہت سطحی تھی۔عاقب کے پاس ایک پرانا مگر تجربہ کار اونٹ تھا، جس کا نام ‘صابر’ تھا۔ صابر نے کئی سالوں تک عاقب کے ساتھ دور دراز کے سفر کیے تھے اور صحرا کے تمام مزاج جانتا تھا۔ایک دن عاقب کو ایک طویل اور خطرناک صحرائی سفر پر جانا تھا۔ جانے سے پہلے، وہ اپنی ہوشیاری دکھانے کے لیے گاؤں کے چوک میں اونٹ کو خوب سجا کر کھڑا ہوا اور لوگوں کو بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ اس نے اپنے “خاص علم” سے اندازہ لگا لیا ہے کہ سفر آسان رہے گا۔ایک بزرگ، جو عاقب کی حرکتوں سے واقف تھے، نے پوچھا:“بیٹا، تم تو سارا علم اپنے دماغ میں رکھتے ہو، تمہارا اونٹ صابر سفر کے بارے میں…

Read more

ایک دن ایک مشہور قسم کا شرابی نوکری کے لیے انٹرویو دینے پہنچ گیا۔ آنکھیں ذرا سرخ، بال تھوڑے بکھرے ہوئے، مگر اعتماد پورا آسمان پر! انٹرویو روم میں ایک باوقار سی لڑکی بیٹھی تھی جو بڑے سنجیدہ انداز میں سوالات کر رہی تھی۔ لڑکی نے پہلا سوال کیا:“کیا آپ شراب پیتے ہو؟” شرابی نے بڑے سکون سے جواب دیا:“جی ہاں، پیتا ہوں۔” لڑکی نے بھنویں اٹھائیں:“کتنی پیتے ہو؟” شرابی بولا:“بس کوئی چھ پیک روزانہ…” لڑکی نے فوراً کیلکولیٹر نکالا (یا دماغ میں ہی حساب لگا لیا 😏):“اوہ! چھ پیک؟ اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟” شرابی:“کوئی ہزار روپیہ روزانہ سمجھ لیں۔” لڑکی:“اور کب سے پی رہے ہو؟” شرابی نے فخر سے کہا:“کوئی پندرہ سال ہو گئے۔” لڑکی نے مسکرا کر فاتحانہ انداز میں کہا:“تو اس حساب سے آپ مہینے کے تیس ہزار اور سال کے تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے شراب پر اڑا دیتے ہو۔ اور پندرہ سال میں…

Read more

ایک شکاری نے ایک ہرن کو قیدی بنا لیا اور اس کو گدھوں کے اصطبل میں بند کر دیا۔ ہرن چونکہ آزادی کا مزہ چکھ چکا تھا اور جنگل میں آزادانہ گھومنے پھرنے کا عادی تھا، اس لیے اسے اس قید سے بڑی پریشانی ہوئی۔ وہ اس اصطبل میں وحشت زدہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگتا مگر رہائی کے لیے کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ اس شکاری نے رات کے وقت گدھوں کے سامنے گھاس ڈالی۔ گدھے خوشی خوشی گھاس کھانے لگے مگر ہرن کو چین نہ تھا، وہ کبھی ادھر دوڑتا کبھی اُدھر دوڑتا۔ گدھوں کی خوراک کی طرف اس نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس قید کو اس نے اپنی موت خیال کیا۔ ہرن بہت دن تک گدھوں کے اصطبل میں قید رہا۔ جان کنی کی حالت میں اس طرح بے چین تھا جیسے مچھلی خشکی پر بے چین ہوتی ہے۔ اس کی حالت اس…

Read more

پرانی یونان میں اورفیئس نام کا موسیقار رہتا تھا، جس کی دھنیں دلوں کو ہلا دیتی تھیں۔ اس نے اپنی محبوبہ یوریڈائس سے بے پناہ محبت کی، مگر وہ اچانک موت کے ہاتھوں دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اورفیئس اپنے درد کے ساتھ زیرِ زمین دنیا میں اترا تاکہ اسے واپس لے آئے۔ اُس کی موسیقی نے وہاں کے سائے، درندوں، اور ہاڈیز کے پہرے داروں کو خاموش کر دیا۔ دیوتاؤں نے شرط رکھی:“یوریڈائس تمہارے پیچھے آئے گی، مگر تم پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا، جب تک اوپر کی روشنی نہ دیکھو۔” اورفیئس نے سفر شروع کیا۔ اندھیرا، لمبی سرنگیں، ہر قدم پر خوف۔ یوریڈائس کی سانسیں سنائی دیں، مگر وہ نظر نہ آئی۔ روشنی قریب آئی تو اس نے شک کی اجازت دی، اور ایک لمحے کی بے چینی میں پیچھے مڑ کر دیکھ لیا۔ یوریڈائس فوراً سایوں میں گھل گئی۔ اورفیئس کی بانسری زمین پر گر گئی، اور…

Read more

ایک یہودی اور ایک منافق(بظاہر مسلمان) کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور فیصلہ کے لئے یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانے کی تجویز رکھی ، منافق یہودکے اس سردار کعب بن اشرف کو ثالث بنانے پر بضد  تھا کیونکہ وہ رشوت خور یہودی تھا ، کافی حیل وحجت کے بعد دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ثالث بنانا مان لیا ۔چنانچہ وہ دونوں اپنا معاملہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ اس کا حق پر ہونا ثابت تھا لیکن منافق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور کہنے لگا کہ اب ہم عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو ثالث بنائیں گے ، وہ جو فیصلہ دیں گئے ہم دونوں کے لئے واجب التسلیم ہوگا ۔ یہودی نے…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس کے فیصلوں کے چرچے دور دراز ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ وہ جو فیصلہ کرتا، وقت خود اس کی گواہی دیتا۔ نہ کوئی فیصلہ پلٹتا اور نہ ہی کسی فیصلے پر پچھتاوا ہوتا۔ اس کی دانائی اور بصیرت مثال بن چکی تھی۔ قریب ہی ایک اور ریاست تھی جہاں کا بادشاہ اختیار میں کسی سے کم نہ تھا، مگر اس کے فیصلے اکثر الٹ پڑ جاتے تھے۔ حکم اصلاح کے لیے جاری ہوتا مگر نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا، اور نیک نیتی کے باوجود بغاوت جنم لے لیتی۔ وہ اس الجھن کا سبب سمجھ نہ پاتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے بیٹے، شہزادے، کو بلایا اور کہا کہ وہ دوسرے بادشاہ کے دربار میں جا کر رہے، دیکھے، سیکھے اور سمجھے کہ آخر وہ کون سا عمل ہے جو اس کے فیصلوں کو درست بنا دیتا ہے جبکہ یہاں ہر…

Read more

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب عبدالمطلب نے بیان کیا کہ میں حطیم والی جگہ پر سویا ہوا تھا کہ خواب میں کسی نے آکر مجھ سے کہا کہ ’’طیبہ‘‘ کی کھدائی کرو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’طیبہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔ دوسرے دن پھر میں اسی جگہ سویا ہوا تھا کہ خواب میں آنے والے نے مجھ سے کہا کہ ’’برہ‘‘ کو کھودو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’برہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ وہ مجھے کوئی جواب دیے بغیر چلا گیا۔ اس سے اگلے دن پھر میں اسی جگہ سویا ہوا تھا کہ خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ ’’مضنونہ‘‘ کی کھدائی کرو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’مضنونہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔ اس سے اگلے دن پھر میں…

Read more

کسی گاؤں میں‌ ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ ‌دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھّی قسم کا بیل اور عربی گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں‌ ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔ زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں ‌اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ…

Read more

یہ پرانے زمانے کے ایک قصبے کا ذکر ہے جہاں کے قاضی صاحب (جج) اپنی عقل سے زیادہ اپنی کرسی اور رعب کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن عدالت لگی ہوئی تھی اور دو پڑوسیوں، بشیر اور نذیر کے درمیان ایک گدھے کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا۔ بشیر کہتا تھا: “حضور! یہ گدھا میرا ہے، بچپن سے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے۔”نذیر کہتا تھا: “نہیں سرکار! یہ گدھا میرا ہے، اس کی شرافت بتاتی ہے کہ یہ میرے گھر پلا ہے۔” قاضی صاحب نے دونوں کی باتیں سنیں، کچھ دیر گہری سوچ میں رہے (یا شاید اونگھ رہے تھے)۔ پھر اچانک غصے میں میز پر ہاتھ مارا اور بولے:“خاموش! تم دونوں جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کیس کا فیصلہ اب یہ گدھا خود کرے گا!” عدالت میں موجود لوگ حیران رہ گئے کہ گدھا کیسے فیصلہ کرے گا؟ قاضی صاحب نے حکم دیا کہ گدھے…

Read more

ایک وسیع اور پیاسے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا، جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ چھوٹے سے ہرن سے لے کر قد آور زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے ٹھنڈے پانی پر منحصر تھے۔ خشک سالی کے موسم میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس مرجھا جاتی، تو یہی دریا زندگی کی واحد امید بن جاتا۔ ایک سال، ایک بڑے سے بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ کو ڈھونڈ نکالا، جہاں سے تمام جانوروں کو پانی پینے کے لیے گزرنا پڑتا تھا۔ وہ جگہ اتنی کم گہری تھی کہ وہاں پہرہ دینا آسان تھا۔ اپنی اس برتری کو دیکھتے ہوئے، بھینسے نے ندی کے عین درمیان ڈیرے ڈال دیے۔ اس کے بھاری بھرکم جسم نے راستہ روک لیا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔ جب بھی کوئی پیاسا جانور قریب آتا،…

Read more

💯 فاتح کبھی نہیں بھاگتا دو لڑکے گاؤں کی سڑک پر جا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ شہر میں دودھ کی ترسیل کے لیے بڑے بڑے ڈبے لوڈ کیے جا رہے ہیں۔ قریب کوئی نہ تھا تو انہیں شرارت سوجھی، انہوں نے دو بڑے مینڈک پکڑے اور الگ الگ ڈبوں میں ڈال دیے، پھر وہ ڈبے شہر کے لیے روانہ ہو گئے۔ سفر کے دوران پہلے ڈبے والے مینڈک نے سوچا:“یہ کیا مصیبت آ گئی! میں اس ڈبے کا ڈھکن نہیں ہٹا سکتا، یہ بہت بھاری ہے۔ میں نے کبھی دودھ میں نہایا بھی نہیں، یہ کیسی آزمائش ہے۔ میں نیچے تک بھی نہیں جا سکتا کہ پوری طاقت سے اچھل کر ڈھکن ہٹا سکوں۔” آخرکار وہ مایوس ہو گیا، اس نے جدوجہد چھوڑ دی اور ہمت ہار دی۔ جب شہر پہنچ کر ڈبے کا ڈھکن کھولا گیا تو وہ مینڈک مردہ حالت میں دودھ کی سطح پر تیر…

Read more

880/1291
NZ's Corner