Category Archives: Urdu Stories

ایک صوفی بحالتِ سفر کسی خانقاہ میں پہنچا اور اپنے گدھے کو اصطبل میں باندھ کر ڈول میں پانی بھر کر پلایا اور گھاس اپنے ہاتھ سے ڈالی۔ یہ صوفی ویسا غافل صوفی نہ تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے گدھے کی دیکھ بھال میں کچھ کمی نہیں کی لیکن جب امرشدنی ہو تو احتیاط سے کیا ہوتا ہے۔ اس خانقاہ کے صوفی سب مفلس قلاش تھے اور جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض دفعہ محتاجی کفر تک پہنچادیتی ہے۔ اے تونگر تو پیٹ بھرا ہے کسی درد مند فقیر کی کج روی کا مذاق نہ اڑا۔ غرض وہ گروہِ صوفیا گدھے کو بیچ ڈالنے کے در پے ہوا اور تاویل اپنے گناہ کی یہ کی کہ ضرورت پر مردار بھی حلال ہوجاتا ہے۔ پھر سب نے مل کر وہ گدھا بیچ دیا اور مزے مزے کے کھانے لائے اور خوب…

Read more

ایک دفعہ نصیر کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ اس کے پاس پانچ لاکھ روپے نقد (Cash) تھے، اور اسے ڈر تھا کہ کہیں ٹرین میں کوئی چور اسے لوٹ نہ لے۔ اس نے بڑی عقل لڑائی اور ایک لفافے میں پیسے ڈال کر اس کے اوپر ایک پرچی چپکا دی جس پر لکھا تھا: “اس میں صرف ‘پرانے اخبارات’ ہیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں۔” نصیر بڑا خوش ہوا کہ اب تو کوئی چور اسے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ ٹرین میں اسے نیند آ گئی اور وہ خراٹے لینے لگا۔ جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو لفافہ غائب تھا اور اس کی جگہ ایک دوسری پرچی پڑی تھی جس پر لکھا تھا: “بھائی صاحب! میں چور نہیں ہوں، ‘ردی’ بیچنے والا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میرا کام آسان کر دیا!”🤣😂🤣🤣 #منقول

⏱️ خاموشی کی طاقت — ایک سبق آموز کہانی ایک دن ایک کسان کو احساس ہوا کہ اس کی گھڑی گھاس کے گودام میں کہیں کھو گئی ہے۔ مالی لحاظ سے وہ گھڑی زیادہ قیمتی نہیں تھی، مگر اس کے لیے بے حد انمول تھی کیونکہ وہ اسے کسی بہت پیارے شخص کی طرف سے تحفے میں ملی تھی۔ اس نے ہر ممکن جگہ تلاش کی—گھاس کے ڈھیروں کو الٹا، گودام کے فرش پر جھکا اور رینگتا رہا—لیکن گھنٹوں کی محنت کے باوجود اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار تھک کر اس نے ہار مان لی۔ اتنے میں اس کی نظر قریب کھیلتے ہوئے چند لڑکوں پر پڑی، اس نے ان سے مدد مانگی اور وعدہ کیا کہ جو گھڑی ڈھونڈ لے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ بچے فوراً گودام میں گھس گئے اور ہر طرف گھاس کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا، لیکن اتنی بھاگ دوڑ اور شور شرابے…

Read more

ایک دن جام صاحب نے غیر معمولی بہادری دکھاتے ہوئے روزہ رکھ لیا۔دن کیا تھا، لگتا تھا سورج نے بھی قسم کھا لی ہوکہ آج جام صاحب کا ایمان چیک کر کے ہی ڈوبنا ہے۔ پہلے پہر تو جام صاحب بڑے ثابت قدم رہے۔پیاس آئی تو کہا:“صبر عبادت ہے۔” دوسرے پہر پیاس نے کہا:“میں بھی عبادت ہوں، برداشت کرو!” تیسرے پہر جام صاحب نے محسوس کیاکہ عبادتیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔ گھر میں پانی پینا ممکن نہیں تھا،کیونکہ گھر میں دو خطرناک چیزیں ہوتی ہیں:ایک بیگم،اور دوسرا ان کی نظریں۔ جام صاحب نے فوراً ایک شرعی، سماجی اور گھریلو حل سوچا۔نہر پر جا کر “نہانے” کا۔ نہر پر پہنچے،ادھر ادھر نظر دوڑائی:“کوئی بھی نہیں تھا”دل کو کچھ تسلی ہوئی۔ اور فوراً پانی پینے کی غرض سے نہانے کے بہانےایک ٹبی لگانے کا ارادہ کیا۔ پہلے اوپر دیکھا،پھر دائیں،پھر بائیںسب ٹھیک تھا۔ اب ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نیچے جھکے ہی…

Read more

چوہدری صاحب کا “تربیت یافتہ” گھوڑاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک میراسی (جو اپنی حاضر جوابی کے لیے مشہور تھا) چوہدری صاحب کے پاس گیا اور بولا: “چوہدری صاحب! سنا ہے آپ نے ایک ایسا گھوڑا خریدا ہے جو صرف مذہبی کلمات پر چلتا ہے؟”چوہدری صاحب نے فخر سے مونچھوں کو تاؤ دیا اور بولے: “ہاں بھئی! اسے میں نے خود تربیت دی ہے۔ جب کہو ‘الحمدللہ’ تو یہ گولی کی طرح بھاگتا ہے، اور جب کہو ‘سبحان اللہ’ تو فوراً رک جاتا ہے۔”میراسی کو یقین نہ آیا، تو چوہدری صاحب نے اسے گھوڑے پر بیٹھ کر تجربہ کرنے کی دعوت دی۔ میراسی گھوڑے پر سوار ہوا اور ڈرتے ڈرتے بولا: “الحمدللہ!”گھوڑا تو جیسے اسی لفظ کا انتظار کر رہا تھا، وہ ایسی رفتار سے بھاگا کہ میراسی کی سٹی گم ہو گئی۔ سامنے ایک بہت بڑی کھائی تھی اور گھوڑا سیدھا اسی طرف جا رہا تھا۔ میراسی گھبراہٹ…

Read more

بچپن میں اکثر سنتے تھے کہ زیادہ علم انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ تب یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب میں یہ دعویٰ پورے یقین سے کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے۔ایک روز میرے مالی ‘جیرے’ نے مجھے بتایا کہ اس کے گاؤں میں ایک شخص زیادہ پڑھ لکھ کر پاگل ہو گیا ہے۔ وہ شہر میں ہیڈ ماسٹر تھا، مگر اب وہ گاؤں میں ہاتھ میں اینٹ اٹھائے “غاؤں غاؤں” کرتا پھرتا ہے۔ تجسس کے مارے میں نے رختِ سفر باندھا اور دشوار گزار راستوں سے ہوتا ہوا اس دور افتادہ گاؤں جا پہنچا۔وہاں میری ملاقات جیرے کے بہنوئی ‘نہلے’ سے ہوئی، جو گاؤں کا ایک بااثر شخص تھا۔ اس نے ہنستے ہوئے بتایا: “صاحب! وہ واقعی پاگل ہے، ویسے تو ٹھیک رہتا ہے مگر بحث لمبی ہو جائے تو اینٹ اٹھا لیتا ہے۔” اگلے دن پورا گاؤں کسی میلے…

Read more

بہت عرصے پہلے کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں رحمت نامی ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ وہ بڑی ایمانداری سے محنت مزدوری کرتا تھا، لیکن اس کی کمائی بمشکل اس کے خاندان کا پیٹ پالنے کے قابل ہوتی تھی۔ ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں چن رہا تھا کہ اس کی نظر ایک پرانے، زنگ آلود لوٹے پر پڑی۔ اس نے سوچا کہ گھر لے جاؤں گا، پانی بھرنے کے کام آئے گا۔ جب وہ لوٹا اٹھانے لگا تو اس سے ایک عجیب سی آواز آئی، “مجھے رگڑو، مجھے رگڑو۔” رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے لوٹے کو رگڑا تو ایک دیو قامت جن وجود میں آ گیا۔ جن نے کہا، “اے میرے نئے آقا! آپ نے مجھے اس قید سے آزاد کرا لیا۔ اب میں آپ کی ہر خواہش پوری کروں گا۔” رحمت نے پہلے تو یقین نہیں کیا، لیکن جب اس نے کھانے کی…

Read more

پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا، جس کے افراد کو ٹھگ کہا جاتا تھا۔ انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر مختلف فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ سامنے آیا اور بولا: “بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے غصے سے جواب دیا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” وہ مزید آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ملا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی طرف چل پڑا۔ لیکن آگے تیسرا ٹھگ منتظر تھا، اس نے بھی وہی…

Read more

چودھری صاحب کا ایک گدھا تھا جو بہت ہی سست اور ضدی تھا۔ ایک دن چودھری صاحب نے تنگ آ کر اپنے منشی سے کہا: “ منشی جی! اس گدھے کا کچھ کرو، یہ نہ چلتا ہے نہ کام کرتا ہے، بس کھڑا رہتا ہے۔” منشی جی بڑے ہوشیار تھے۔ انہوں نے ایک ترکیب نکالی اور گدھے کے کان میں جا کر کچھ “سرگوشی” کی۔ گدھا یکدم ایسے بھاگا کہ جیسے اسے آگ لگ گئی ہو! وہ اتنی تیز دوڑا کہ چودھری صاحب حیران رہ گئے۔ اگلے دن چودھری صاحب نے منشی جی سے پوچھا: “منشی جی! آپ نے اس کے کان میں ایسا کیا جادو کیا کہ یہ اتنا تیز دوڑنے لگا؟” منشی جی مسکرا کر بولے: “چودھری صاحب! جادو وادو کچھ نہیں، میں نے بس اسے اتنا کہا تھا کہ ‘تیری شادی ہونے والی ہے’!”😂🤣😂😂🤣 منقول

_سب سے بڑا اندھا کون؟_ ایک دن شہنشاہ اکبر کے دربار میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ دنیا میں نیک لوگ زیادہ ہیں یا بدکار۔ بات سے بات نکلی تو اکبر نے ایک عجیب سوال کر دیا: “بیربل! کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہماری سلطنت میں دیکھنے والے لوگ زیادہ ہیں یا اندھے؟” درباریوں نے فوراً کہا کہ ظاہر ہے دیکھنے والے زیادہ ہیں۔ لیکن بیربل مسکرائے اور بولے، “عالم پناہ! میرا اندازہ ہے کہ اس شہر میں اندھوں کی تعداد دیکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔” اکبر کو یہ بات عجیب لگی۔ انہوں نے کہا، “بیربل، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم اسے ثابت کر سکتے ہو؟” بیربل نے حامی بھر لی۔ اگلے دن بیربل شہر کے بیچوں بیچ ایک چوراہے پر جا کر بیٹھ گئے اور ایک پرانا جوتا گانٹھنے (سینے) لگے۔ ان کے پاس ایک کاغذ اور قلم بھی تھا جس پر…

Read more

وہ کنواں جس میں سقیلہ نامی غلام عورت نے اپنا بچہ چھپا دیا تھا—اور چالیس سال بعد وہ بچہ بغداد کا قاضی بنا وہ کنواں آج بھی موجود ہے، بصرہ کے قدیم قبرستان کے عقب میں۔ خشک پتھریلا کنواں، جس کے گرد اب صرف جنگلی جھاڑیاں ہیں اور رات کو گیدڑوں کے بولنے کی آواز۔ مگر جو شخص اس کنویں میں جھانک کر دیکھے، اسے چالیس سال پرانی خاموشی کی گونج سنائی دے گی۔ اور اس خاموشی میں ایک ماں کی سسکیاں ہیں، جس نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے اسے موت کے حوالے کر دیا تھا۔ سنہ ۱۲۰۵ ہجری۔ بصرہ کی گلیاں عباسی خلافت کے زوال کی داستانیں سناتی تھیں۔ تجارتی قافلے کم آنے لگے تھے، بازاروں میں اجاڑ پن تھا۔ مگر بصرہ کی منڈی میں ایک چیز کی مانگ ہمیشہ رہتی تھی—غلام۔ سقیلہ حبشی نسل کی ایک غلام عورت تھی۔ اس کا رنگ سیاہ تھا جیسے کالی…

Read more

کوئی تیسری چوتهی دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تها (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورے جنگل میں ایک ہی کوا تها دراصل کہانی ایک ہی کوے کی ہے). اللہ کے حکم سے پیاسا بهی تها (کوا ہو اور پیاسا نہ ہو ممکن ہی نہیں) وہاں بهی شاید جانوروں کے گناہوں کی وجہ سے بارش کا نام و نشان بهی نہیں تها. کوے سے جب پیاس برداشت نہ ہوئی تو سوچا کہ شہر کی طرف نکلوں شاید کہیں پانی نظر آجائے سو میاں کوے نے اڑان بهری ابهی تهوڑا سا فاصلہ ہی ناپا تها کہ اسے ایک گهڑا نظر آیا، پہلے تو غیرت نے اجازت نہ دی کیونکہ اس نے بهی سن رکها تها کہ ان کے قبیلے کے ہی ایک “جی” نے سارا دن گهڑے میں کنکریاں ڈال کر پانی پیا تها. اب اکیسویں صدی تهی، کسی کے پاس اتنا ٹائم کہاں…

Read more

وہ دیہاتی علاقے کا ایک تھانہ تھا۔ تھانہ خاصے بڑے گاؤں میں تھا۔ مجھے اس تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ میں نے سرکاری کاغذات سنبھالتے ہوئے زرگل خان کو غور سے دیکھا۔ ایک پٹھان سب انسپکٹر، جس کی مونچھوں میں ابھی تک وہ اکڑ تھی جو سرکاری ملازمت کی پہلی تنخواہ سے بنتی ہے، مگر آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی۔ آنکھیں گہری کھائیوں میں گر چکی تھیں۔ “کیا واقعی چڑیل کا قصہ ہے؟” میں نے پوچھا۔ زرگل خان نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “صاحب، میں نے سولہ سال نہیں، سولہ جنگیں لڑی ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ہر قسم کا انسان دیکھا۔ لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے…” اس کی آواز بیچ میں ٹوٹ گئی۔ تھانے کے عقبی حصے میں رات کی ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل بشیر احمد بیٹھا تھا۔ وہ لرز رہا تھا، اور اس کی انگلیاں بار بار کانوں کو چھو رہی…

Read more

بھولا کلاس کا سب سے نرالا طالب علم تھا۔ ایک دن استاد جی نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اعلان کیا: “بچو! آج میں تم سب کا ‘ذہانت’ کا امتحان لوں گا۔ جو میرے سوال کا صحیح جواب دے گا، اسے آدھی چھٹی پہلے مل جائے گی۔” سب بچے خوش ہو گئے، مگر بھولا تھوڑا پریشان تھا۔ استاد جی نے پہلا سوال کیا: “یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے پہلا انسان کون تھا؟” ایک بچے نے فوراً ہاتھ کھڑا کیا: “سر! حضرت آدم علیہ السلام۔”استاد جی: “شاباش! تم آدھی چھٹی میں گھر جا سکتے ہو۔” اب استاد جی نے دوسرا سوال کیا: “اچھا یہ بتاؤ، وہ کون سی چیز ہے جو سردی ہو یا گرمی، ہمیشہ ‘ٹھنڈی’ ہی رہتی ہے؟” دوسرے بچے نے جواب دیا: “سر! برف!”استاد جی: “بہت اچھے! تم بھی جا سکتے ہو۔” اب کلاس میں صرف بھولا اور دو تین بچے رہ گئے تھے۔ استاد جی…

Read more

ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا،“آپ کا جسم کمزور ہے، کیموتھراپی چل رہی ہے، روزہ رکھا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”لیکن سلیم احمد نے مسکرا کر جواب دیا،“ڈاکٹر صاحب، جان تو ویسے بھی اللہ کی امانت ہے۔ اگر اُس کے نام پر جائے تو کیا نقصان؟”سلیم پچپن سالہ کینسر کا مریض تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے اسپتال کے اسی کمرے میں داخل تھا۔ کبھی ڈرپ لگتی، کبھی انجکشن، کبھی ٹیسٹ۔ بال جھڑ چکے تھے، چہرہ زرد ہو چکا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے دل میں کوئی چراغ جل رہا ہو۔رمضان کا چاند نظر آیا تو اُس نے بیوی عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا،“میں پہلا روزہ ضرور رکھوں گا۔”عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔“آپ کی حالت ٹھیک نہیں، ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔”سلیم نے دھیمی آواز میں کہا،“زندگی بھر نمازیں بھی قضا ہوئیں، روزے بھی چھوٹے۔ اب اگر آخری رمضان ہو تو…

Read more

قدیم یونانی فلسفی سقراط اکثر لوگوں سے ایک اشتعال انگیز سوال پوچھا کرتا تھا: “اگر آگ لگ جائے تو تم سب سے پہلے کسے بچاؤ گے— اپنی شریکِ حیات کو یا اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو؟” تقریباً ہر کسی کا جواب ایک ہی ہوتا تھا: بچہ۔یقیناً یہ ایک انتہائی نجی اور جذباتی سوال ہے۔ لیکن سقراط اس فطری ردِعمل کو چیلنج کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بچائے گا۔ اس کی منطق اگرچہ سننے میں گراں گزرتی ہے مگر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے: اگر وہ اپنے بیٹے کو بچا لیتا ہے اور اپنی جیون ساتھی کو کھو دیتا ہے، تو وہ بچہ ماں کے بغیر پروان چڑھے گا— اور وہ خود اپنی زندگی اس انسان کی یاد میں گزارے گا جس نے اس کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ ماں کے بغیر بچہ اس محرومی کا بوجھ ہمیشہ…

Read more

ایک چور رات کے وقت ایک باغ میں گھس آیا۔وہ دبے پاؤں آم کے درخت پر چڑھا اور شوق سے آم کھانے لگا۔ اتفاق سے باغبان وہاں آن پہنچا۔اس نے اوپر نظر اٹھا کر کہا:“او بے شرم! یہ کیا حرکت ہے؟” چور مسکرایا، بڑی سنجیدگی سے بولا:“ارے نادان! یہ باغ اللہ کا ہے، میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔وہی مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں۔میں تو بس اس کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں،ورنہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی حرکت نہیں کرتا۔” باغبان نے عاجزی سے سر جھکایا اور بولا:“حضرت! آپ کا وعظ سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہمیں آپ جیسے کامل مومن کی دست بوسی کر سکوں۔سبحان اللہ! اس جہالت کے دور میںآپ جیسا عارفِ توحید مل جانا غنیمت ہے۔واقعی! جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہےاور بندے کا کوئی اختیار نہیں۔براہِ کرم نیچے تشریف لائیے۔” چور…

Read more

پہلے زمانے کے چور بھی گہرا مطالعہ رکھتے  تھے. امام جوزی رحمہ اللہ نے قاضی انطاکیہ کا ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہےکہ وہ ایک دن اپنے کھیتوں کو دیکھنے شہر سے نکلے تو شہر کے باہر ایک چور نے دھر لیا۔چور نے کہا کہ جو کچھ ہے میرے حوالے کردیجئے ورنہ میری طرف سے سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قاضی نے کہا : خدا تیرا بھلا کرے ۔ میں عالم آدمی ہوں اور دین میں اس کی عزت کا حکم دیا گیا ہے ساتھ میں قاضی شہر بھی ہوں لہذا مجھ پر رحم کر۔ چور نے کہا :الحمدللہ !ایسا شخص جو بیچارہ فقیر نادار ہو اور اپنا نقصان پورا نہ کرسکے کے بجائے آج ایک ایسے شخص کو اللہ نے میرے قابو میں دیا ہے کہ اگر اس کو میں لوٹ بھی لوں تو شہر واپس جاکر اپنا نقصان پورا کرسکتا ہے ۔ قاضی نے کہا :خدا…

Read more

سچائی کی ایک انمول قیمت لندن میں ایک پاکستانی کئی برسوں سے رہ رہا تھا۔ ایک دن اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک مقامی انگریز جوڑے کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ خود گھر کے ایک حصے میں رہتے تھے جبکہ دوسرا حصہ انہوں نے مجھے کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ہمارے درمیان کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ ہر مہینے کے آخر میں میں باقاعدگی سے انہیں کرایہ ادا کر دیا کرتا تھا۔ ہم پورے بارہ سال تک اکٹھے رہے۔ نہ انہوں نے کبھی مجھے کوئی تکلیف دی اور نہ میری طرف سے انہیں کبھی کوئی دکھ پہنچا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا: “کل آپ کی کیا مصروفیت ہے؟” میں نے جواب دیا: “کل میری چھٹی ہے اور میں گھر ہی میں رہوں گا۔” یہ سن کر انہوں نے خوشی…

Read more

ایک حاجی صاحب کافی بیمار تھے .اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئےاور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا‘چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے‘پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے‘ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟کوئی دوا‘ کوئی دعا‘ کوئی پیتھی‘ کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔حاجی صاحب نےفرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر‘ حکیم بیروزگار ہوجائیں۔سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے…

Read more

900/1291
NZ's Corner