آدھی روٹی

آدھی روٹی

وہ روز اپنی آدھی روٹی کسی اجنبی کے لیے رکھ دیتا تھا… پھر ایک دن سچ سامنے آ گیا!

کچھ نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کوئی نہیں دیکھتا…

مگر اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔

کہانی

ایک چھوٹے سے قصبے میں بشیر نام کا ایک غریب مزدور رہتا تھا۔

صبح سویرے مزدوری پر جاتا اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔

اس کی کمائی اتنی ہی ہوتی کہ گھر کا چولہا جل سکے۔

مگر اس کی ایک عجیب عادت تھی۔

وہ روز اپنے کھانے میں سے آدھی روٹی الگ رکھ دیتا۔

پھر رات کے وقت قصبے کے کنارے ایک پرانے درخت کے نیچے رکھ آتا۔

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔

لوگ ہنستے تھے۔

“خود کے پاس کچھ نہیں، اور خیرات کرنے نکل پڑا ہے!”

مگر بشیر خاموش رہتا۔

ایک رات اُس کا بیٹا پوچھ بیٹھا:

“ابا، آپ یہ روٹی کس کے لیے رکھتے ہیں؟”

بشیر مسکرایا۔

اور بولا:

“بیٹا، کبھی کبھی نیکی کا مستحق ہمیں نظر نہیں آتا، مگر وہ کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔”

وقت گزرتا گیا۔

پھر ایک سال ایسا آیا جب قصبے میں شدید بارشیں ہوئیں۔

کئی گھر گر گئے۔

لوگ بے گھر ہو گئے۔

بشیر بھی ان میں شامل تھا۔

اس کا چھوٹا سا گھر مٹی کا تھا جو بارش میں منہدم ہو گیا۔

اب اس کے پاس نہ رہنے کی جگہ تھی اور نہ کھانے کا انتظام۔

ایک رات وہ اپنے خاندان کے ساتھ پریشان بیٹھا تھا کہ اچانک چند لوگ اس کے دروازے پر آئے۔

وہ کھانا، کمبل اور ضروری سامان لائے تھے۔

بشیر حیران رہ گیا۔

“آپ لوگ کون ہیں؟”

ایک بوڑھے آدمی نے آگے بڑھ کر کہا:

“شاید آپ مجھے نہیں جانتے۔”

“میں وہی شخص ہوں جو کئی سالوں سے رات کو آپ کی رکھی ہوئی روٹی کھاتا تھا۔”

بشیر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

بوڑھے نے بتایا:

“میں ایک بے گھر مسافر تھا۔ کئی راتیں بھوکا گزریں۔ پھر ایک دن مجھے درخت کے نیچے روٹی ملی۔”

“میں روز وہاں جاتا رہا۔”

“وہ روٹی مجھے زندہ رکھنے کا سبب بن گئی۔”

بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“آج جب ہمیں پتا چلا کہ آپ مشکل میں ہیں، تو ہم آپ کو اکیلا کیسے چھوڑ دیتے؟”

بشیر کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔

اس دن اسے یقین ہو گیا کہ…

نیکی کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ ایک دن ضرور لوٹ کر آتی ہے۔

سبق

جو بھلائی آپ خاموشی سے کرتے ہیں، وہ کسی نہ کسی دن روشنی بن کر آپ کی زندگی میں واپس ضرور آتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner