ابو بخیل کے جوتے۔

ابو بخیل کے جوتے۔

بغداد شہر میں ابو بخیل طنبوری نامی ایک شخص رہتا تھا،وہ غضب کا کنجوس تھا۔ اس کے پاس جوتوں کا ایک پرانا جوڑا تھا۔ وہ ان جوتوں کو گزشتہ سات برس سے مسلسل پہن رہا تھا۔جب وہ کہیں سے ٹوٹ جاتے تو خود ہی ان میں پیوند لگا لیتا تھا۔ بار بار مرمت کرنے سے وہ جوتے اس قدر بھاری اور بدنما ہو گئے تھے کہ پورے شہر میں ابوبخیل کے جوتوں کی مثال دی جانے لگی۔
ایک روز وہ شیشہ گروں کے بازار سے گزر رہا تھا ۔ ایک بروکر نے اسے روک کر مال بنانے کا مشورہ دیا۔ اس نے بتایا کہ حلب سے آئے تاجر کے پاس میناکاری کے برتن ہیں، جو سستے داموں مل سکتے ہیں۔ ابوبخیل نے دگنے منافع کے لالچ میں ساٹھ دینار خرچ کر کے وہ تمام قیمتی شیشہ خرید لیا۔
کچھ دیر بعد ایک اور دلال نے اسے نصیبین سے آئے تاجر کے پاس موجود گلابوں کا سستا عرق دکھایا۔ ابو بخیل نے مزید ساٹھ دینار خرچ کیے اور وہ عرق خرید کر شیشے کی خوبصورت بوتلوں میں بھر لیا۔ اس نے یہ تمام بوتلیں اپنے گھر کے ایک نمایاں طاق پر سجا دیں تاکہ انہیں فروخت کر سکے۔
کاروبار سے فارغ ہو کر وہ حمام میں گیا، جہاں ایک دوست نے اسے ان بدصورت جوتوں کو بدلنے کا مشورہ دیا۔ ابوبخیل نے حامی بھر لی۔ جب وہ نہانے کے بعد باہر نکلا تو وہاں جوتوں کا ایک نیا جوڑا پڑا ہوا دیکھا ۔ اس نے سوچا کہ شاید اس کے دوست نے یہ جوتے اسے تحفہ دینے کے لیے رکھے ہیں، وہ انہیں پہن کر گھر چلا گیا۔
اصل میں وہ جوتے شہر کے قاضی کی تھے ، جو عین اسی وقت حمام کے اندر غسل کررہا تھا۔ قاضی نہاکر باہر نکلا تو اپنے جوتے غائب پا کر غصے سے آگ بگولا ہو گیا ۔تلاشی لی گئی تو وہاں ابو بخیل کے جوتے ملے۔ سپاہیوں نے فوراً ابوبخیل کو گرفتار کر لیا، جس پر اسے قید، کوڑے اور بھاری جرمانے کی سزا ملی۔
جیل سے رہا ہو کر ابو بخیل نے غصے میں وہ پرانے جوتے دریائے دجلہ کی لہروں کے حوالے کردیے ۔ تقدیر کا کھیل دیکھیے کہ ایک مچھیرے کے جال میں مچھلیوں کے بجائے وہی جوتے پھنس گئے۔ مچھیرے نے ازرہ ہمدردی انھیں ابو بخیل کے گھر کی کھڑکی سے اندر پھینک دیا تاکہ اسے واپس مل جائیں۔
بدقسمتی سے جوتے سیدھی عرقِ گلاب کی بوتلوں سے جا ٹکرائے عطر کی ساری قیمتی شیشیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو گئیں۔ ابو بخیل نے جب یہ بربادی دیکھی تو دہائیاں دینے لگا کہ ان منحوس جوتوں نے اسے کنگال کر دیا۔ اس نے کدال اٹھائی اور صحن میں گڑھا کھودنے لگا تاکہ انھیں ہمیشہ کے لیے دفن کر دے۔
پڑوسیوں نے کھدائی کی آواز سنی تو اسے چور سمجھا جو دیوار میں نقب زنی کررہاہے۔ انھوں نے حاکمِ شہر کو اطلاع دے دی۔ حاکم نے اسے طلب کیا اور پڑوسیوں کے گھر چوری کی کوشش کے الزام میں دوبارہ جیل بھیج دیا۔ ایک بار پھر بھاری جرمانہ ادا کرنے کے بعد اسے رہائی ملی تو اس کا غصہ اب اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
اس بار اس نے جوتوں کو ایک مسافر خانے کے بیت الخلا میں پھینک دیا تاکہ قصہ ہی ختم ہو جائے۔ مگر وہاں بھی ان جوتوں نے سیوریج کے نظام خراب کر دیا ۔ ہر طرف غلاظت اور تعفن پھیل گیا۔ جب نالی کھولی گئی تو وہی مشہور جوتے برآمد ہوئے۔ ابو بخیل کو دوبارہ قید اور مرمت کے اخراجات بھرنے پڑے۔
ابو بخیل جب جیل سے نکلا تو اس نے ان جوتوں کو دھو کر رسی سے باندھا خشک ہونے کے لیے اپنی چھت پر رکھ دیا۔ وہاں سے انھیں ایک چیل کھانے کی چیز سمجھ کر انھیں لےاڑی ،کچھ دیر بعد یہ چیل کی چونچ سے نکل کر گلی میں گزرنے والے ایک راہگیر کے سر پر جا گرے۔ اس حادثے میں راہگیر زخمی ہوا اور ابوبخیل کو علاج اور دلجوئی کے لیے اپنی بقیہ تمام جمع پونجی لٹانی پڑی۔
آخرکار تنگ آ کر ابو بخیل اپنے ان پرانے جوتوں کو اٹھا کر قاضی کی عدالت میں پیش ہوا۔ اس نے روتے ہوئے التجا کی کہ ایک
کہ ایک سرکاری دستاویز لکھ دی جائے کہ میرا ان جوتوں سے اب کوئی تعلق نہیں۔ قاضی اس کی عجیب و غریب داستان سن کر ہنس پڑا اور اسے کچھ مالی امداد دے کر رخصت کر دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner